دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 3 | فتاوی رضویہ جلد ۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۳

ثانیًا : ایك صاف بات ہے مستعمل نہ ہوگامگر مطہر کہ جب یہ دوسرے سے رفع نجاست حکمیہ کرتاہے وہ اس سے منتقل ہوکر اس میں آجاتی ہے لہٰذا دوبارہ تطہیر کے قابل نہیں رہتا اور جومطہر ہے وقتِ تطہیر اس کا وجود لازم کہ مطہر مفید طہارت ہے نہ کہ مُعِد اور تیمم معہود میں وقت مسح وجہ وذراعین تراب حقیقی کاوجود لازم نہیں ، توثابت ہواکہ تیمم معہود میں تراب حقیقی مطہر نہیں اور جب مطہر نہیں تومستعمل بھی نہیں ہوسکتی وھوالمطلوب(اور یہی مطلوب ہے۔ ت) اگرکہئے تیمم غیرمعہود میں تو تراب حقیقی ہی مطہر ہے ، چاہئے وہاں مستعمل ہوجائے۔

اقول :  ہم نے یہ کہاتھا کہ ہرمستعمل ہوجانے والے کا مطہر ہونا ضرور نہ یہ کہ ہرمطہر کامستعمل ہونالازم یہ کلماتِ علما جن سے شبہ گزرتاہے تیمم معہود ہی میں تھے اس میں ہم نے مبرہن کردیا کہ تراب حقیقی ہرگز مرادنہیں بالجملہ ان کلمات کا۔

اولًا : نفیس وصحیح وصریح و رجیح محمل تویہی ہے کہ مراد تراب حکمی ہے۔
ثانیا : ممکن کہ کلام تنزل پرمبنی ہو جس طرح فاضلین برجندی و رومی نے واضح کیا۔

ثالثا : ممکن کہ استعمال سے مراد استعمال حقیقی ہو جیسا علامہ سعدی افندی نے عبارات اولٰی میں افادہ فرمایا یعنی ضرب سے جنس ارض مستعمل نہ ہونے پراستدلال مقصود ہے وہ نفی لازم سے ادافرمایا گیا کہ استعمال حکمی کو استعمال حقیقی لازم توفرماتے ہیں کہ یہ کیونکر مستعمل ہوحالانکہ حقیقۃً مستعمل نہیں حقیقۃً استعمال تواسی مٹّی کاہے جوہاتھوں میں لگی۔

رابعًا : کم ازکم یہ عبارات موردِ احتمالات ہیں اور وہ نصوص کہ ہم نے ذکر کیے ، صریح توانہیں پرتعویل لازم۔

خامسًا : یہ دلیل ۱ کی تقریر میں ہیں جومذہب منقول نہیں اور وہ نصوص خاص مسائل کے احکام ہیں خصوصًا وہ بھی اس طرح کہ مذہب حنفی میں مٹّی حکم استعمال نہیں پاتی اس میں خلاف امام شافعی کو ہے توبحمدہٖ تعالٰی آفتاب کی طرح روشن ہوا کہ جنس ارض تیمم سے اصلًا مستعمل نہیں ہوتی نہ وہ جس پرضرب کی نہ وہ کہ اعضا پر مسح کی گئی۔

ھکذا ینبغی التحقیق والله سبحٰنہ ولی التوفیق وبہ ظھران الصواب مع العلامۃ ط فی نفی الاستعمال عن التراب علی الاطلاق والرد(۲)

علیہ من العلامۃ ش حیث قال انما المستعمل ماینفصل عن العضو بعد المسح شرح المنیۃ                       

اسی طرح تحقیق ہونی چاہئے اور خدائے پاك ہی مالك توفیق ہے۔ ۔ ۔ ۔ اس تحقیق سے یہ بھی عیاں ہوگیا کہ مٹّی سے مطلقًا استعمال کی نفی میں علامہ طحطاوی درستی پر ہیں۔ اس پر علامہ شامی نے یہ لکھا ہے “ کہ مستعمل وہ مٹّی ہے جو مسح کے بعد عضو سے جدا ہو ، شرح منیہ۔

ونحوہ ماقدمناہ عن النہر وھوالمذکور فی الحلیۃ فافھم [1] اھ اشاربہ کعادتہ کمانبہ علیہ فی خطبتہ الی الرد علی السیّد ط غیرسدید بل یجب ارجاع مافی الحلیۃ والغنیۃ والنھرالی مایوافق ماذکرالسید لانہ المنصوص علیہ فی المذھب والله سبحنہ وتعالی اعلم وصلی الله تعالٰی علٰی سیدنا ومولٰینا محمد واٰلہ وصحبہ وابنہ وحزبہ وبارك وسلم اٰمین والحمدلله ربّ العٰلمین۔  

اسی کے ہم معنی وہ بھی ہے جونہر سے ہم نے پہلے ذکرکیا اور یہی حلیہ میں بھی مذکور ہے ، فافہم۔ توسمجھنا چاہئے “ اھ۔ اس کلام سے حسب عادت انہوں نے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جیسا کہ اپنے خطبہ میں تنبیہ کی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سیّد طحطاوی کے رَد کی طرف اشارہ کیاہے مگر یہ تردید صحیح نہیں بلکہ لازم ہے کہ حلیہ ، غنیّہ اور نہر کی عبارتوں کی وہ تاویل کی جائے جوبیانِ سیّد طحطاوی کے موافق ہو اس لیے کہ مذہب میں وہی منصوص ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور خدائے پاك وبرتر خوب جانتاہے۔ اور الله تعالٰی رحمت فرمائے ہمارے آقاومولٰی محمد اور ان کی آل ، اصحاب ، فرزند اور گروہ پر اور برکت وسلامتی بھی۔ ۔ ۔ ۔ اور ساری خوبیاں سارے جہانوں کے مالك خداہی کے لیے ہیں۔ (ت)

(رسالہ ضمنیہ الجد السدید ختم ہوا)

۱۱۴سوال سوم :

 مسجد کی دیوار سے تیمم جائز ہے یانہیں ، کچھ ورق بنام فتاوٰی رشیدیہ یعنی جوابات رشید احمدگنگوہی چھپے ہیں جن کی فہرست کاشروع کتاب الکفرسے ہے اس کے صفحہ ۶۷ پراس سوال کے جواب میں لکھا : تیمم دیوارِ مسجد سے کرنے کو بعض کتب فقہ میں مکروہ لکھا ہے فقط آیا یہ جواب صحیح ہے یاغلط ، اور کون سی کتاب فقہ میں اسے مکروہ لکھا ہے بیّنوا توجروا۔

الجواب :

تحریر مذکور صواب سے بیگانہ فقاہت سے برکرانہ محض بے بنیاد کورانہ ہے مذہب حنفی میں اس کی کچھ اصل نہیں نہ کسی کتاب معتمد سے اس کی کراہت مستبین نہ ایسی نقل مجہول کسی طرح قابل قبول نہ ایسا ناقل التفات کے قابل نہ اس پرشرع سے کوئی دلیل اور قول بے دلیل مردودوذلیل بلکہ کتب معتمدہ سے اس کابطلان روشن جن سے گرنہ بیندبہ بروزپردہ برافگن تیمم میں دو۲ضربیں ہوتی ہیں اس بیان میں ہم دو۲ہی ضرب پراکتفاکریں۔

ضرب اول : زعم مذکور کابے اصل وبے دلیل ہونا یہ توبدیہی ۱ کہ بعض کتب کوئی سند نہیں۔ نہیں معلوم کیسی کتاب کس کی کتاب اسکی کیا ۲ عبارت کیا مفاد۔ ناقل نے کیاسمجھا کیامراد۔ خود ناقل کوبھی اس پرجزم نہ اعتماد۔ کہ طرزبیان سے تبرّی عہدہ مستفاد۔ بعض۳ کتب میں رطب ویابس سب کچھ ہوتاہے اگرناقل کے نزدیك وہ کتاب اور اس کاوہ حکم لائق اعتماد ہوتاسائل کوحکم بتاتا جس طرح اسی جواب میں مسجد کے اندر وضو کوبتایاہے کہ حنفیہ کے نزدیك منع اور گناہ ہے اس کے متصل ہی یہ الفاظ ہیں یہاں یہ نہ کہا کہ مکروہ ہے بلکہ یہ کہ بعض کتب میں مکروہ لکھا اس کی بے اصلی کااتناہی بیان بس ہے۔ رہا بے دلیل۴ ہونا  ہونا اگریہاں شبہہ گزرسکتاتھا تودوہی وجہ سے : یکم پانی پرقیاس اور وہ محض جہل وسواس۔

اولًا :  ہم ثابت کرآئے کہ تیمم سے جنس ارض اصلًا مستعمل نہیں ہوتی بخلاف آب ، اور آب مستعمل اگر چہ مذہب صحیح میں طاہر ہے مگر قَذِرْ ہے یعنی گھِن کی چیز اور ۵  مسجد کو ایسی اشیا سے بچانا واجب جیسے لعابِ دہن وآب بینی۔

ثانیًا :  اگر بفرض غلط تسلیم کریں کہ مٹّی زمین او رہاتھوں پرمسح ہوکر چھوٹتے ہی مستعمل ہوجاتی ہے تو آج کل عامہ مساجد کی دیواریں پختہ وگچ کردہ ہیں اور اگرکوئی کچی بھی ہے توکہگل کی ہوئی یاصاف لسی ہوئی ان میں یہ مٹّی کہاں تو اُن کی دیواروں پرتیمم کیوں مکروہ؟

 



[1]   ردالمحتار باب التیمم مطبع مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۸۶

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن