30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس تقدیر پربلاشبہ غلبہ تراب ضرور اور ۲ ظہوراثر کی قید مہجور اورقول علامہ شامی منصور ۳ وللحلیۃ فی محل الجزم ذکر الظھور (اور بغیرگلائے ہوئے ، مٹی سے مخلوط ہونے کی صورت میں ، مٹی کے غلبہ کی قید سے مقید کرنے کے لیے) حلیہ کو “ ظاہر “ کہنے کی بجائے اسے بطورجزم ذکرکرناچاہئے۔ ت)
اقول : بلکہ (۱) اگربڑے بڑے قطعے بھی ہوں اوران پرمٹّی چڑھی ہوئی ہو جب بھی اس قید کی حاجت نہیں نہ غلبہ کی ضرورت ، صرف اتناچاہئے کہ ہاتھ تراب سے مَس کرنے نہ ان چیزوں سے ظہور۲ اثر کی قید کہ امام اسبیجابی نے ذکر فرمائی صورت غبار میں ہے ، سخت مٹی کی تَہ اگرکسی چیز پرچڑھی ہوکہ ہاتھ پھیرے سے نشان نہ بنے توبلاشبہ اس پرتیمم جائز ہے ، جیسے پتھر پربالجملہ یہ اختلافات ہیں جو اس مسئلہ میں آئے۔
وانا اقول : وبالله التوفیق (اور میں کہتاہوں ، اور توفیق الله تعالٰی ہی کی جانب سے ہے۔ ت) قول ۳ فیصل یہ ہے کہ ذہب وفضّہ وغیرہمامعادن سبعہ یقینا جنسِ ارض سے نہیں اور ان پرتیمم نہیں ہوسکتا کما فی الفتح والحلیۃ والبحر والدر وغیرھا(جیسا کہ فتح القدیر ، حلیہ ، البحرالرائق اور درمختار وغیرہا میں ہے۔ ت) اور یہ ہے وہ کہ عامہ کتب میں ہے ۴ ولاحاجۃ الی التفصیل کما زعم البحر اور بحر نے (فتح القدیر کے مطلق کوتفصیل پرمحمول ہونے کا) جو گمان کیا اس تفصیل کی کوئی ضرورت نہیں۔ ت) خلط تراب کامسئلہ کچھ ان کی خصوصیت نہیں رکھتا ہراس چیز کوعام ہے جس سے تیمم ناجائز ہو اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ اگر ان کے ریزے مٹی میں مخلوط ہوں خواہ گلانے سے پہلے جیسے معدن میں یاگلانے کے بعد بُرادہ کرکے بہرحال غلبہ تراب ضرور ہے اگراگربڑے بڑے قطعے یاپتریا ان کے بنے ہوئے برتن یازیور ہوں تو اگر ان پرمٹّی کالیس چڑھاہے تیمم جائز اور اگرغبار پڑا ہے تواتناضرور ہے کہ ہاتھ پھیرے سے انگلیوں کا نشان بنے یہ ہے تحقیق حقیق بالقبول اور اسی پرعامہ اقوال محمول وبالله التوفیق۔
مسئلہ۱۲ خلط۔ جنس ارض میں جب اس کاغیر مل جائے تو اس سے تیمم جائز ہے یانہیں ، اس میں عبارات چار۴طورپرآئیں۔
(۱) کہ جادہ واضحہ مالوفہ اور شرع مطہر کاقاعدئہ معروفہ ہے کہ غلبہ ارض پرمدار ہے اگرجنس ارض غالب ہے جائز ورنہ نہیں فائدہ پنجم میں خانیہ وظہیریہ و خزانہ وحلیہ و جامع الرموز و مراقی الفلاح و درمختار و ہندیہ سے اس کی عبارات گزریں اسی طرح منیہ وغیرہا میں ہے یعنی اگرجنسِ ارض مغلوب یا دونوں مساوی ہوں دونوں حال میں ناجائز۔
کما تقدم عن الدر ونقل العلامۃ الازھری عن نوح افندی ان الغلبۃللتراب یجوز وان للرمادلاقال
جیسا کہ درمختار کے حوالہ سے گزرا اور علامہ ازہری نے نوح آفندی سے یہ نقل کیا : “ اگرمٹّی غالب ہے تو جائز ہے اور اگر راکھ غالب ہے تونہیں۔ اور
ومنہ علم حکم المساوی[1]۱ھ۔
اقول : اقتفی(۱) اثرالدرولم یفرق فان نظم الدرلو الغلبۃ للتراب جاز والالاومنہ علم حکم التساوی[2]۱ھ ووقع فی الدر ایضا تبعا للبحر عن المحیط یجوز بطین غیرمغلوب بماء[3]۱ھ فزعم العلامۃ ط ان الظاھر من کلامہ ان المساوی فی حکم غیر المغلوب بالماء والذی یأتی فی قولہ و الحکم للغالب انہ لایجوز بالمساوی[4]۱ھ۔
اقول : نصوا(۴) ان قولك لاافضل منہ ینفی المساواۃ ایضا لانھا فی غایۃ الندرۃ وانما المعہود التفاضل فاذا انفی الافضل منہ ثبت انہ الافضل مما عداہ (۳) کذا ھھنا ثم (۴)کان علیہ رحمہ الله تعالٰی ان یقول الظاھر من کلامہ ان المساوی کالغالب فان کونہ غیرمغلوب معلوم نعم رأیت فی الجوھرۃ اذا خالطہ مالیس من جنس الارض و کان المخالط اکثر منہ لایجوز
اسی سے مساوی کاحکم بھی معلوم ہوگیا۔ “ ۱ھ(ت)
اقول : انہوں نے درمختار کے نشان قدم کی پیروی کی مگر امتیاز نہ کرسکے اس لیے کہ درمختار کی عبارت اس طرح ہے : “ اگرمٹی غالب ہے توجائز ہے ورنہ نہیں۔ اور اسی سے برابری کاحکم بھی معلوم ہوگیا “ ۱ھ۔ درمختار میں بہ تبعیتِ بحر ، بحوالہ محیط یہ عبارت بھی آئی ہے : “ مٹی جوپانی سے مغلوب نہ ہو اس سے تیمم جائزہے “ ۱ھ۔ اس پر علامہ طحطاوی نے یہ خیال کیاکہ : “ ان کےکلام سے ظاہریہ ہےکہ مساوی اسی کے حکم میں ہے جوپانی سےمغلوب نہ ہو۔ اور ان کی عبارت “ والحکم للغالب “ (حکم غالب کاہے) کے تحت یہ آرہاہے کہ مساوی سے جائزنہیں “ ۱ھ۔ ت)
اقول : علمانے اس کی صراحت فرمائی ہے کہ “ لاافضل منہ “ (اس سے کوئی افضل نہیں) سے مساوات کی بھی نفی ہو جاتی ہے اس لئے کہ وہ انتہائی نادر ہے معہود یہی ہے کہ باہم کچھ تفاوت ضرور ہوتاہے۔ توجب “ اس سے افضل “ کی نفی ہوگئی تویہ ثابت ہوگیا کہ وہ اپنے علاوہ سب سے افضل ہے ایسا ہی یہاں ہے۔ پھر علامہ طحطاوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکویوں کہناتھا کہ : ان کے کلام سے ظاہریہ ہے کہ “ مساوی غالب ہی کی طرح ہے “ اس لیے کہ اس کاغیر مغلوب ہونایقینی ہے۔ ہاں
بہ التیمّم [5]۱ھ۔
جوہرہ میں یہ عبارت نظرآئی : “ جب مٹی سے غیرجنس زمین مل جائے اور ملنے والی چیز اس سے زیادہ ہو (کان اکثر منہ) تواس سے تیمم جائزنہیں۔ “ ۱ھ(ت)
(اس عبارت سے خیال ہوتاہے کہ ملنے والی چیز اگرمساوی ہوتوتیمم جائزہے۔ ۱۲م۔ الف)
اقول : وھو(۱) ان اول بماذکرت و الا فمحجوج بالخانیۃ وبالقاعدۃ المطردۃ اذا اجتمع الحاظر والمبیح فللحاظر الترجیح۔
اقول : اگراس کی بھی وہی تاویل کرلی جائے جومیں نے بیان کی ہے توٹھیك ، ورنہ اس کے خلاف خانیہ کی عبارت حجت ہے اور یہ عام قاعدہ بھی ، کہ جب محرّم ومبیح (ناجائزکرنے والی اور جائز کرنے والی دلیلیں) جمع ہوں تو ترجیح محرِّم کو ہوگی۔ (ت)
اور ظاہرًا یہاں لحاظ غلبہ باعتبار اجزاہی ہے بخلاف آب کہ اس میں اعتبار غلبہ یاباعتبارطبع وباعتبار اسم بھی تھا جس کی تفصیل وتحقیق ہمارے رسالہ النور والنورق ہے۔ حلیہ میں ہے :
ثم لاشك ان الغلبۃ ھنا معتبرۃ بالاجزاء بلاخلاف بخلاف المخالطۃ لماء فان فیہ خلافا[6]۔
[1] فتح المعین باب التیمم مطبع ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۹۱
[2] الدرالمختار باب التیمم مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۴۲
[3] درمختار باب التیمم مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۴۲
[4] طحطاوی علی الدر المختار باب التیمم مطبع دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۱۲۸
[5] الجوہرہ نیّرہ باب التیمم متکبہ امدادیہ ملتان ۱ / ۲۵
[6] $&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع