دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 3 | فتاوی رضویہ جلد ۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۳

صرح فی التجنیس ان من التفریع علی غلبۃ الاجزاء  قول الجرجانی  اذا طرح  الزاج  فی  الماء جاز  الوضوء  ان کان  لاینقش اذا کتب  والا فالماء  ھو المغلوب [1] اھ

فان قلت ای نظر ھھنا الی الاجزاء حتی یسمی غلبۃ من حیث الاجزاء اقول بلالی لابدلصلاحیۃ النقش اوالصبغ بازاء قدرمعلوم من الزاج والعفص او الزعفران والعصفرقدرمخصوص من الماء حتی لو طرح فیہ اقل من القدر اوھذا القدر فی اکثر منہ لم ینقش ولم                                        

تجنیس میں تصریح کی ہے کہ غلبہ اجزاء کی ایك تفریع جرجانی صاحب کا یہ قول ہے کہ جب پانی میں زاج (سیاہی) ڈالی جائے تو اگر لکھائی میں اس سے نقوش ظاہر نہ ہوں تو  وضو جائز ہے ورنہ پانی مغلوب ہوگا اھ

اگر تو اعتراض کرے یہاں اجزاء کا اعتبار کیسے ہوا جس کی بنا پر یہ کہا جائے کہ یہ اجزاء کے لحاظ سے غلبہ ہے ،

(تو میں اس کے جواب میں) کہتا ہوں کہ کتابت میں نقوش ظاہر ہونے کی صلاحیت زاج ، عفص ، زعفران اور عصفر کی ایك خاص مقدار پانی میں ملانے سے حاصل ہوتی ہے اگر اس مقدار سے کم پانی میں ملائی جائے یا اتنی مقدار زیادہ پانی میں ملادی جائے تو کتابت میں رنگ ونقوش

یصبغ فکانت اجزاؤھا مغلوبۃ بالماء اذلم تعمل فیہ بخلاف ما اذاصلح فقد غلبتہ اذغیرتہ۔

ظاہر نہ ہوں گے لہٰذا پانی غالب ہوگا اور اگر ان مذکورہ چیزوں کے ملانے سے کتابت کا عمل درست ہوجائے تو معلوم ہوگا کہ پانی مغلوب ہے اور ان مذکورہ چیزوں کے اجزا غالب ہوگئے۔ (ت)

 

بحث سوم : ان میں کس معنی کو ترجیح ہے اقول ان میں تنافی نہیں دوشاب خرما کہ پانی میں برابر سے زیادہ ممتزج ہو وہاں کثرت اجزا اور زوال طبع وزوال اسم سب کچھ ہے پھر زوال اسم ان دونوں اور ان کے غیر کو بھی شامل ظاہر ہے کہ رقت نہ رہے تو پانی نہ کہلائے گا کیچڑ کو کوئی پانی نہیں کہتا اور اگر جنس دیگر برابر یا زائد مل جائے تو ارتفاع نام اظہر ہے کماتقدم قبیل الاضافات وفی نمرۃ ۲۶۲ (جیسا کہ اضافات کی بحث سے ذرا پہلے اور نمبر ۲۶۲ میں گزرا۔ ت) تو اس کا اعتبار عــہ  دونوں سے مغنی اور سب صورتوں کو جامع تو قول امام ابویوسف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمیں اسی کا ارادہ الیق وانسب کہ محیط صور وضابطہ کلیہ ہو تعریف مطلق میں کہ چار سبب منع بیان ہوئے تھے سب اس میں آگئے ولہٰذا امام زیلعی نے فرمایا زوال الاسم ھو المعتبر فی الباب(نام کا ختم ہوجانا ہی اس بارے میں معتبر ہے۔ ت) حلیہ سے آتا ہے کہ یہی تمام اقوال کا مرجع ہے ولله الحمد وصلی الله تعالٰی علی سیدنا محمد واٰلہ وصحبہ وسلم۔

طبخ باغیر یہاں دو بحثیں ہیں :

بحث اول : طبخ کی حقیقت اور یہ کہ اُس کے صدق کو کیا کیا درکار اقول : وبالله  التوفیق اسی میں چند امور کا لحاظ ضرور :

عــہ اقول :  وبہ (۱)ظھران قصرالتفسیرعلی کثرۃ الاجزاء کماتوھمہ عبارۃ الغنیۃ ومجمع الانھر والجوھرۃ (۲)وغیرھا اوعلی زوال الطبع کماتوھمہ عبارۃ المنبع وغیرھا لیس کماینبغی وعلی ھذا یحمل مافعل فی العنایۃ والبنایۃ وغیرھما من التفسیر مرۃ بھذا ومرۃ بذاك ۱۲ منہ غفرلہ۔  (م)

میں کہتا ہوں کہ غلبہ کی تفسیر میں صرف کثرۃ الاجزاء کو ذکر کرنا جیسا کہ غنیہ ، مجمع الانہر اور جوہرۃ وغیرہ کی عبارات سے وہم ہوتا ہے یا صرف زوالِ طبع کو سمجھنا جیسا کہ منبع وغیرہ کی عبارت سے وہم ہوسکتا ہے ، درست نہیں ہے بنایہ اور عنایہ میں غلبہ کی تفسیر کبھی یوں اور کبھی یوں کی گئے ہے (کہ غلبہ کی مواقع کے لحاظ سے تفاسیر مختلف ہیں) اس کی یہی وجہ ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)

(۱) تنہا پانی کا جوش دینا پکانا نہیں کہا جاتا جب تك اُس میں کوئی اور چیز نہ ڈالی جائے سادات ثلثہ ابو السعود ازہری علی مسکین پھر طحطاوی پھر شامی میں ہے :

الطبخ یشعر بالخلط والا فمجرد تسخین الماء بدون خلط لایسمی طبخا [2] اھ زاد الشامی ای لان الطبخ ھو الانضاج استواء عــہ  قاموس [3] اھ

ای ومعلوم ان الماء لاینضج اقول :  وعلیہ                                                                         

کہ پکنا ، خلط کرنے سے عبارت ہے اگر صرف پانی گرم کیا جائے اور اس میں کسی چیز کا خلط نہ ہو تو اس کو پکنا نہیں کہیں گے اھ اس پر شامی نے یہ زیادہ کیا اور کہا “ پکنا مکمل طور پر پك کر اور بھُن کر تیار ہونے کو کہتے ہیں “ قاموس

 

عــہ اقول :  (۱) فھمہ رحمہ الله تعالٰی بالسین المہملۃ فاقتصرعلیہ وصوابہ بالمعجمۃ وتمامہ واقتدارا کمافی القاموس فالاشتواء الشیُّ ومنہ الشواء ویکون بلاماء والاقتدار من القدر بالکسر ای الطبخ فی القدر قال فی القاموس القدار الطابخ فی القدر کالمقتدر[4] قال فی تاج العروس یقال اقتدر وقدر مثل طبخ واطبخ ومنہ قولھم اتقتدرون ام تشتوون[5] اھ ومعنی النضج ھو الادراك کما فی القاموس ویؤدی مؤداہ الاستواء بالمھملۃ فلذا ذھب الیہ وھلہ رحمہ الله تعالی ولم یعد نظرہ الی قولہ واقتدارا  منہ غفرلہ۔  (م)        

میں کہتا ہوں کہ علامہ شامی نے “ استواء “ کو “ س “ مہملہ سے سمجھا لہٰذا یوں بیان کردیا اور صحیح یہ ہے کہ یہ ش معجمہ کے ساتھ “ اشتواء “ ہے اور قاموس میں مکمل یوں ہے “ اشتواءًواقتدارً ہے ، الاشتواء ، الشی اور اسی سے الشواء ہے بغیر پانی بھُنی ہوئے چیز کو کہتے ہیں۔ الاقتدار ، قِدر کسرہ کی ساتھ ہے جس کا معنی ہانڈی میں پکانا ہے ، قاموس میں بیان ہے القدّار ہانڈی میں پکانے والا ، جیسے کہ المقتدر کایہی معنی ہے۔ تاج العروس میں ہے اِقتدر اور قَدّر ، طَبَخ اور اطّبخ کی طرح ہے۔ اسی لفظ سے عرب کہتے ہیں اتقتدرون ام تشتوون یعنی ہانڈی میں پکاؤ گے یا خشك بھُونو گے اھ اور النضج کا معنیٰ “ تیار ہونا “ ہے جیسا کہ قاموس میں ہے الاستواء (س مہملہ) بھی یہی معنی دیتا ہے اس لئے علامہ شامی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکا خیال “ الاستوا “ کی طرف گیااور انہوں نے بعد والے لفظ اقتدارًا کی طرف توجہ نہ فرمائی ۱۲ منہ غفرلہ (ت)

قول الوقایۃ والنقایۃ والوافی والکنز والملتقی والغرر والتنویر ونور الایضاح وکثیرین لایحصون اذاقتصروا علی ذکر الطبخ ولم یقیدوا بکونہ مع غیرہ لانہ قد انفہم من نفس اللفظ فمن التجرید لاجل التوضیح قول الاصلاح اوتغیر بالطبخ معہ والھدایۃ فان تغیر بالطبخ بعد ماخلط بہ غیرہ (۱) وبہ یضعف مافی العنایۃ والبنایۃ انما قید بہ ای بالخلط لان الماء اذاطبخ وحدہ وتغیر جاز  الوضوء بہ [6]  اھ ومافی الحموی علی قول مسکین ای تغیر بسبب الطبخ بخلط طاھرالخ انہ اشاربھذہ الزیادۃ الی اصلاح کلام المصنف لان مجرد الطبخ دون الخلط لایکون مانعا [7] اھ وقدتعقبہ السید الازھری بمامرفاصاب والله تعالٰی اعلم بالصواب۔               

اھ یعنی یہ بات معلوم ہے کہ پانی بھُن کرتیار نہیں ہوتا ، میں کہتا ہوں اسی بنیاد پر وقایہ ، نقایہ ، وافی ، کنز ، ملتقیٰ ، غرر ، تنویر ، نورالایضاح اور بے شمار لوگوں نے صرف طبخ کو ذکر کرکے یہی معنی مراد لیا ہے جبکہ اس کے ساتھ کسی دوسری چیز کے پکنے کا ذکر نہ کیا ، کیونکہ خود لفظ سے یہ معنی سمجھ آتا ہے ، اور اصلاح کے قول تغیر بالطبخ معہ(دوسری چیز کے ساتھ پك کر متغیر ہوجائے) اور ہدایہ کے قول ، غیر کے ساتھ مل کر پکے اور متغیر ہوجائے (جہاں طبخ ذکر کرنے کے باوجود اس کے ساتھ



[1]   بحرالرائق  کتاب الطہارۃ  ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۶۹   

[2]   فتح المعین  اکل الطعام المتغیر  ایچ ایم سعید کمپنی کراچی  ۱ / ۶۳

[3]   ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر  ۱ / ۱۴۵

[4]   القاموس المحیط باب الربوا فصل القاف مصطفے البانی مصر  ۱ / ۱۱۸

[5]   تاج العروس بیروت ۳ / ۴۸۳

[6]$&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن