دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 3 | فتاوی رضویہ جلد ۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۳

ولہٰذا اگرمیّت۱ کوتیمم کرایایادوسرے شخص نے کسی زندہ کواور ایك بار دونوں ہتھیلیاں جنس ارض پرمار کرچہرہ پرپھیریں دوبارہ ضرب کرکے دونوں ہتھیلیوں سے اس کے ایك ہاتھ کو مسح کیا تودوسرے ہاتھ کے لیے تیسری ضرب کی حاجت ہے یہ وہ تیمم ہے کہ دوضربوں سے جائز نہ ہوگاولہٰذا ہم نے عدد سے مقید نہ کیا بلکہ جداجدااتصال کہا۔

وھذا ھو محمل مافی جامع الرموز عن العمان لویمم غیرہ یضرب ثلثا للوجہ والیمنی والیسری واقرہ فی الدر[1] ۱ھ قال ش العمان کتاب غریب عــہ والمشہور فی الکتب المتداولۃ الاطلاق وھو الموافق للحدیث الشریف التیمم ضربتان الاان یکون المراداذامسح یدالمریض بکلتایدیہ فحینئذ لاشبھۃ فی انہ یحتاج الٰی ضربۃ ثالثۃ یمسح بھا یدہ الاخری[2]۱ھ۔                                                                                                                                                                                 

یہی اس کابھی محمل ہے جو جامع الرموز میں عمان سے منقول : “ اگردوسرے کوتیمم کرایاتوچہرے ، داہنے ہاتھ اور بائیں ہاتھ کے لیے کل تین ضربیں لگائے گا۔ اسے درمختار میں برقراررکھا ۱ھ علامہ شامی نے فرمایا : “ عمان “ کوئی غیرمعروف کتاب ہے۔ متداول کتابوں میں مشہور یہی ہے کہ دو۲ضربوں کاحکم مطلقًا ہے۔ یہی حدیث شریف التیمّم ضربتان (تیمم دو۲ضربیں ہیں) کے مطابق بھی ہے۔ لیکن اگر یہ مراد ہو کہ مریض کے ہاتھ پر اپنے دونوں ہاتھوں سے مسح کیا تو ایسی صورت میں بلاشبہ اسے تیسری ضرب کی ضرورت ہوگی جس سے اس کے دوسرے ہاتھ کامسح کرے گا۱ھ “ ۔ (ت)

بستم : منہ اور کہنیوں کے اوپر ہرہاتھ ہم نے اور کہا پھر نہ کہا اس لیے کہ وضو کی طرح تیمم ۴ میں بھی ترتیب شرط نہیں کما فی البحر (جیسا کہ البحرالرائق میں ہے۔ ت) چاہے پہلے منہ کامسح کرے یاپہلے داہنے ہاتھ یا بائیں ہاتھ کایاسب اعضاء کاایك ساتھ ، جیسے بگولے وغیرہ سے تیمم میں گزرا۳  ہاں تیمم معہود میں ترتیب سنّت ہے جس طرح وضو میں کہ پہلے دونوں ہتھیلیوں سے چہرے کامسح ہو پھر بائیں ہتھیلی سے سیدھے ہاتھ کاپھر سیدھی سے بائیں کا۔

عــہ :  لم ارلہ ذکرا فی کشف الظنون ۱۲منہ (م)

کشف الظنون میں اس کاکوئی ذکر نہ ملا۔ ۱۲منہ (ت)

(۱) طریق مسنون کہ ابھی مذکورہوا۔

(۲) پہلی ضرب میں دونوں ہتھیلیوں سے چہرہ کااور دوسری ضرب میں پہلے بائیں ہاتھ پھر داہنے کا۔

(۳) پہلی ضرب میں د ہنی ہتھیلی سے منہ کا مسح کرے پھر بائیں سے داہنے ہاتھ کاپھر د ہنی ہتھیلی سے دوسری ضرب کرکے بائیں ہاتھ کا۔

(۴) اس کاعکس کہ پہلے بائیں ہتھیلی سے منہ کا پھر دہنی سے بائیں ہاتھ کاپھر بائیں سے دوسری ضرب کرکے دہنے کا۔
(
۵) پہلی ضرب میں بائیں ہتھیلی سے دہنے ہاتھ کاپھر د ہنی سے منہ کاپھر د ہنی کی دوسری ضرب سے بائیں ہاتھ کا۔
(
۶ تا۸) اوّل  بائین ہتھیلی سے دہنے ہاتھ کاپھر د ہنی سے بائیں کا پھر د ہنی خواہ بائین خواہ دونوں کی ضرب سے منہ کا۔
(
۹) ضرب اوّل میں د ہنی ہتھیلی سے بائیں ہاتھ کاپھر بائیں سے منہ کا پھر بائیں کی دوسری ضرب سے دہنے ہاتھ کا۔
(
۱۰ تا۱۲) پہلے د ہنی ہتھیلی سےبائین ہاتھ پھر بائیں سےدہنے ہاتھ کاپھر د ہنی خواہ بائیں خواہ دونوں کی ضرب سےمنہ کا۔
تیمم ان سب طریقوں پرصحیح ہوگا اور سنّت سے منقول صرف اوّل۔

بست ویکم : کوئی حصّہ ایسا نہ رہے یہ شرط استیعاب کابیان ہے کہ جتنے منہ اور جتنے ہاتھوں کادھوناوضو میں فرض ہے اس تمام حصہ پرتیمم غیرمعہود میں جنس ارض اور معہود میں ہاتھ کاپہنچنا فرض ہی یہی صحیح ہے اور یہی ظاہر الروایۃ اور اسی پراعتماد تواگرایك ۲ بال کی نوك بھی ہاتھ یاجنس ارض پہنچنے سے باقی رہ گئی تیمم نہ ہوگا تو لازم ۳ ہے کہ انگوٹھی چھلّے کنگن پہنچیاں چوڑیاں کف دست اور کلائی کاہرگہنا اتارلیاجائے یااسے ہٹاہٹاکرمسح یاایصال جنس کیاجائے کما فی البحر والدر وغیرھما عامۃ الاسفار (جیساکہ البحرالرائق ، درمختار اور ان کے علاوہ عامہ کتب میں ہے۔ ت) 

اقول : تویہاں وضو سے زیادہ اہتمام لازم خصوصًا تیمم معہود میں کہ ڈھلکتاہواپانی اڑتا ہواغبار خود بھی رسائی کی چیز ہےاور ہاتھ توجہاں پہنچایاجائے وہیں پہنچے گا۔

ثم اقول : مواضع حرج کہ ہم نے الجود الحلو میں ذکرکیے یہاں بھی واجب الاستثنا ہیں  مَا جَعَلَ عَلَیْكُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍؕ- (تمہارے اوپردین میں کوئی تنگی نہ رکھی۔ ت) تیمم کی مشروعیت ہی دفعِ حرج کے لیے ہوئی تو جس ۱  مں خود حرج نہیں بلکہ اس کی نگہداشت میں حرج ہے جیسے کوئے میں سُرمہ وغیرہ وہ بے خبری میں معاف ہے بعد اطلاع معاف نہیں اور جس میں خود حرج ہے جیسے آنکھ کے ڈھیلے وغیرہ وہ مطلقًا معاف ہے۔

عفاالله تعالٰی عنا مطلقًا بالاطلاق فینا وفی ذنوبنا٭ وصلی الله تعالٰی وبارك وسلم علی ھادی قلوبنا٭ وماحی عیوبنا٭وکاشف کروبنا٭واٰلہ و صحبہ٭وابنہ وحزبہ٭اجمعین بہ ابد الابدین٭ عدد خلق الله فی کل اٰن وحین٭والحمد لله رب العٰلمین٭                                            

الله تعالٰی ہمیں مطلقًا عفوسے نوازے مطلقًا ہم میں اور ہمارے گناہوں میں۔ اور خدا ئے تعالٰی رحمت وبرکت وسلام نازل فرمائے ہمارے دلوں کے ہادی ، ہمارے عیوب کے مٹانے والے ، ہماری مشکلات کے دور کرنے والے آقا پر اور ان کی آل ، ان کے اصحاب ، ان کے فرزند ، ان کے گروہ سب پر ، ہمیشہ ہمیشہ ، جس قدر ہرآن وہروقت خلق خدا کی تعداد ہو اور ساری تعریف خدائے رب العٰلمیں کے لیے ہے۔ (ت)

بحمدالله تعالٰی یہاں تك تعریف رضوی کی شرح مبسوط تھی کہ نہ ایسی تعریف کہیں ملے نہ کوئی ایسی شرح پائے اور اسی کے ختم سے سوالِ اول کاجواب ختم ہوا جو بفضلہ تعالٰی ایسی تحقیقات جلیلہ جزیلہ بدیعہ رفیعہ پرمشتمل ہے جن کی نظیر نظرنہ آئے۔

 



[1]   جامع الرموز باب التیمم مکتبہ اسلامیہ گنبدقاموس ایران ۱ / ۶۸

[2]   ردالمحتار باب التیمم مطبع مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۷۵

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن