30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور علامہ طحطاوی نے عجب بات کی۔ انہوں نے درمختار پراپنے حواشی میں لکھا : “ اور شیشہ جوریت سے بناہو۔ “ اور درمختارکے لفظ “ وزجاج “ کے تحت لکھا اگرچہ ریت سے بناہو۔ اور اسے مراقی الفلاح کے حواشی میں واضح کرکے یوں کہا : “ تیمم کے وقت اس کے جنس زمین سے ہونے کااعتبار ہے توشیشہ پرتیمم نہیں ہوسکتا اگرچہ اس کی اصل ریت سے ہو “ ۱ھ ایسامعلوم ہوتاہے کہ فتح القدیر اور البحرالرائق کی عبارت “ الزجاج المتخذاستخذ من الرمل وغیرہ بمعنی اوولیس کذلك بل ھی للجمع۔
ولفظ التبیین عن المحیط خالطہ شیئ اٰخر لیس من جنس الارض کالزجاج المتخذ من الرمل وشیئ اٰخر لیس من جنس الارض [1]۱ھ ونحوہ فی المجمع والازھری۔
من الرمل وغیرہ “ (شیشہ جوریت اور اس کے علاوہ سے بنا ہو) میں لفظ “ واو “ کواو(یا) کے معنی میں سمجھا۔ حالانکہ ایسا نہیں۔ یہ واو “ جمع “ کے معنی میں ہے
محیط کاحوالہ دیتے ہوئے تبین کے الفاظ یہ ہیں : اگر اس میں کوئی دوسری ایسی چیزمل گئی جوجنس زمین سے نہیں جیسے وہ شیشہ جوریت اور کسی ایسی چیز سے بنایاگیا ہوجوجنس زمین سے نہیں۱ھ۔ اور اسی کے ہم معنی مجمع او ازھری میں بھی ہے۔ (ت)
مردار۹سنگ۔ نوازل۱ ومحیط۲ وخانیہ۳ وخلاصہ۴ وخزانہ۵ ومنیہ۶ وسراجیہ۷ بلکہ خود محررالمذہب نے کتاب۸ الاصل میں اس سے جواز تیمم کی تصریح (فرمائی اور خزانۃ الفتاوٰی سے حلیہ و جامع الرموزمیں ممانعت منقول اور تحقیق یہ ہے کہ معدنی سے جائز اورمصنوع سے ناجائز۔ محیط سرخسی پھر ہندیہ میں ہے :
وبالمردا سنج المعدنی دون المتخذ من شیئ اٰخر[2]۔
اورمعدنی مردارسنگ سے (جائزہے) کسی اور چیز سے بناہواس سے ہیں۔ (ت)
حلیہ میں ہے :
مراد المجوز المعدنی والمانع مالیس بمعدنی وقد افصح البدائع والتحفۃ بالجواز موصوفا بکونہ معدنیا زاد التحفۃ دون المتخذ من شیئ اٰخر[3]۔
جائز بتانے والے کی مراد معدنی ہے اور ممنوع کہنے والے کی مراد غیرمعدنی ہے۔ بدائع اور تحفہ میں جواز کو معدنی ہونے سے موصوف کرکے بتایا اور تحفہ نے یہ بھی اضافہ کیا؛ اس سے نہیں کسی اور چیز سے بناہو۔ (ت)
مرجان۱۰۔ تبیین۱ الحقائق ومعراج۲ الدرایہ وغایۃ۳ البیان وتوشیح۴ وعنایہ۵ ومحیط۶ و خزانۃ۷ الفتاوٰی وبحر۸ونہر۹وہندیہ۱۰ وغیرہا عامہ کتب میں اس سے جواز کی تصریح ہے مگر فتح۱ میں ممانعت واقع ہوئی درمختار۲ وخادمی۳ نے ان کااتباع کیاشیخ۴ الاسلام غزی نے بھی اسی طرف میل فرمایا اور اُن کے شیخ محقّق نے بحر میں فرمایا وہ سہو ہے نہر نے فرمایا سبق قلم ہے اور جواز ہے۔
کما فی الازھری و ش واغرب(۱)عبدالحلیم فقال اٰخذًا عن المنح اولعلھما تواردا علیہ فانہ یقول اقول : انہ لیس بسھوبل الظاھر انہ قام عندہ انہ ینعقد من الماء کاللؤلؤ فحینئذ یکون النزاع لفظیا کما لایخفی[4] ۱ھ۔
اقول : بل حقیقیا کما لایخفی وکون المبنی ممالو اتفقوا علیہ لاتفقوا علی الحکم لایرفع الاختلاف فی المعنی بل یوجبہ عند الاختلاف فی المبنی وعبارۃ المنح علی مافی ش اقول الظاھر انہ لیس بسہولانہ انما منع جواز التیمم بہ لما قام عندہ من انہ ینعقد من الماء کاللؤلؤ فان کان الامر کذلك فلاخلاف فی منع الجواز والقائل بالجواز انما قال بہ لما قام عندہ من انہ من جملۃ اجزاء الارض فان کان کذلك فلاکلام فی الجواز والذی دل علیہ کلام اھل الخبرہ بالجواھر ان لہ شبہین شبہا بالنبات وشبہا بالمعادن وبہ افصح ابن الجوزی فقال انہ متوسط بین عالمی النبات والجماع فیشبہ الجماد بتحجرہ ویشبہ النبات بکونہ اشجارًا
جیسا کہ ازہری اور شامی میں ہے اور علامہ عبدالحلیم رومی نے عجب بات کی۔ انہوں نے منح الغفار سے اخذ کرکے کہا یادونوں ہی حضرات کاتوارد ہوا۔ لکھتے ہیں : “ میں کہتاہوں یہ سہو نہیں۔ بلکہ ظاہریہ ہے کہ ان کے نزدیك یہی ٹھہرا کہ وہ پانی سے بنتاہے جیسے موتی۔ تو اس وقت نزاعِ لفظی رہ جائے گا۔ جیسا کہ عیاں ہے “ ۱ھ۔ (ت)
اقول : بلکہ نزاع حقیقی ہوگا جیسا کہ آشکارا ہے۔ اگر بنائے اختلاف ایسا امر ہو کہ اس پراتفاق ہوتاتوحکم پربھی اتفاق ہوتا اس سے معنوی طور پر اختلاف ختم نہیں ہوجاتابلکہ اگرمبنٰی مختلف ہے تواختلاف لازم ہے۔ منح الغفار کی عبارت جیسا کہ شامی میں ہے اس طرح ہے : میں کہتاہوں ، ظاہر یہ ہے کہ سہو نہیں اس لیے کہ انہوں نے جوازتیمم سے اس لیے منع کیا کہ ان کے نزدیك یہی ٹھہرا کہ وہ پانی سے بنتاہے جیسے موتی۔ تواگرحقیقت امریہی ہوتو منع جواز میں کوئی اختلاف نہیں اور قائل جواز نے جائز اس لیے کہا کہ اس کے نزدیك یہی ٹھہرا کہ وہ اجزائے زمین سے ہے تو اگر وہ ایسا ہی ہو تو جواز میں کوئی کلام نہیں۔ جوہرشناسوں کے کلام سے یہ معلوم ہوتاہے کہ اس میں دومشابہتیں پائی جاتی ہیں ایك مشابہت نبات سے ہوتی ہے اور ایك مشابہت معدنیات سے ہوتی ہے۔ ابن الجوزی نے اسے
نابتۃً فی قعرالبحر ذوات عروق واغصان خضر متشعبۃ قائمۃ[5]۱ھ۔ قال ش اقول وحاصلہ المیل الی ماقالہ فی الفتح لعدم تحقق کونہ من اجزاء الارض ومال محشیہ الرملی الی مافی عامۃ الکتب من الجواز وکانّ وجہہ ان کونہ اشجارا فی قعرالبحر لاینافی کونہ من اجزاء الارض لان الاشجار التی لایجوز التیمّم علیہاھی التی تترمد بالنار وھذا حجر کباقی الاحجار یخرج فی البحر علی صورۃ الاشجار فلہذا جزموا فی غامۃ الکتب بالجواز فیتعین المصیر الیہ[6]۔
صاف طورپر بیان کیا۔ وہ لکھتے ہیں کہ یہ عالم نبات وعالم جماد کے درمیان متوسط ہے۔ اپنے تحجر اور پتھر کی طرح ٹھوس ہونے میں جماد کے مشابہ ہے اور اس بات میں نبات کے مشابہ ہے کہ سمندر کی گہرائی میں اس کے ، رگوں اور پھوٹی ہوئی کھڑی ہری ہری ڈالیوں والے اُگنے والے درخت ہوتے ہیں۔ ۱ھ۔ (ت)
[1] تبیین الحقائق باب التیمم مطبع الامیریہ مصر ۱ / ۳۹
[2] فتاوٰی ہندیہ فصل فیمایجوزبہ التیمم نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۷
[3] حلیہ
[4] خادمی للعبدالحلیم خادمی باب التیمم مطبع درسعادۃ مصر ۱ / ۳۶
[5] ردالمحتار باب التیمم مطبع مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۷۶
[6] ردالمحتار باب التیمم مطبع مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۷۶
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع