دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 3 | فتاوی رضویہ جلد ۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۳

پانی کے اجزاء کا غلبہ تب ہوگا جب پانی کے اجزاء اس میں ملنے والی چیز کے اجزا سے زیادہ ہوں (یعنی اگر پانی کے اجزاء مساوی ہوں تو پھر پانی مغلوب رہے گا)۔ (ت)

خزانۃ المفتین میں ہے :

العبرۃ فیہ بکثرۃ الاجزاء انکان اجزاء الماء اکثر یجوز التوضی بہ والافلا [1] اھ وھو قطعۃ من الضابطۃ الشیبانیۃ وستأتی ان شاء الله تعالٰی۔

غلبہ میں پانی کے اجزاء اس میں ملنے والی چیز کے اجزا کی کثرت کا لحاظ ہے اگر پانی کثیر ہو تو  وضو جائز ورنہ ناجائز ہے اھ یہ ضابطہ شیبانیہ کا ایك حصہ ہے عنقریب آئےگا اِن شاء الله  تعالٰی (ت)

مجمع الانہر میں ہے :

غلبۃ غیرہ بان تکون اجزاء المخالط ازیدمن اجزاء الماء وھو قول ابی یوسف لانہ غلبۃ حقیقۃ لرجوعھا الی الذات بخلاف الغلبۃ باللون فانھا راجعۃ الیغیر

کے غلبہ کا مطلب یہ ہے کہ پانی میں ملنے والی چیز پانی سے زائد ہو ، یہ امام ابویوسف کا قول ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اصل غلبہ وہی ہے جس کا تعلق ذات سے ہو اور اس کے خلاف رنگ کے غلبہ کا تعلق وصف سے

الوصف ومحمد اعتبر الغلبۃ باللون فی الصحیح عنہ لان اللون مشاھد[2]۔

ہوتا ہے ، امام محمد نے اس کا اعتبار اس لئے کیا کہ وہ نظر آتا ہے۔ (ت)

یہی مضمون ابھی عنایہ سے گزرا ، حلیہ میں بحوالہ زاہدی زادالفقہا سے نیز بنایہ میں ہے :

تعتبر الغلبۃ فی الاجزاء فان کان اجزاء الماء اکثر یجوز  والا لا [3]۔

غلبہ میں اجزا کا اعتبار ہے اگر پانی کے اجزا غالب ہوں تو وضو جائز ورنہ نہیں۔ (ت)

جوہرہ نیرہ میں ہے :

الاصح ان المعتبر بالاجزاء وھو ان المخالط اذا کان مائعا فمادون النصف جائز فان کان النصف اواکثر لایجوز [4] اھ۔

اقول :  اراد بالمخالط الممازج وستعرف ان المائع غیر مقصورعلی الحکم وان کان الحکم مقصور علی المائع۔                                     صحیح ترین یہ ہے کہ غلبہ میں اجزاء کا اعتبار ہے اگر پانی میں ملنے والی چیز بہنے والی ہو تو اگر وہ نصف سے کم ہو تو اس پانی سے وضو جائز ہے اور اگر وہ ملنے والی چیز برابر ہو یا پانی سے زیادہ ہو تو پھر وضو جائز نہیں۔ (ت)

میں کہتا ہوں پانی میں مخلوط چیز سے مراد وہ صورت ہے جب اس کے اور پانی کے اجزاء آپس میں ممتاز نہ رہیں ، اور آپ کو عنقریب معلوم ہوگا کہ ہر بہنے والی چیز کا یہ حکم نہیں ہے اگرچہ یہ حکم صرف بہنے والی چیز میں پایا جاتا ہے۔ (ت)

نمبر ۲۶۲ میں بدائع سے گزرا :

تعتبر الغلبۃ فی الاجزاء فان استویا فی الاجزاء قالوا حکمہ حکم الماء المغلوب [5]۔

پانی کے غالب ہونے میں اس کے اجزاء کی کثرت کا اعتبار ہے اگر پانی کے اجزاء ملنے والی چیز کے مساوی ہوں تو اس پر فقہا نے فرمایا کہ ایسی صورت میں پانی مغلوب ہوگا۔ (ت)

اور اہلِ ضابطہ زیلعیہ عمومًا یہی کثرتِ اجزامراد لیتے ہیں نمبر ۱۱۵ میں مراقی الفلاح وابو السعود ومنحۃ الخالق سے گزرا : الغلبۃ بالوزن [6] (غلبہ وزن کے اعتبار سے ہوگا۔ ت)

غنیہ میں ہے :

المعتبر کون اجزاءہ اکثر من اجزاء الماء [7]۔

معتبر یہ ہے کہ ملنے والی چیز کے اجزاء پانی کے اجزاء سے زیادہ ہوں۔ (ت)

بحر وطحطاوی میں :

العبرۃ للاجزاء فان کان الماء اکثر جاز وان مغلوبالا [8]۔

اعتبار اجزاء کا ہے اگر پانی کے اجزاء زیادہ ہوں تو اس سے  وضو جائز ہے اور اگر پانی کے اجزاء مغلوب ہوں تو وضو جائز  ہیں۔ (ت)

درمختار میں :

بالاجزاء فان المطلق اکثر من النصف جاز والالا[9]۔

مطلق پانی کے اجزاء اگر نصف سے زیادہ ہوں تو وضو جائز ہے ورنہ نہیں۔ (ت)

زوالِ رقت سے اس کی تفسیر ،

اقول :  الرقۃ طبع الماء والطبع لازم الاجزاء وغلبۃ الملزوم تلزمھا غلبۃ اللازم فمغلوبیۃ الطبع تدل علی مغلوبیۃ الاجزاء ھذا ماظھرلی فی توجیہ ھذا التفسیرفافھم فلایخلو عن مقال فالاولی ان یقال تقیید لاتفسیرای المراد غلبۃ الاجزاء لامن حیث ذواتھا بل من حیث طبعھا ومقتضی ذاتھا فانقلت لم نسبت للاجزاء دون الکل اقول :  لما اعلمناك ان الثخن لتماسك فی الاجزاء والرقۃ لعدمہ۔                                  

میں کہتا ہوں رقت پانی کی طبیعت ہے اور طبع اجزا کو لازم ہے تو ملزوم کا غلبہ لازم کے غلبہ کو مستلزم ہے تو طبع (رقت) کی مغلوبیت ، اجزاء کی مغلوبیت پر دلالت کرے گی ، اس تفسیر میں مجھے یہ سمجھ آئی ہے ، غور کرو اس میں اعتراض ہے ، لہٰذا بہتر یہ ہے کہ اس کو تفسیر کی بجائے تقیید قرار دیا جائے ، یعنی یوں کہا جائے کہ غلبہ میں اعتبار تو اجزاء کاہوگا مگر اجزاء کی ذات کا لحاظ نہیں بلالکہ ان کی طبیعت کے لحاظ سے غلبہ معتبر ہوگا۔ اگر تو اعتراض کرے کہ تم نے اجزاء کی طبیعت کہہ کر طبیعت و



[1]   خزانۃ المفتین

[2]   مجمع الانہر  فصل تجوز الطہارۃ بالماء المطلق  مطبع عامرہ مصر  ۱ / ۱۸

[3]   بنایۃ باب الماء الذی یجوزبہ  الوضوء الخ  مطبع امدادیہ مکۃ المکرم  ۱ / ۱۹۲

[4]   جوہرۃ النیرۃ  کتاب الطہارۃ  مکتبہ امدادیہ ملتان  ۱ / ۱۴

[5]   بدائع الصنائع  الماء المقید ایچ ایم سعید کمپنی کراچی  ۱ / ۱۵

[6]   منحۃ الخالق علی البحر  الطہارت ، ایچ ایم سعید کمپنی کراچی  ۱ / ۶۹

[7]   غنیۃ المستملی  احکام المیاہ سہیل اکیڈمی لاہور  ص۹۱

[8]   بحرالرائق  کتاب الطہارۃ  سعید کمپنی کراچی  ۱ / ۶۹

[9]   درمختار باب المیاہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۴

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن