دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 3 | فتاوی رضویہ جلد ۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۳

(۳) جب تك اپنی معدن میں ہیں ان سے تیمم جائز ہے کہ اس وقت وہ جنس ارض سے ہیں کما مر عن ۱الطحطاوی ۲عن الازھری عن ۳ العینی(جیسا کہ طحطاوی کے حوالہ سے گزرا ، انہوں نے ازہری سے نقل کیاانہوں نے عینی سے۔ ت) جب گلائے جلائے پگھلائے جائیں اب جائز نہیں کماتقدم عن ۴ الظہیریۃ و۵ الخلاصۃ و۶ الخزانہ و۷شرح قاضیخان و ۹صدرالشریعۃ(جیسا کہ ظہیریہ ، خلاصہ ، شرح قاضیخان ، تبیین اور صدرالشریعۃ کے حوالہ سے بیان ہوا۔ ت) طحطاوی علی الدرالمختار مین تبیین کی عبارتِ مارہ نقل کرکے فرمایا :

ھذا یفید جوازالتیمّم علیہا فی محالھا ولومن غیرغبار علیہا ثم ذکر الفاصل بین جنس الارض وغیرہ وذکر ان ماینطع ویذوب لیس من جنسہا وھو یفید عدم الجواز[1] ۱ھ اقول (۲) ھی فی محالھا مختلطۃ بالتراب غیرمتمیزۃ عنہ فالفرض خلاف الواقع۔                    

اس سے مستفاد ہوتاہے کہ جب تك اپنے محل میں رہیں ان پرتیمم جائز ہے اگرچہ ان پرغبار نہ ہو۔ پھر جنسِ زمین اور غیرجنسِ زمین میں حدِفاصل بیان کی اور یہ بتایا کہ جوڈھلے اور پگھلے وہ جنسِ زمین سے نہیں اور اس سے عدم جواز مستفاد ہوتاہے ۱ھ اقول یہ جب اپنے محل میں ہوتو مٹی سے مخلوط ہوتے ہیں اس سے الگ نہیں ہوتے توجوفرض کیاہے وہ خلاف واقع ہے۔ (ت)

(۴) مٹّی سے مخلوط ہوں توجائز ورنہ نہیں درر میں ہے :

علی ظاھر من جنس الارض کذھب و فضۃ مختلطین بالتراب اوحنطۃ وشعیر علیہما غبار[2]۔

جنس زمین کی کسی پاك چیز پرجیسے سونا اور چاندی جومٹّی سے مخلوط ہوں یاگیہوں اور جَو جن پر گرد پڑی ہوئی ہو۔ (ت)

(۵) گلانے کے بعد جائز نہیں اور اس سے پہلے اگرمٹّی سے مخلوط ہوں اور مٹّی غالب ہوتوجائز ورنہ نہیں ، ۱ محیط سرخسی و۲بحر و۳ہندیہ میں ہے :

لوتیمّم بالذھب والفضۃ ان مسبوکا لایجوز وان لم یکن مسبوکا وکان مختلطا بالتراب والغلبۃ للتراب جاز۱ھ قال البحر فعلم بھذا ان مااطلقہ فی فتح القدیر محمول علی ھذا التفصیل[3]۱ھ ومثلہ عبدالحلیم اقول :  (۱) لم یتواردا موضعا واحدا ولاحاجۃ الی الحمل کما ستعرف ان شاء الله تعالٰی۔                                               

سونے چاندی سے تیمم کیا اگرگلایا ہواہوتو جائز نہیں۔ اگرگلاہوانہ ہو اور مٹّی سے مخلوط ہو اور مٹّی غالب ہوتو جائز ہے ۱ھ۔ بحر میں کہا : اس سے معلوم ہوا کہ فتح القدیر میں جومطلقًا بیان کیاہے وہ اسی تفصیل پرمحمول ہے اھ۔ اسی کے مثل عبدالحلیم نے فرمایا۔ اقول (محیط و بحر) دونوں کاتوارد ایك محل پرنہیں اور دوسری عبارت کوپہلی پرمحمول کرنے کی کوئی ضرورت نہیں جیسا کہ ان شاء الله تعالٰی عنقریب معلوم ہوگا۔ (ت)

(۶) گلائے ہوں یابے گلائے اگرمٹّی سے مخلوط ہوں اور مٹّی غالب توجائز ورنہ نہیں۔ درمختار میں ہے :

لواختلط تراب بغیرہ کذھب وفضۃ ولو مسبوکین فلو الغلبۃ لتراب جازوالالا خانیۃ ومنہ علم حکم التساوی[4]۱ھ ومثلہ الخادمی واعترضہ ط و ش بتصریحھم ان المسبوك لایجوزبہ التیمّم قال ط ولم یتکلم علی مااذا سبك احدھما مع التراب وھوغیر متأتی [5]۱ھ وقال ش ھذا انما یظھر اذاکان یمکن سبکھما بترابھما الغالب علیھما والظاھر انہ غیرممکن[6]۱ھ اقول :  رحمکما الله ورحمنا بکما ارأیتما(۲) اذا سُبکا وبُردا واختلطت برادتھما بالتراب                                                                                                             

اگر مٹّی دوسری چیز مثلًا سوناچاندی سے مل جائے اگرچہ یہ گلائے ہوئے ہوں تواگرمٹّی غالب ہے تیمم جائز ہے ورنہ نہیں۔ خانیہ۔ اسی سے برابری کاحکم بھی معلوم ہوگیا۱ھ۔ اسی کے مثل خادمی نے لکھا۔ اس پرطحطاوی اور شامی نے یہ اعتراض  کیا کہ علما نے صراحت فرمائی ہے کہ گلے ہوئے سے تیمم جائز نہیں۔ طحطاوی نے فرمایا : مٹی کے ساتھ ان دونوں کوگلایاہی نہیں جاسکتا۱ھ۔ اور شامی نے فرمایا : یہ بات اسی وقت واضح ہوکر سمجھ میں آسکتی ہے جب ان دونوں کو اس مٹی کے ساتھ جو ان پرغالب ہے گلانا ممکن ہو اور ظاہر یہ ہے کہ ایساممکن نہیں۱ھ اقول آپ دونوں حضرات

فہل لاتعتبر الغلبۃ۔

پر خدا رحمت فرمائے اور آپ کی برکت سے ہم پربھی رحم فرمائے۔ بتائیے اگرانہیں گلادیاجائے اور ان کابرادہ مٹی سے مخلوط ہوجائے توکیاغلبہ کااعتبار نہ ہوگا۔ (ت)

(۷) مجمع الانہر میں سوم وششم کوجمع کیا کہ جب تك اپنے معدن میں ہوں یامٹّی سے مخلوط ومغلوب توجائز ہے ورنہ نہیں۔

حیث قال لایجوز بالمعادن الاان یکون فی محلہا ومختلطًا بالتراب والتراب غالب[7]۔

“ انہوں نے یوں فرمایا : معادن سے تیمم جائز نہیں مگرجب کہ یہ اپنے محل میں ہوں یامٹی سے مخلوط ہوں اور مٹّی غالب ہو “ (توجائزہے)۔ (ت)

محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں قول سوم کی یہ توجیہ فرمائی کہ وہ جب تك معدن میں ہیں ان پرمٹّی ہوتی ہے۔ اس مٹّی سے تیمم جائز ہے نہ کہ اُن سے۔

حیث قال خرجت المعادن الا ان تکون فی محالہا فیجوز اللتراب الذی علیھا لابنفسھا[8]۱ھ۔

اقول :   وبہ اندفع ماظن العلامۃ ط من التنافی بین قولی التبیین۔                               

وہ فرماتے ہیں : معادن اس سے خارج ہوگئے مگر جب کہ وہ اپنے محل میں ہوں توتیمم جائز ہوگا خود ان سے نہیں بلکہ اس مٹّی کی وجہ سے جو ان پرچڑھی ہوئی ہے۔ (ت) اقول : اسی سے وہ منافات بھی دفع ہوگئی جو علامہ طحطاوی نے تبیین کی دونوں عبارتوں کے درمیان گمان کی۔ (ت)

درمختار نے اس میں ایك اور قید بڑھائی کہ مٹّی اتنی ہو کہ ہاتھ پھیرے سے نشان بنے ،

 



[1]   طحطاوی علی الدر المختار باب التیمم مطبع گنبد ایران ۱ / ۱۲۸

[2]   دُررغرر لملاّخسرو باب التیمم دارالسعادۃ مصر ۱ / ۳۱

[3]   البحرالرائق باب التیمم مطبع ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۴۸

[4]   درمختار باب التیمم مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۴۲

[5]   طحطاوی علی الدرالمختار باب التیمم دارالمعرفت بیروت ۱ / ۱۲۸

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن