دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 3 | فتاوی رضویہ جلد ۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۳

اقول : ان دونوں عبارتوں سے بہتروہ ہے جو ان کی شرح جامع صغیر میں ہے کہ “ صحیح جواب یہ ہے کہ راکھ سے تیمم جائز نہیں اس لیے کہ وہ اجزائے زمین

الارض [1] اھ لشمولہ رماد کل مالیس من جنس الارض۔

فان قلت ماالترمد(۱) الاذھاب الاجزاء الرطبۃ وبقاء الیابسۃ ومعلوم ان الناریۃ لاتبقی فماھی الاجزاء ارضیۃ فلم لایجوز التیمّم بھا۔

اقول :  کانہ الٰی ھذا نظر الامام الصفار والصوب ان البسائط لاتبقی علی حقائقھا فی امثال المرکبات فکما ان مائیۃ تقطر من الشجر لیست من اجزاء الماء حتی لم یجزاالتوضی بہا فکذلك الرماد لیست من اجزاء الارض بل اجزاء ذلك الشیئ بعد جانقلاب الاعیان فلم یجز التیمّم بہ والیہ یشیر مامراٰنفا عن الامامین ملك العلماء وفقیہ النفس رحمہھما الله تعالٰی۔                                                

سے نہیں “ ۱ھ۔ اس لیے کہ یہ عبارت ہر اس چیزکی راکھ کو شامل ہے جو جنس زمین سے نہیں۔

اگریہ اعتراض ہو کہ راکھ ہونا یہی توہے کہ تراجزاء ختم ہو جائیں اور خشك اجزاء رہ جائیں اور معلوم ہے کہ ناری اجزاء بھی باقی نہیں رہ جاتے توصرف زمینی اجزاء ہے۔ پھر ان سے تیمم کیوں جائز نہیں؟

میں کہوں گا(اقول) معلوم ہوتاہے کہ اسی امر کی طرف امام صفار نے نظرفرمائی ہے اور صحیح یہ ہے کہ امثال مرکبات میں بسائط اپنی حقیقتوں پرباقی نہیں رہتے جیسے وہ مائیۃ جودرکت سے ٹپکتی ہے پانی کے اجزاء سے نہیں یہاں تك کہ اس سے وضو جائز نہیں تو اسی طرح راکھ  بھی زمین کے اجزاء سے نہیں ، امام فقیہ النفس کے حوالہ سے گزرا ، رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰیتعالٰی۔ (ت)بلکہ اسی شَے کے اجزا انقلاب اعیان کے بعد بھی ہیں تو اس سے تیمم جائز نہیں اسی کی طرف اس کابھی اشارہ ہے جو ابھی امام ملك العلماء اور

بآجر۵ یعنی پکّی اینٹ۔ عامہ کتب مثل خانیہ۱ وخلاصہ۲ وخزانۃ۳ المفتین ومنیہ۴ وسراجیہ۵ وکافی۶ ونہر۷ وغیرہا میں اس سے مطلقًاجواز کی تصریح ہے تبیین۸ الحقائق میں ہے یہی ظاہر الروایۃ ہے ، مختارات۹ النوازل وحلیہ۱۰ وفتح۱۱ وبحر۱۲ جوہندیہ۱۳  میں ہے ، یہی صحیح ہے فتح اللہ۱۴  المعین میں ہے یہی اصح ہے۔

تنبیہ : یہاں تك توکوئی اختلاف عــہ قابلِ لحاظ نہیں کہ جب یہی ظاہرالروایۃاور یہی صحیح ہے

عــہ : روایت خلاف یہ ہے :

فی محیط الشیخ رضی الدین لایجوز

محیط شیخ رضی الدین میں ہے کہ ایك روایت کے مطابق(باقی اگلے صفحہ پر)

تو خلاف کی گنجائش نہ رہی مگرایك صورت خلط کی ہے کہ اس میں غیرجنس ارض سے کوئی شے ملی ہو عامہ مشایخ نے اسے خزف یعنی ٹھیکری میں ذکر فرمایا ، اور فتح القدیر نے خشتِ پختہ میں اقول : ہے یہ کہ اینٹ میں کوئی اور چیز ملاکرپکانے کادستورنہیں اگرخلط ہوگا توخس وخاشاك کا ، اور اب مسئلہ غلبہ مخالط ا س سے متعلق نہ ہوگا کہ اینٹ کی مٹّی میں کوڑا اتنا نہیں ہوتا ، بخلاف خزف جیسے گِلِ خوردنی کے طباق کہ اور خوردنی چیزیں ملاکر پکائے جاتے ہیں بہرحال مسئلہ میں خصوصیت نہ خزف کی ہے نہ آجر کی بلکہ جس مٹّی میں غیرکاخلط ہوگا وہی احکام پیداہوں گے لہٰذا ہم مسئلہ خلط کو مستقل لکھیں گے اِنْ شَآءَاللہ تعالٰی۔

سبخہ۶ یعنی زمین نمك زار۔ اس میں عبارت چار۴طور پرہیں :

(۱) اطلاق جواز خانیہ۱ نوازل۲ خزانہ۳ فتح۴ شرح۵ مختصر الطحاوی منیہ۶ نہر۷ ط۸۔

(۲) اگرآب نمك میں غرق ہوجائز نہیں غنیۃ وقد تقدم وقال ایضا تحت قول المنیۃ السبخۃ بمنزلۃ الملح مانصہ فان غلب علیھا النز لا یجوز التیمّم بہا کالملح المائی وان غلب التراب جاز کالملح الجبلی[2]۱ھ 

(غنیہ۔ اس کاکلام گزرچکا۔ اور منیہ کی عبارت “ السبخۃ بمنزلۃ الملح “ (زمین نمك زار نمك کے درجہ میں ہے) کے تحت غنیہ میں یہ بھی تحریر ہے : “ تواگر اس میں پھوٹنے والی تری کو غلبہ ہو تو اس سے تیمم جائز نہیں جیسے پانی والے نمك سے جائز نہیں اور اگرمٹّی کاغلبہ ہوتوجائز ہے جیسے پہاڑی نمك سے جائز ہے “ ۔ ۱ھ۔ (ت)

اقول  :  اراد التشبیہ فی نفس الجواز

اقول : ان کامقصد صرف جوازوعدمِ جواز

 

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)

بالاٰجرفی روایۃ لانہ بالطبخ تغیر عن حالہ وصار بحال لایوجد مثلہ من جنسہ خلقۃ فی الارض وفی ظاھر الروایۃ یجوز لانہ طین متحجر فیکون کالحجر الاصلی ۱ھ حلیۃ ۱۲منہ غفرلہ (م)

پکّی اینٹ سے تیمم جائز نہیں۔ کیونکہ پکانے کی وجہ سے اپنے حال سے بدل گئی ہے اور ایسے حال پر ہوگئی ہے کہ اس کی جنس سے تخلیق کے اعتبار سے اس کی مثل زمین میں نہیں پائی جاتی۔ اور ظاہر الروایۃ کے مطابق اس سے تیمم جائز ہے کیونکہ یہ کیچڑ والا پتھر ہے ، لہٰذا اس کاحکم اصلی پتھر کی طرح ہوگا۔ (ت)

وعدمہ والافالملح الجبلی نفسہ من جنس الارض لاان التراب غالب فیہ والملح المائی من اجزاء الماء لامن ماء غالب و تراب۔

میں تشبیہ دینا ہے ورنہ پہاڑی نمك توخود جنس زمین سے ہے یہ نہیں کہ اس میں مٹّی غالب ہے اور آبی نمك پانی کے اجزا سے ہے ایسا نہیں کہ آب غالب اور مٹّی سے ملاہوا ہے۔ (ت)

ثم اقول (پھر میں کہتاہوں۔ ت) یہ ضرور مطلقًا ملحوظ ہے اور اطلاق کتب بربنائے غالب احوال کما اشار الیہ فی الغنیۃ (جیسا کہ غنیہ میں اس کی طرف اشارہ کیاہے۔ ت)

(۳) وہ نمك اگرمٹّی سے ہے جائز ہے او ر اگرپانی سے بناہے ناجائز ہے ۱خلاصۃ ۲بحر ۳ھندیہ ۴محیط رضوی ۵خزانۃ الفتاوی ۶حلیہ۔

 



[1]   شرح جامع صغیر للقاضی خان

[2]   غنیۃ المستملی ،  فصل فی التیمم ، مطبع سہیل اکیڈمی لاہور ، ص۷۸

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن