دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 3 | فتاوی رضویہ جلد ۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۳

ولہٰذا تصریح۱  فرماتے ہیں کہ یہ ترکیب اس وقت ہے کہ ابھی نماز کے وقت میں اتنی وسعت ہو اور اگردیکھے کہ ایسا کرے گا تو اس کے خشك ہونے تك نماز کاوقت جاتارہے گا تولازم ہے کہ یونہی کیچڑ سے تیمم کرکے نماز پڑھ لے وقت نہ جانےدے اقول : مگر اب۱  لازم ہوگا کہ دونوں ہتھیلیاں باہم خوب ملے رگڑے کہ جہاں تك ممکن ہو کیچڑ چھوٹ جائے اور جو حصہ رہے خشکی پر آجائے کہ جب غبار وزمین خشك پرہاتھ مار کر جھاڑنا اور اثرِ خاك سے صاف کردینا سنّت ہو تو یہاں وجوب چاہئے نیز تصریح فرماتے ہیں کہ اگرکسی نے ایسا نہ کیا اور کیچڑ سے تیمم کرلیا براکیا مگرتیمم ہوگیا ، خلاصہ سے گزرا :

مع ھذا الوتیمم بالطین فھو علی الخلاف [1] اھ ای صح عندالامام والثالث خلافا للثانی رضی الله تعالٰی عنہم۔

اس کے باوجود اگرکیچڑ سے تیمم کرلیا تو اس میں اختلاف ہے۱ھ۔ یعنی امام اعظم و امام محمد کے نزدیك جائزہے ، امام ابویوسف کے نزدیك اس کے برخلاف ہے الله تعالٰی ان سبھی حضرات سے راضی ہو۔ (ت)

وجیز کردری میں ہے :

لابالطین بل یلطخ جسدہ بہ فاذا جف تیمّم ومع ھذا الوتیمم بہ فعلہ ھذالخلاف[2]۔

کیچڑ سے تیمم جائز نہیں بلکہ اپنے جس کے کسی ایك حصے پرکیچڑلگائے خشك ہونے پر اس سے تیمم کرلے ، اس کے باوجود اگرکیچڑ سے تیمم کرلیا تو اس میں یہی اختلاف ہے۔ (ت)

ولو الجیہ پھر رملی علی البحر پھر منحۃ الخالق میں ہے :

عند ابی حنیفۃ ان خاف ذھاب الوقت تیمّم بالطین لان التیمّم بالطین عندہ جائز لانہ من اجزاء الارض

امام ابوحنیفہ کے نزدیك یہ حکم ہے کہ اگروقت نکلنے کااندیشہ ہو توکیچڑ سے تیمم کرلے کیونکہ ان کے نزدیك کیچڑ سے تیمم جائز ہے اس لیے کہ وہ اجزائے زمین

الاانہ لایتیمم قبل خوف ذھاب الوقت کیلا یتلطخ بوجھہ فیصیر بمعنی المثلۃ[3]۔

سے ہے لیکن وقت نکلنے کااندیشہ سے پہلے اس سے تیمم نہ کرے تاکہ چہرہ اس سے آلودہ ہوکر مُثلہ کے معنی میں نہ جائے۔ (ت)

بدائع و ہندیہ میں ہے :

لوکان فی طین وردغۃ لایجد ماء ولاصعیدا ولیس فی ثوبہ وسرجہ غبار یلطخ ثوبہ اوبعض جسدہ بالطین فاذا جف تيمّم بہ ولاینبغی ان یتیمّم مالم یخف ذھاب الوقت لان فیہ تلطخ الوجہ من غیر ضرورۃ فیصیر بمعنی المثلۃ وان یتیمّم بہ اجزأہ عند ابی حنیفۃ و محمد رضی الله تعالٰی عنھما الٰی اٰخر ماقدمنا[4]۔  

کیچڑ اور دلدل میں ہو نہ پانی دستیاب ہے نہ مٹّی ، نہ کپڑے یازِین پرغبار ہی ہے تواپنے کپڑے یاجسم کے کسی حصّے پرکیچڑ لگالے ، جب خشك ہوجائے تو اس سے تیمم کرے اور جب تك وقت نکلنے کااندیشہ نہ ہو اس سے تیمم نہیں کرنا چاہئے کیونکہ اس میں بلاضرورت ِ چہرہ آلودہ ہوکر مثلہ (صورت بگاڑنے) کے معنی میں ہوجاتاہے اور اگر اس سے تیمم کرلیا تو امام ابوحنیفہ و امام محمد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکے نزدیك کافی ہوگا۔ آخر عبارت تك جو ہم پہلے نقل کرآئے۔ (ت)

فتاوٰی امام قاضیخان میں ہے :

ذکر شمس الائمۃ الحلوانی رحمہ الله تعالٰی انہ لاینبغی ان یتیمّم بالطین لان فیہ تلطیخ الوجہ ولوفعل جاز[5]۔

شمس الائمہ حلوانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے ذکر فرمایا ہے کہ کیچڑ سےتیمم نہیں کرنا چاہئے اس لیے کہ اس میں چہرہ کی آلودگی ہوتی ہے اور اگرکرہی لیاجائے تو جائز ہے۔ (ت)

اقول : انہی ۱  عبارات سے ظاہوہوا کہ بحال گنجائش وقت اس ترکیب پرعمل صرف مستحب نہیں بلکہ واجب ہے کہ جب وہ معنی مُثلہ میں ہے اور مثلہ حرام قطعی توجو اس کے معنی میں ہے لااقل مکروہ تحریمی۔

وبہ۲  ظھر ضعف ماوقع فی الحلیۃ حیث

اسی سے اس کاضعیف ہونا عیاں ہوجاتاہے۔

قال وعلی ھذالا یلزم المسافر ماذکر بل یستحب لہ ذلك ولفظ البدائع (فذکر مانقلنا عنہا) وکأنہ یستشھد بقولھا لاینبغی ان یتیمّم ومثلہ قول شمس الائمۃ۔

اقول :  ان کان (۱)لہذا میل الی عدم الوجوب فقول الخانیۃ والخلاصۃ والبزازیۃ ولوالجیۃ والمبتغی بل وشمس الائمۃ ایضا علی روایۃ المنیۃ لایتیمّم بالطین [6] ظاھر فی الوجوب فان استویا وجب الرجوع الی الدلیل وھو قاض بالوجوب کما علمت لاجرم ان صرح فی المنیۃ وغیرھا بلفظۃ لایجوز کما ستسمع وقال العلامۃ الخیر الرملی کما فی المنحۃ لما کان فی معنی المثلۃ وجب تاخیر فعلہ الی ذلك الوقت لئلا یباشر ماھو فی معنی المثلۃ لغیر ضرورۃ[7] اھ

اقول  : لکن یعکر علیہ ان لووجب الاوجب عدم التیمّم بہ الابعد الجفاف وان خرج الوقت                 جوحلیہ میں لکھ دیاہے کہ : اس بنیاد پر عمل مذکور مسافر کے لیے لازم نہیں بلکہ مستحب ہے اور بدائع کی عبارت یہ ہے (اس کے بعد بدائع کی وہ عبارت ذکر کی جوابھی ہم نے اس سے نقل کی) معلوم ہوتاہے کہ وہ بدائع کے الفاظ لاینبغی ان یتیمّم (تیمم نہیں کرناچاہئے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ) سے شہادت پیش کرناچاہتے ، شمس الائمہ کے الفاظ بھی اسی کے مثل ہیں۔ (ت)

 



[1]   خلاصۃ الفتاوٰی فیما یجوزبہ التیمم مطع نولکشور لکھنؤ ۱ / ۳۶

[2]   فتاوٰی بزازیہ علی حاشیۃ الہندیۃ الخامس فی التیمم مطبع نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۱۷

[3]   منحۃ الخالق علی البحر باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۴۸

[4]   فتاوٰی عالمگیری باب التیمم مطبع نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۷

[5]   فتاوٰی قاضیخان فیمایجوزبہ التیمم مطبع نولکشورلکھنؤ ۱ / ۲۹

[6]   منیۃ المصلی  باب التیمم مطبع عزیزیہ کشمیری بازار لاہور ص۱۶

[7]   منحۃ الخالق علی البحرالرائق باب التیمم مطبع ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۴۸

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن