30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اسی کے مثل بزازیہ و مراقی الفلاح میں ہے اول نے فرمایا :
التیمّم بموضع تیمّم بہ اٰخریجوز لانہ لم یرفع مستعمل الاول[1]۔
ایسی جگہ سے تیمم جائز ہے جہاں سے کوئی اور تیمم کرچکا ہو اس لیے کہ اس نے پہلے کی استعمال کی ہوئی مٹّی نہ اٹھائی۔ (ت)
اور ثانی نے :
لعدم صیرورتہ مستعملالان التیمّم بمافی الید[2]۔
اس لیے کہ وہ مستعمل نہ ہوئی اس لیے کہ تیمم اس سے ہوا جوہاتھ میں لگی۔ (ت)
(۲) اور محیط و بحر کے مثل شامی میں نہر سے ہے کہ :
لم یصر مستعملا اذ التیمم انما یتأدی بما التزق بیدہ لابما[3] فضل عــہ ۔
مستعمل نہ ہوئی اس لیے کہ تیمم اس سے اداہوتاہے جوہاتھ میں لگی ہوئی ہو ، اس سے نہیں جوبچی ہوئی ہے۔ (ت)
(۳) اور بدائع کے مثل حلیہ اور اسی طرح شلبیہ میں ولوالجیہ سے ہے کہ :
التراب المستعمل ماالتزق بید المتیمّم الاول لامابقی علی الارض[4]۔
مستعمل مٹی وہ ہے جو پہلے تیمم کرنے والے کے ہاتھ میں لگی ہو وہ نہیں جو زمین پربچ رہی۔ (ت)
اخیرکے لفظ میں :
جازلان التراب لایصیر مستعملا لان المستعمل ماالتزق بیدیہ وھو کفضل
جائز ہے اس لیے کہ مٹّی مستعمل نہیں ہوئی کیونکہ مستعمل تووہ ہے جوہاتھوں میں لگی ہو اور یہ اس
عــہ تمامہ فیہ واذاکان علی حجر املس فیجوز بالاولی[5] اھ وکتبت علیہ اقول : انما(۱) یزید الاملس بان لیس فیہ مایلتزق بالید ولایوجب ذلك اولویتہ بالجواز فان المضروب علیہ الید اذن سواء فی الحکم ارضاکان اوحجراوانفصال شیئ منھا لامنہ لایوجب تفاوتھما فی ھذاوان تفاوتا فی ان شیئا من اجزائھا مستعمل وھوالملتزق بالید لامن اجزائہ ۱۲منہ غفرلہ(م)
اس میں پوری عبارت یہ ہے : اور جب چکنے پتھر پرہو توبدرجہ اولٰی جائز ہے اھ اس پر میں نے یہ لکھا اقول : چِکنے پتھر میں یہ بات بڑھی ہوئی ہے ، کہ اس میں ایسی کوئی چیز نہیں جوہاتھ میں چپکے۔ یہ بات اس کے بدرجہ اولٰی جواز کی موجبِ نہیں۔ اس لیے کہ جس پرہاتھ ماراجائے اس وقت دونوں ہی کاحکم یکساں ہے زمین ہو یاپتھر۔ زمین سے کچھ جداہونا اور پتھر سے کچھ جدانہ ہونااس حکم میں ان دونوں کا تفاوت لازم نہیں آتا اگرچہ دونوں کااس امر میں تفاوت ہے کہ زمین کے اجزا سے کچھ استعمال میں آتاہے اوریہ وہ ہے جو ہاتھ سے چپك گیااور پتھر کے اجزا سے کچھ استعمال میں نہیں آتا۔ ۱۲منہ غفرلہ(ت)
مافی الاناء[6]۔
پانی کی طرح ہے جوبرتن میں بچ رہا۔ (ت)
(۴) علامہ ابراہیم حلبی نے دیکھا کہ مٹّی کاہاتھوں میں لگنایاچہرہ ودست پرمسح کیاجانا موجبِ استعمال نہیں ہوسکتا جیسے پانی کہ جب تك بعد استعمال عضو سے انفصال نہ ہو مستعمل نہ ہوگا لہٰذا قید انفصال زائدکی کہ :
جاز لانہ لم یصرمستعملا انما المستعمل ما ینفصل عن العضو بعد المسح قیاسا علی الماء[7]۔
جائز ہے اس لیے کہ مٹّی مستعمل نہ ہوئی۔ مستعمل تو وہ ہے جو مسح کے بعد عضو سے جداہو ، یہ پانی پرقیاس کرتے ہوئے ہے۔ (ت)
شامی میں اسے نقل کرکے مقررکھا۔
اقول : یہی ہے وہ جسے فاضلین برجندی و رومی نے تنزل میں لیا اور یہی ہے وہ جسے امام قوام الدین کاکی و امام بدرالدین عینی نے صراحۃً فرمایا کہ مذہب حنفی میں اس سے تیمم جائز ہے امام شافعی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکوخلاف ہے بالجملہ ان عبارات کاتنوّع یوں آیا :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع