دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 3 | فتاوی رضویہ جلد ۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۳

دوسرے یہ کہ عمرو کے ہاتھوں پرمٹی نہ لگی یالگی تھی اس نے جھاڑ دی جیسا کہ مسنون ہے ظاہرًا اس صورت میں جواز نہ چاہئے کہ اس وقت عمرو کے خالی ہاتھ ہیں تو تیمم تیمم معہود ہے اور تیمم معہود میں وقت ضرب نیت لازم اور یہ نیت یہاں نامتصور کہ اس کی وہ ضرب زید کی طرف مضاف نہ تھی نہ صرف دل کے ارادے سے ایك کافعل دوسرے کی طرف مضاف ہو جیسے عمرو(۲) زید کے ارادہ سے کوئی چیز خریدے عمروہی اس کامالك ہوگا صرف ارادہ سے زید کی نہیں ٹھہرسکتی کما فی الدروغیرہ ان الشراء متی وجد نفاذاعلی المشتری نفذ (جیسا کہ درمختار وغیرہ میں ہے کہ خریداری جب خریدار پرنفاذ کے طور پرپائی جائے نافذ ہوگی۔ ت) بخلاف اس کے کہ نہ زید نے عمرو سے کہا نہ عمرو نے زید سے کچھ تذکرہ کیا اور بطور خود زید کانساح ہندہ سے کردیا اور زید کو خبرپہنچی اس نے صراحۃً یادلالۃً جائز رکھا نافذ ہوگیا کہ یہ امرعمرو کی طرف سے کسی طرح مضاف ہوسکتاہی نہ تھا کہ عقد تصریحًا جانبِ زید مضاف تھا اور ضرب کف میں کوئی اضافت نہیں ھذا ماظھر٭فلیراجع ولیحرر٭والعلم بالحق عند العلی الاکبر ٭ (ظاہر میں یہی ہے۔ اس کی مراجعت اورصفائی کرلی جائے اور حق کاعلم رب بلالندوبرتر کے یہاں ہے۔ ت)

اس صورت اخیرہ یعنی پنجم میں اگرچہ زید کی نیت تھی بھی حکم صراحۃً دلالۃً کسی طرح نہ ہونے سے جواز نہ ہوا ، اور اگرزید نے صراحۃً کہا مجھے تیمم کرادے اور نیت نہ کی یاکوئی بیکار۴  نیت مثل نیت نفس تیمم کی جب بھی جواز نہ ہوگا توظاہر ہوا کہ حکم ونیت دونوں کااجتماع چاہئے والله تعالٰی اعلم۔

ہفدہم : یاخود اس فعل سے یا اپنے خواہ اپنے امور کے وہ کف الخ یہ تیمم تیمم کی اس تقسیم کی طرف اشارہ ہے جس کی تحقیق اوپر گزری کہ ایك تیمم معہودہ ہے یعنی کفِ دست جنسِ ارض پرمارکر منہ اور ہاتھوں پر پھیرنا ، دوسراغیرمعہود کہ اور کوئی فعل ایسا کرنا جس کے سبب بلاواسطہ ان اعضاء کو جنسِ ارض سے

اتصال ہو اس کی صورتیں اور تفصیلیں بسطِ کامل کے ساتھ اوپرگزریں۔

ہیجدہم : ان کے اکثر کامنہ اور ہاتھوں سے مس ہونا یہ تیمم معہود کی ایك شرط کی طرف اشارہ ہے کہ کفِ دست جو جنس ارض سے مَس کیے گئے ان کے کل یااکثر سے منہ اور دونوں ہاتھوں کامسح ہوا اگر صرف(۱) ایك یادو۲ انگلیوں سے مسح کرے گا تیمم نہ ہوگا جیسے (۲) سر اور موزون کامسح کہ ان میں بھی اکثر کف شرط ہے بلکہ ان سے بھی زیادہ کہ اگروہاں ایك انگلی باربار ترکرکے سریاموزوں کے مختلف مواضع پرلگائی کہ اکثر کی مقدار کو پہنچ گئی مسح ہوگیا اور یہاں اگر ایك یادو انگلیوں کوباربار ضرب کرکے چہرہ یاہاتھ کے مختلف مواضع پرپھیر کہ استیعاب کرلیا تیمم نہ ہوگا کہ خود اکثردست شرعًا معین ہے ظاہر ہے کہ یہ شرط تیمم معہود ہی میں ہے غیرمعہود میں سرے سے مسح بالکف ہی کی ضرورت نہیں۔

وقد اھتدی لہ العلامۃ الشامی لکن ذکرہ متوقفا متأ ملامستدرکابہ علی الدر والبحر والوسع(۳) لہ مااظھر الفیض اللطیف علی العبد الضعیف من تقسیم التیمم لم یکن شیئ من ھذہ قال فی الدر وشرطہ المسح وکونہ بثلاث اصابع[1] فاکثر۔ فقال رحمہ الله تعالٰی ھو معنی قولہ فی البحر بالید اوباکثرھا فلومسح باصبعین لایجوز ولوکررحتی استوعب بخلاف مسح الراس فانہ اذا مسحہا باصبع اوباصبعین بماء جدید لکل ھتی صارقدر ربع الراس صح ۱ھ امداد وبحرقلت لکن فی التاترخانیۃ ولوتمعك بالتراب بنیۃ التیمّم فاصاب التراب وجہہ ویدیہ اجزأہ لان المقصود قد حصل ۱ھ فعلم ان اشتراط اکثر الاصابع محلہ حیث مسح بیدہ تأمل [2] ۱ھ۔                                               

علامہ شامی کو اس طرف راہ یابی ہوئی مگر انہوں نے اسے توقف وتامل کے ساتھ درمختار اور البحرالرائق پر استدراك کرتے ہوئے ذکرکیا۔ وہ تقسیم تیمم جوفیض لطیف سے بندہ ضعیف پرظاہر ہوئی اگر علامہ شامی کے خیال میں آجاتی تویہ سب کچھ نہ ہوتا۔ درمختار میں ہے : “ اور اس کی شرط مسح اور مسح کاتین یازیادہ انگلیوں سے ہوناہے۔ “ اس پر علامہ شامی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے فرمایا : یہی عبارت بحر بالید اوباکثرھا (ہاتھ سے یا ہاتھ کے اکثرحصہ سے) کامعنی ہے تو اگردوانگلیوں سے مسح کیا ، جائز نہ ہوگا۔ اگرچہ تکرار کرکے استیعاب کرلیا ہو۔ مسح سرکاحکم اس کے برخلاف ہے کیونکہ اگرایك یادوانگلیوں سے ، ہربار کے لیے نیاپانی لے کرمسح کیا یہاں تك کہ چوتھائی سرکے برابر مسح ہوگیا توصحیح ہے ۱ھ امداد و بحر۔ میں کہتا ہوں : لیکن تاتارخانیہ میں ہے : اگرتیمم کی نیت سے مٹّی پرلوٹ پوٹ کیا جس سے اس کے چہرے اور ہاتھوں پرمٹّی پہنچ گئی تویہ کافی ہے اس لیے کہ مقصود حاصل ہوگیا ۱ھ اس سے معلوم ہوا کہ اکثر انگلیوں کی شرط لگانے کاموقع اس وقت ہے جب ہاتھ سے مسح ہو۔ اس میں تأمل کرناچاہئے۔ ۱ھ۔ (ت)

ثم اقول :  اشتراطھم الید اواکثر فی التیمم المعہود وعدم اجزاء الاستیعاب باصبع اواصبعین نص فی تعیین(۱) الید وانھا مقصودۃ لایکفی لاستیعاب بغیرھا فلوا مسّ خشبۃً او ثوبا اوقرطاسا مثلا بجنس الارض وامرھا علی الوجہ والذراعین لااراہ یجوز الا(۲) ان یلتزق بھا من التراب مایستوعب المحل فیکون تیمم اغیرمعہود وذلك لان الشرع المطھر انماجعل التراب طہوراعند عدم الماء فان لم یکن التراب الحقیقی فلابد من الحکمی ولم یعرف التراب الحکمی شرعا الایدا مست بالصعید الحقیقی ومن ادعی غیرذلك فعلیہ البیان کیف والامر تعبدی مافیہ للقیاس یدان فما (۳) وقع فی الحلیۃ من قولہ الشرط مجرداالمس علی الارض او علی جنس الارض بالیدین اوبغرھما اوامرارذلك علی العضوین سواء التزق بالماس شیئ من ذلك اولم یلتزق [3] ۱ھ ممالست احصلہ ولایحضرنی الاٰن من غیرہ نعم (۴) یجوز امساس الکفین بحائل تابع لہما کخرقۃ ملفوفۃ علیھا کما مرفی تیمیم المیت الانثی

ثم اقول : (میں پھرکہتاہوں) تیمم معہود میں ہاتھ یا اس کے اکثر حصہ کی شرط لگانا ، اور ایك یادوانگلی سے استیعاب کاناکافی ہونا ہاتھ کی تعیین پرنص ہے اور اس پربھی کہ وہ مقصود ہے جس کے بغیر استیعاب ناکافی ہے۔ تواگرمثلًا کسی لکڑی یاکپڑے یاکاغذ کو ، جنس زمین سے مس کرکے چہرے اور کلائیوں پرگزارلیا تومیرے خیال میں یہ جائز نہ ہوگا مگر اسی صورت میں جب ان چیزوں پر اتنی مٹی چپك گئی ہو جس سے محل تیمم کااستیعاب ہوجائے تویہ تیمم غیرمعہود ہوجائے گا ، وہ اس لیے کہ شرع مطہر نے پانی نہ ہونے کے وقت مٹّی کومطہرقراردیا ہے تواگرحقیقی مٹی نہ ہوتوحکمی ہونا ضروری ہے۔ اور شرعًا تراب حکمی کی حیثیت سے معلوم ومعروف صرف وہی ہاتھ ہے جسے صعید حقیقی سے مس کیاگیاہو۔ جوکسی اور کابھی مدعی ہو اس کے ذمہ دلیل ہے اور یہ کیسے ہوسکتاہے جب کہ معاملہ تعبدی ہے جس میں قیاس کی دست رست نہیں۔ اس تفصیل کے تحت حلیہ کی درج ذیل عبارت میرے لیے ناقابلِ فہم ہے : “ شرط صرف یہ ہے کہ زمین یاجنس زمین پرہاتھوں سے یاکسی اور چیز سے مس ہو اور اسے دونوں عضووں پرگزارا جائے اس میں سے کچھ مس کرنے والے سے چپکے یانہ چپکے ۱ھ “ ۔ کسی اور نے بھی ایسی عبارت لکھی ہے اس وقت یہ بھی مجھے یاد نہیں آتا۔ ہاں یہ جائز ہے کہ دونوں ہتھیلیوں کو کسی ایسے حائل سے مس کیاجائے

والخنثی وکذا الرجل اذایممتہ حرۃ اجنبیۃ وذلك لان مس التابع مس المتبوع کمس(۱) جلد المصحف الشریف وغلافہ الغیر المتجافی عنہ وکذلک(۲) اذاکان علی کفیہ ضماد متجسد وقد یبس جاز لہ الضرب بھما فان ضرہ ازالتہ کان الضرب ھکذا مسحا لکفیہ فیما اعلم والله تعالٰی اعلم فان ارادھذا فذاك مع شدّۃ مافیہ من الایھام والافھو مشکل والله تعالٰی اعلم۔

جوان کے تابع ہو جیسے کوئی کپڑاجو ان پرلپیٹ لیاہو ، جیساکہ عورت اور خنثی مرد کے تیمم میں بیان ہوا۔ یہی صورت اس وقت بھی ہوگی جب مرد کو آزاد اجنبیہ تیمم کرائے ، وہ اس لیے کہ تابع کامس ، متبوع ہی کامس ہے جیسے مصحف شریف کی جلد ، اور اس کے ایسے غلاف کامس جو اس سے الگ نہ ہو۔ اسی طرح جب ہتھیلیوں پرکوئی لیپ چڑھاہواہو اور سوکھ گیا ہوتو ان ہتھیلیوں سے ضرب جائز ہے اگراس لیپ کاچھڑانا ضروردیتاہو تویہی ضرب جہاں تك مجھے علم ہے ہتھیلیوں کابھی مسح قرارپائے گی۔ اور خدا خو ب جاننے والا ہے۔ اگرصاحبِ حلیہ کی مراد یہی ہے توٹھیك ہے پھر بھی اس میں شدید ایہام ہے اور اگریہ مراد نہیں تو اس میں بڑا اشکال ہے۔ اور الله تعالٰی خوب جاننے والا ہے۔ (ت)

 



[1]   درمختار مع الشامی باب التیمم مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۶۹

[2]   ردالمحتار باب التیمم مطبع مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۶۹

[3]   حلیہ

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن