30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پانزدہم عــہ کامل طہارۃ کے یہ معنی کہ اس جنس ارض کوکبھی نجاست نہ پہنچی ہو یا پہنچی تو پاك ہوگئی ہو یعنی اصلا اس کاکوئی حصہ نہ رہا ہو جیسے پانی سے دھل کریاآگ سے جل کر اجزائے نجاست سب نکل یاجل جائیں دھوپ یا ہوا سے خشك ہوکرجبکہ نجاست کاکوئی اثر رنگ وبُو نہ رہے تووہ شئی نماز کے لیے پاك ہوجاتی ہے مگر اس سے تیمم جائزنہیں ہوتا کہ دھوپ یاہوا استیصال نجاست نہیں کرتی کچھ اجزائے خفیفہ باقی رہ جاتے ہیں جونماز میں معاف ہیں اور تیمم میں معاف نہیں کما مر تحقیقہ فی صدرالکلام بتوفیق الملك العلام (جیسا کہ اس کی تحقیق آغاز کلام میں ، ملك علّام کی توفیق سے گزرچکی۔ ت)
ثم اقول : اس زمین ۱ یاجنس زمین کوکبھی نجاست نہ پہنچنے کے یہ معنی کہ اس کے علم میں نہ ہو نہ بعد کو علم آئے۔
لاناانما کلفنا بمالانعلم نجاستہ لابما نعلم عدم نجاستہ اذلاسبیل لنا الیہ فانما التکلیف بجسب الواسع۔
اس لیے کہ ہم اسی کے مکلف ہیں جن کی نجاست ہمارے علم میں نہ ہو ، اس کے مکلّف نہیں جس کی عدمِ نجاست ہمیں معلوم ہو ، اس لیے کہ ہمارے پاس اس کی کوئی راہ نہیں۔ تکلیف بقدرِ وسعت ہی ہے۔ (ت)
ہاں اگر اسے اُس شَے کی نجاست کاعلم نہ تھا نہ وہ کسی مظنہ۲ نجاست میں تھی کہ یہاں ظن بھی ملتحق بہ یقین ہے ، بیت الخلا کی زمین سے تیمم جائزنہ ہوگا اگرچہ اسے اس حصہ خاص کاجس پر تیمم کرناچاہتاہے نجس ہونا معلوم نہ ہو یوں جس چیز کی نجاست اس کے علم ۳ وظن میں نہ تھی بعدکو کسی مسلمان ثقہ عادل کی خبر سے معلوم ہوا کہ یہ شَے یاجگہ نجس تھی یاکسی مستودیافاسق نے خبردی اور اس کادل اس کے صدق پرجماتو وہ تیمم باطل تھا اگر اس سے نمازپڑھی تھی اعادہ کرے ہاں کافر کی خبرکااعتبار نہیں اور غیرعادل کی بات دل پرنہ جمے تو اس کالحاظ بھی ضرور نہیں اور اگر اسے ۴ نجاست
عــہ یہ اس چہاردہم کاپانزدہم ہے جوصفحہ ۵۷۷ پرگزرا۔ (م)
معلوم نہیں نہ بعد کومعلوم ہوئی توتیمم صحیح ہوا اور نماز جائز اگر چہ علم الٰہی میں وہاں کوئی نجاست ہو۔
شانزدہم : خودیااپنی نیت مذکورہ سے دوسرے کو اس میں تین مسئلے ہیں(۱) یہ کہ ۱ جس طرح اپنے ہاتھوں آپ تیمم جائز ہے یوں ہی یہ بھی دوا ہے کہ بشرائط آئندہ دوسرے سے اپنے عضاء پر تیمم کرالے۔
اقول : مگر ۲ یہ بلاضرورت مکروہ ہوگا جس طرح وضو میں دوسرے سے استعانت بلکہ اس سے زائد کہ اس کے نفس جواز وصحت ہی میں بعض کوخلاف ہے کما ستسمع (جیسا کہ عنقریب سنو گے۔ ت)
(۲) دوسرا۳ اس کے حکم سے اسے تیمم کرائے حکم سے مراد اسے دربارہ تیمم اپنا وکیل ونائب کرنا ہے عام ازیں کہ صراحۃً ہویا دلالۃً اگر کسی طرح اس کی جانب سے نائب بنانے پردلالت نہ پائی گئی اور اس نے بطور خود ہاتھ زمین پر مارکر اس کے منہ اور ہاتھوں پرپھیردیئے توتیمم نہ ہوگا۔
(۳) ضرور۴ ہے کہ یہ حکم دینے والا اس کی ضرب کے وقت خود نیت کرے اس کی نیت کافی نہیں۔ مراقی الفلاح میں ہے :
فان نوی التیمّم وامربہ غیرہ فیممہ[1]۔
تواگر تیمم کی نیت کی اور دوسرے کوحکم دیا کہ اس نے اسے تیمم کرادیا۔ (ت)
بحرالرائق سے گزرا :
لوامرغیرہ بان ییممہ جاز بشرط ان ینوی الاٰمر (الی ان قال) لما ان المامور اٰلۃ وضربہ ضرب للاٰمر فالعبرۃ للاٰمر[2]۔
اگردوسرے سے اپنا تیمم کروایا توجائز ہے بشرطیکہ حکم دینے والا نیت کرے (یہاں تك کہ فرمایا) اس لیے کہ مامور ذریعہ ہے اور اس کی ضرب ، آمر کی ضرب ہے تواعتبار آمرکاہے۔ (ت)
اسی میں معراج الدرایہ سے ہے :
لوامرغیرہ ان ییممہ ونوی ھو جازو قال ابن القاضی لایجزئہ [3] ۱ھ والناوی ھو الاٰمر کما لایخفی۔
اگردوسرے کوتیمم کرانے کاحکم دیا اور خود نیت کی تو جائز ہے اور ابن القاضی نے کہا کہ کافی نہ ہوگا ۱ھ اور نیت آمر کوکرنی ہوگی جیسا کہ مخفی نہیں۔ (ت)
اقول : ۱ یہاں ذہنِ فقیر میں ایك تفصیل گزرتی ہے اتناتو پہلے معلوم ہولیاکہ تیمم معہود میں نیت وقتِ ضرب شرط ہے بعد ضرب کافی نہیں مگر اس حالت میں ہاتھوں پرکافی مٹی قابل تیمم لگی ہوئی ہو کماتقدم تحقیقہ فی ذکر مذہب السید الامام ابی شجاع (جیسا کہ مذہب سیدامام ابی شجاع کے بیان میں کی تحقیق پہلے گزرچکی ہے۔ ت)
اب یہاں چار۴صورتیں ہیں کہ اخیر کی صورت دو۲ہوکرپانچ ہوجائیں گی : ایك یہ کہ زید نے عمروسے کہا : مجھے تیمم کرادے اس نے قبول کیا۔ دوسرے یہ کہ عمرو نے زید سے کہا : میں تجھے تیمم کرادوں ، یا کہا می تجھے تیمم کرائے دیتاہون۔ زید نے کہا اچھا۔ ان دونوں صورتوں میں توظاہرکہ تیمم بامرزید ہوا۔ تیسرے یہ کہ عمرو نے کہا اور زید نے سکوت کیا اور اس کی ضرب کے وقت نیت کرلی ظاہرًا اس صورت میں بھی جواز چاہئے کہ اس نے اپنی تصریح قولی سے فعل ضرب زید کی طرف مضاف کیا اور زید نے اپنے سکوت سے اسے قبول کہ ایسی جگہ سکوت دلیلِ رضا ہے تو ان پہلی دوصورتوں میں زید کی طرف سے حکم صراحۃً تھا اور اس میں دلالۃً غمزالعیون میں ہے :
الوکالۃ کما تثبت بالقول تثبت بالسکوت ولذا قال فی الظھیریۃ لو قال(۲) ابن العم للکبیرۃ انی ارید ان ازوجك نفسی فسکتت فتزوجہاجا زذکرہ المصنف رحمہ الله تعالٰی فی باب الاولیاء والاکفاء فی شرح الکنز [4]۔
وکالت جیسے قول سے ثابت ہوتی ہے سکوت سے بھی ثابت ہوتی ہے۔ اسی لیے ظہیریہ میں فرمایا : اگر چچازاد بھائی نے بالغہ سے کہا میں چاہتاہوں کہ تیرا نکاح اپنی ذات سے کردوں ، اس پروہ خاموش رہی پھر اس نے اس بالغہ سے نکاح کرلیا توجائز ہے اسے مصنف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے شرح کنز میں باب الاولیاء والاکفاء میں بیان کیاہے۔ (ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع