دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 3 | فتاوی رضویہ جلد ۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۳

اقول : مگر انہوں نے کوئی سند ذکرنہ کی اور وہ بشہادت امام محقق علی الاطلاق اس میں متفرد ہیں بلکہ غیاثیہ میں اسی پر اجماع نقل کیا :

حیث قال الخزف اذا استعمل فیہ شیئ من الادویۃ حینئذ لایجوز بالتیمّم بہ بالاجماع[1]۔

ان کاکلام یہ ہے کہ “ خزف میں جب کوئی دوا استعمال کی جائے تو اس وقت اس سے تیمم بالاجماع جائز نہیں۔ “ (ت)

اقول : فتح و حلیہ وبحر یہاں فتاوٰی امام قاضیخان سے استناد فرماتے ہیں کہ اعتبار غالب کاہے مگرخود امام فقیہ النفس نے اسی مسئلہ خزف میں بحال خلط منع مطلق رکھا کہ فرمایا :

لو تیمّم بالخزف ان کان علیہ غبار جاز ان لم یکن علیہ غبار فان کان متخذا من التراب الخالص ولم یجعل فیہ شیئ من الادویۃ جازو ان جعل فیہ شیئ من الادویۃ ولم یکن علمہ غبار لایجوز۔

اگرخزف سے تیمم کیا تو اگر اس پرغبارہو ، جائز ہے اور اگر اس پرغبارنہ ہو تو یہ صورت ہے کہ اگر وہ خالص مٹی کی بنی ہو اور اس میں کوئی دوانہ پڑی ہو توجائز ہے او اگر اس میں کوئی دوا پڑی ہو اور اس پر کوئی غبار نہ ہو تو ناجائز ہے۔ (ت)

وہاں اگر وہ اطلاق تھا کہ :

التراب اذا خالطہ مالیس من اجزاء الارض یعتبر فیہ الغلبۃ[2]۔

مٹّی میں جب غیراجزائے زمین سے کچھ مخلوط ہوجائے تو اس میں غلبہ کااعتبار ہے۔ (ت)

تویہاں یہ اطلاق ہے کہ :  

وان جعل فیہ شیئ من الادویۃ لایجوز[3]۔

اور اگر اس میں کوئی دواپڑی ہو توناجائز ہے۔ (ت)

یہ اگرحالت غلبہ پرمحمول ہوسکتاہے وہ حالت غیرطبخ پر ،

واستشھد لہ فی الحلیۃ بما فی مختارات النوازل یجوز التیمم بالخزف ھو الصحیح وبما فی خزانۃ الفتاوی یجوز

حلیہ میں اس پر ان دو۲عبارتوں سے استشہاد کیاہے (۱) مختارات النوازل : “ خزف سے تیمم جائز ہے۔ یہی صحیح ہے “ ۔ (۲) خزانۃ الفتاوٰی : “ خزف سے

بالحزف اذا کان علیہ صبغ لیس من جنس الارض[4]۱ھ۔

اقول : اما(۲) الاول فابعد شیئ عن الشہادۃ لہ فانہ انما ذکر حکم الخزف فی نفسہ وھوکذلك ولم یتعرض لشیئ من العوارض من فکیف یدل علی الجواز بالمخلوط واما الثانی فقریب(۲) منہ فان الخزف کثیرا ما یصبغ والخلط نادر وذکر الغالب وترك النادر غیربعید وقدر أیتنی کتبت علی ھامش الحلیۃ ھھنا مانصہ اطلاق الجواز بالخزف اوتقییدہ بما اذالم یکن صبغ مخالف لاینافی اطلاق المنع اذاکان طبخہ مع شیئ مخالف فانہ نادر خارج لایلاحظ الیہ فی افادۃ حکم نفس الخزف بخلاف الصبغ فانہ کثیر ۱ھ ماکتبت علیہ ھذا۔

وقال فی الغنیہ موجھا اطلاق المنع بخلط الطبخ (ولوتیمّم بالخزف ان کان متخذا من التراب بالخالص ولم یجعل فیہ شیئ من الادویۃ) کالفحم والشعر وغیرھما ممایجعل فی الطین الذی تتخذ منہ البنادق (جاز) التیمّم بہ (وان لم یکن علیہ غبار) وان کان        

تیمم جائز ہے مگر جب اس پرکوئی ایسارنگ چڑھا ہوجوجنس زمین سے نہیں۱ھ۔ (ت)

اقول : اول تو ان کے مطلوب کی شہادت سے انتہائی بعید ہے اس لیے کہ اس میں صرف یہی بیان ہے کہ خود خزف کاکیا حکم ہے؟ تو نفس خزف کاتووہی حکم ہے مگر اس عبارت میں اس کے عوارض کاکوئی ذکرہی نہیں پھر اس سے خزف مخلوط کاجواز کیسے دریافت ہوسکتاہے؟ عبارت دوم بھی اول سے قریب ہی ہے اس لیے کہ خزف کی رنگائی توبہت ہوتی ہے مگر اس میں دوسری چیز کی ملاوٹ نادرہے۔ اکثرکو ذکرمیں لانا اور نادر کوترك کردینا کوئی بعید امرنہیں۔ یہاں حلیہ کے حاشیہ پرمجھے اپنی لکھی ہوئی درج ذیل عبارت نظرآئی : “ خزف سے جواز کومطلقًا بیان کرنا یاجواز کو اس بات سے مقید کرنا کہ کوئی مخالف رنگ نہ ہو ، یہ اس کے منافی نہیں کہ اس سے تیمم مطلقًا منع ہو جب اسے کسی مخالف چیز کے ساتھ پکادیاگیاہو ، اس لیے کہ یہ صورت الگ ہے جو بہت کم واقع ہوتی ہے اور نفس خزف کاحکم بتانے میں نظرانداز کی جاسکتی ہے اس کے برخلاف رنگائی والی صورت بکثرت پائی جاتی ہے۱ھ “ (حاشیہ پرلکھی ہوئی میری تحریر ختم ہوئی) یہ ذہن نشین رہے۔

غنیہ میں ملاکر پکانے کی صورت میں مطلقًا ممانعت کی توجیہ کرتے ہوئے یوں لکھا ہے “ (اور اگرخزف سے تیمم کیا تو اگروہ خالص مٹّی سے بنی ہو اور اس میں کوئی

فیہ شیئ من الادویۃ ظاھرا لایجوز الا ان یکون علیہ غبار لما تقدم فی الطلی بالاٰنك وکان ینبغی ان تعتبر الغلبۃ لکن لم یعتبروھا لانہ بخلط الدواء مع الطبخ خرج عن کونہ من جنس الارض من کل وجہ[5]۱ھ۔

اقول اوّلًا  :  رأیتنی(۱) کتبت علیہ الذی تقدم فی المطلی ھو قولہ (لایجوز التیمم بالغضارۃ المطلی بالاٰنک) لوقوعہ علی غیر جنس الارض[6]۱ھ فہذا یقتضی ان معنی قولہ ان کان فیہ شیئ من الادویۃ ظاھرا ای مستعلیا فوقہ ولیس کذلك فان ھھنا مزجا والتاویل بان المراد ظہور الاثروالاحالۃ علی ماتقدم من جہۃ انہ لم یبق من جنس الارض علی الاطلاق ٭ شدید البعد عن المذاق٭کما لایخفی علی الحذاق٭

وثانیا :  الظھور(۲) سواء ارید                                        

 



[1]   فتاوٰی غیاثیہ باب التیمم مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص۱۷

[2]   فتاوٰی قاضی خان فصل فیمایجوزبہ التیمم مطبع نولکشورلکھنؤ ۱ / ۲۹

[3]   فتاوٰی قاضی خان فصل فیمایجوزبہ التیمم مطبع نولکشورلکھنؤ ۱ / ۲۹

[4]   حلیہ

[5]   غنیۃ المستملی باب التیمم مطبع سہیل اکیڈمی لاہور ص۷۹

[6]   غنیۃ المستملی باب التیمم مطبع سہیل اکیڈمی لاہور ص۷۹

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن