30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اجزاء کی طرف منسوب کیا ، کُل کی طرف کیوں منسوب نہیں کیا؟ تو میں جواب دیتا ہوں کہ چونکہ گاڑھا اور غلیظ ہونا اجزاء کی طرف منسوب ہے لہٰذا اس کی ضد (رقیق ہونا) بھی اجزاءکی طرف منسوب ہوگا (جبکہ رقت ہی پانی کی طبیعت ہے)۔ (ت)
وقایہ واصلاح سے گزرا :
لابماء زال طبعہ بغلبۃ غیرہ اجزاء[1]۔
غیر کے اجزاء کے غلبہ کی وجہ سے جس پانی کی طبع زائلٍ ہوچکی ہے اس سے وضو جائز نہیں (ت)
دونوں شرحوں سے گزرا :
ھو الرقۃ والسیلان [2]
(طبع رقت وسیلان ہے۔ ت)
۰۷ میں حلیہ وتتمہ وذخیرہ سے گزرا :
الغلبۃ من حیث الاجزاء بحیث تسلب رقۃ الماء [3]
(غیر کا اجزاء کےلحاظ سے ایسا غلبہ جس سے رقّت ختم ہوجائے۔ ت)
شلبیہ میں منبع سے ہے :
المراد بغلبۃ الاجزاء ان تخرجہ عن صفۃ الاصلیۃ بان یثخن لاالغلبۃ باعتبار الوزن [4]۔
اجزاء کے اعتبار سے غلبہ کا مطلب یہ ہے کہ وہ پانی کو صفت اصلیہ سے نکال دے کہ وہ گاڑھا ہوجائے نہ کہ وزن میں غلبہ ہوجائے۔ (ت)
ارکان اربعہ میں ہے :
الغلبۃ بالاجزاء بان تذھب رقۃ الماء [5]۔
اجزاء کا غلبہ یہ ہے کہ اس کی وجہ سے پانی کی رقت ختم ہوجائے۔ (ت)
عنایہ وبنایہ میں ہے :
الخلط یعتبر فیہ الغلبۃ بالاجزاء فان کانت اجزاء الماء غالبۃ ویعلم ذلك بقائہ علی رقتہ جاز الوضوء بہ وانکانت اجزاء المخلوط غالبۃ بان صار ثخینا زال عنہ رقتہ الاصلیۃ لم یجز اھ [6]۔
پانی میں مخلوط چیز کا غلبہ یہ ہے کہ اس کے اجزا غالب ہوں اگر پانی کے اجزاء کا غلبہ ہو جو پانی کی رقت سے معلوم ہوتا ہے تو وضو جائز ہے ورنہ اگر ملنے والی چیز کے اجزاء کا غلبہ ہوجو پانی کے گاڑھا ہونے سے معلوم ہوتا ہے جبکہ پانی کی رقتِ اصلیہ ختم ہوجائے تو وضو ناجائز ہے اھ (ت)
اقول : لکن الاکمل ذکربعدہ فی تصحیح قول الثانی ماتقدم فی البحث الاول ان وجود المرکب باجزائہ فاعتبارھااولی فھذایمیل الی ان المرادکثرۃ الاجزاء کماافصح بہ فی مجمع الانھرلان الترکب منھا لامن طبائعھاوانما الطبع وصف لازم فان اعتبرت من حیث اوصافھالم یتم نفی قول الامام الثالث فان فرق باللازم والعارض فعلی تمامیتہ ھوبحث اٰخر غیرالترجیح بان ھذہ حقیقیۃ ذاتیۃ وتلك مجازیۃ عرضیۃ ھذاوقال فی البحر ذکر الحدادی ان غلبۃ الاجزاء فی الجامد تکون بالثلث وفی المائع بالنصف [7] اھ قال عبدالحلیم لعلہ امتحنہ فوجدہ یصیر مغلوبابالقدرالمذکور فعینہ کماشرح المقدسی [8] اھ
اقول : ملحظہ الی ماوفق بہ فی البحربین ھذین القولین بانہ ان کان المخالط جامدا فغلبۃ الاجزاء فیہ بثخونتہ وان کان مائعا موافقا للماء فغلبۃ الاجزاء فیہ
میں کہتا ہوں مگر اس کے بعد اکمل نے دوسرے قول کی تصحیح میں ذکر کیاہے جو پہلے بحث اول میں گزر چکا ہے کہ مرکب کا وجود اس کے اجزاء سے حاصل ہوتاہے لہٰذا غلبہ میں اجزاء کا اعتبار بہتر ہے ، اس سے غلبہ میں کثرت اجزاء کا اعتبار بہتر ہے ، اس سے غلبہ میں کثرتِ اجزاء کا رُجحان پایاجاتاہے ، جیسا کہ مجمع الانہر میں اس کو بیان کیا ہے ، کیونکہ ترکیب اجزا سے حاصل ہوتی ہے نہ کہ طبع سے طبع تو ایك وصف اس کو لازم ہے اگر اوصاف کے لحاظ سے غلبہ کااعتبار کیاجائے تو امام محمد کے قول کی نفی تام نہ ہوگی(جو کہ رنگ ، بُو اور ذائقہ جیسے اوصاف سے غلبہ کا اعتبار کرتے ہیں)اگر طبع اور دیگر اوصاف میں یہ فرق کیا جائے کہ طبع پانی کیلئے وصف لازم اور رنگ وغیرہ وصف عارض ہیں تو یہ ترجیح سے ہٹ کر ایك نئی بحث ہوجائے گی کہ طبیعت پانی کی حقیقۃ ذاتیہ ہے اور دوسرے اوصاف مجازی اور عرضی ہیں ، اس کو محفوظ کرو ، اور بحر میں یہ ذکر ہے کہ حدادی نے کہا ہے کہ جامد میں اجزاء کا غلبہ ایك تہائی سے ہوجاتا ہے اور بہنے والی چیز کا پانی میں غلبہ نصف (مساوی) سے ہوجاتا ہے اھ اس پر عبدالحلیم نے کہا ہوسکتا ہے کہ شاید انہوں نے تجربہ کیا ہو اور جامد کی مذکورہ مقدار کے ملنے پر پانی مغلوب ہوا ہو اس لئے انہوں (حدادی) نے اس ایك تہائی کو مقرر کردیا جیسا کہ مقدسی کی شرح میں ہے اھ۔ (ت)
میں کہتا ہوں اس کا خلاصہ یہ ہے جو بحر میں ان دونوں قولوں میں موافقت پیدا کرتے ہوئے کہا کہ پانی میں ملنے والی چیز جامد ہو تو پھر اس کے اجزا کے غلبہ کا مطلب پانی کا گاڑھا ہونا ہے اور وہ چیز
بالقدر [9] اھ وکانہ رأی ان الثخن لایحصل مالم یکن الجامد نصف الماء فقدرہ بالثلث والله تعالٰی اعلم ۔
اقول : تقییدہ بالموافقۃ لاتباع الضابطۃ (۱) ولاتنس ماقدمناان الرقۃ ربماتزول بامتزاج مائع ایضااذاکان ذاجرم فالتوزیع غیرمسلم وبہ ظھرماقدمنا تحت قول الجوھرۃ۔
بہنے والی پانی کے موافق ہو تو اس کے غلبہ کا مطلب اس کی مقدار کا غلبہ ہے اھ گویا کہ حدادی نے یہ سمجھا کہ جب پانی میں جامد نصف برابر ہونے پر پانی مکمل گاڑھا ہوجاتا ہے تو ایك تہائی سے ضرور غلبہ ہوجاتا ہے ، والله تعالٰی اعلم۔ (ت)میں کہتا ہوں کہ بحر کا یہ کہنا بہنے والی چیز پانی کے موافق ہو محض ضابطہ کے لحاظ سے ہے ، یہ بات نہ بھُولنا کہ ہم پہلے ذکر کرچکے ہیں کہ کبھی پانی کی رقت ایسے مائع (بہنے والی) سے زائل ہوجاتی ہے جو جِرم والی ہو ، لہٰذا بحر کی مذکورہ تقسیم غیر مسلّم ہے اسی سے وہ بات واضح ہوگئی جو ہم نے جوہرہ کے قول کے تحت کہی تھی۔ (ت)
زوال اسم سے تفسیر ، ۱۲۲ میں فتح وحلیہ سے گزرا :
[1] شرح وقایہ فیما یجوزبہ الوضو رشیدیہ دہلی ۱ / ۸۵
[2] شرح وقایہ فیما یجوزبہ الوضو رشیدیہ دہلی ۱ / ۸۵
[3] حلیہ
[4] شلبیہ علی التبیین کتاب الطہارۃ الامیریہ مصر ۱ / ۲۰
[5] رسائل الارکان فصل المیاہ یوسف فرنگی محلی لکھنؤ ص۲۴
[6] العنایۃ مع الفتح الماء الذی یجوزبہ الوضوء نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۶۴
[7] بحرالرائق کتاب الطہارت سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۰
[8] حاشیۃ الدرر للمولیٰ عبدالحلیم فرض الوضو مکتبہ عثمانیہ مصر ۱ / ۱۸
[9] بحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۶۹
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع