دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 3 | فتاوی رضویہ جلد ۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۳

اقول :  تحقیق یہ ہے کہ مسئلہ فی نفسہا مطلق بالقید ہے کہ زمین وخاك جل کرراکھ نہیں ہوسکتیں ہاں زمین پرکھتی یاگھاس وغیرہ اور اشیاء تھیں او ر وہ جلائی گئیں اور ان کی راکھ خاك سے ملی تویہاں وہ قید غلبہ ملحوظ ہوگی۔ طحطاوی و شامی میں ہے :

ای احترق ماعلیہا من النبات واختلط الرماد بترابہا فحینئذ یعتبر الغالب[1]۔

یعنی زمین پراُگے ہوئے گھاس پودے جل گئے اور زمین کی مٹّی سے راکھ خلط ہوگئی ، ایسی صورت میں جوغالب ہے اس کااعتبار ہوگا۔ (ت)

طحطاوی علی المراقی میں قول مکرر مراقی پرہے :

الاولی الاکتفاء بھذہ عن قولہ سابقا وبالارض المحترقۃ الاان یحمل ماسبق علی ان الارض احرق ترابھا من غیرمخالط[2]۔

اپنی پہلی عبارت “ اور جلی ہوئی زمین “ کی بجائے اسی پر اکتفاکرنابہترتھا۔ مگریہ کہ ماسبق کو اس پرمحمول کریں کہ زمین کی مٹّی کسی اور چیز کی آمیزش کے بغیر جلائی گئی۔ (ت)

بحرالرائق میں ہے :

فی قاضیخان اذا احترقت الارض بالنار ان اختلطت بالرماد یعتبرفیہ الغالب ان کانت الغلبہ للتراب جازبہ التیمّم والافلاوفی فتح القدیر یجوزفی الاصح لم یفصل والظاھر التفصیل[3]۱ھ۔

اقول :  انما (۱) صحح الجواز بارض محترقۃ ولاتفصيل فیہا کما علمت انمایجیئ التفصیل من قبل المخالط ولاذکر لہ ھنا فاذاجاء علی ذکرہ صرح باعتبار الغلبۃ نقلا عن الخانیۃ ھذا۔                                                

قاضیخان میں ہے : جب زمین آگ سے جل جائے تواگروہ راکھ سے مخلوط ہو تو اس میں اعتبار اس کا ہوگا جوغالب ہے۔ اگرمٹی غالب ہے تو اس سے تیمم جائز ہے ورنہ نہیں۔ اور فتح القدیر میں ہے : “ مذہب اصح میں جائز ہے “ انہوں نے تفصیل نہ کی اور ظاہریہ ہے کہ تفصیل ہونی چاہئے ۱ھ(ت)

اقول : انہوں نے جلی ہوئی زمین ہی سے توجواز کوصحیح بتایا ہے ، یقینا اس میں کوئی تفصیل نہیں جیسا کہ معلوم ہوچکا۔ تفصیل تومخالط کی جہت سے ہوتی ہے اور اس کایہاں کوئی ذکرہی نہیں۔ جب اس کے ذکرپرآئے توبہ نقل خانیہ اعتبار غلبہ کی صراحت فرمائی۔ یہ ذہن نشین رہے۔ (ت)

وماذکرالشرنبلالی فی الطین المحرق فاقول (۱) یتراای لی ان یستثنی منہ مااذا کان السرجین قلیلا ٭واحرق طویلا٭ حتی ذھب عــہ۱ السرقین٭وطھر الطین ٭فان الاحراق عــہ۲  ایضامن المطھرات بالیقین٭ولیست النار کالشمس والریح عــہ۳ جفیما مر٭بل لاتبقی ولاتذر٭نسأل الله تعالٰی ان یعافینا منہا ومن کل شر٭ 

اور شرنبلالی نے جلائی گئی مٹّی کے بارے میں جو ذکرکیا فاقول اس سے متعلق میراخیال یہ ہے کہ اس سے اس صورت کااستثنا ہوناچاہئے جب گوبرکم رہاہو اور دیرتك جلایاگیاہو یہاں تك کہ گوبر ختم ہوگیا اور مٹّی پاك ہوگئی۔ اس لیے کہ جلانابھی یقینا پاك کرنے والی چیزوں میں ہے اور آگ کامعاملہ دھوپ اور ہواکی طرح نہیں بلکہ يہ جس پرگزرتی ہے کچھ بچاتی چھوڑتی نہیں۔ خداہی سے سوال ہے کہ ہمیں اس سے اور ہرشر سے عافیت عطافرمائے۔ (ت)

رَماد۴ یعنی خاکستر۔ عامہ کتب مثل خانیہ۱ ظہیریہ۲ وسراجیہ۳ وخزانۃ۴ المفتین ومحیط۵ وکافی۶ وصدر۷ الشریعۃ

عــہ۱ :  ان فنی فذالك وان ابقی رمادا فالمعتمد طہارتہ لانقلاب العین والفرض انہ قلیل مغلوب بالتراب ۱۲منہ غفرلہ (م)

عــہ۲ : تنویر رش بماء نجس (اوبال فیہ صبی حلیہ ۱ھ ش) لاباس بالخبز فیہ درمختار بعد ذھاب البلۃ النجسۃ بالنارخانیۃ ۱ھ ش کطین نجس فجعل منہ کوزبعد جعلہ علی النارتنویر ؤ[4] ۱۲منہ غفرلہ (م)

عــہ۳ :  یرید ماتقدم فی صدرالرسالۃ عن ملك العلماء ان احراق الشمس ونسف الریاح اثرھا فی تقلیل النجاسۃ دون استئصالہا ۱۲منہ غفرلہ (م)

اگرختم ہوگیا تب توصرف مٹّی رہی۔ اور اگر راکھ ہوکر رہ گیا تو معتمد یہ ہے کہ وہ پاك ہے اس لیے کہ گوبر مٹی سے بدل گیا۔ فرض یہ کیاگیا ہے کہ گوبر کم اور مٹّی سے مغلوب ہے۔ ۱۲منہ غفرلہ(ت)

کسی تنّور میں نجس پانی چھڑکاگیا(یااس میں کسی بچے نے پیشاب کردیا۔ حلیہ۱ھ ش) تو اس کے اندر روٹی پکانے میں کوئی حرج نہیں۔ درمختار۔ اس کے بعد کہ آگ سے ناپاك تری ختم ہوچکی ہو۔ خانیہ۱ھ ش۔ جیسے وہ مٹّی جوناپاك ہوگئی پھر اس سے آگ پرپکار کوزہ تیارکیاگیا۔ تنویر۔ (ت)

اس سے اس کی طرف اشارہ مقصود ہے جوشروع رسالہ میں ملك العلماء کے حوالہ سے گزرا کہ نجاست دھوپ کے جلانے اور ہواکے اڑانے سے کم ہوجاتی ہے ختم نہیں ہوجاتی۔ ۱۲منہ غفرلہ(ت)

ومنیہ۸ ودرایہ۹ وشلبیہ۱۰ وجوہر ہ۱۱ وبحر۱۲ وہنديہ۱۳ وغیرہا میں اس سے عدم جواز کی تصریح ہے حلیہ۱۴ میں شرح ۱۵جامع صغیرامام قاضیخان سے ہے یہی صحیح ہے بدائع۱۶ وخلاصہ۱۷ میں ہے ا س پراجماع ہے لکن فی البرجندی عن النصاب قال ابوالقاسم یجوزوابونصرلاوبہ ناخز[5] ۱ھ۔ (لیکن برجندی میں نصاب کے حوالہ سے لکھا ہے : “ ابوالقاسم نے فرمایا : جائز ہے۔ اور ابونصر نے فرمایا : ناجائز ہے۔ اور ہم اس کولیتے ہیں “ ۔ ۱ھ۔ ت)

اقول :   النصاب(۱) والخلاصۃ لامام واح ولفظہ فیھا بالاٰجر یجوز عند ابی حنیفۃ وعن محمد روایتان وقول ابی یوسف متردد واجمعوا انہ لوتیمّم بالرماد لایجوز[6] اھ فالکنایۃ للائمۃ الثلثۃ رضی الله تعالٰی عنھم فلاینفی خلاف بعض المشایخ وما استنبط البرجندی عن زاد الفقہاء قدمنا مافیہ۔                                            

 



[1]   ردالمحتار باب التیمم مطبع مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۷۷

[2]   مراقی الفلاح   باب التیمم مطبع الازہریہ مصر ص ۶۸

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن