دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 3 | فتاوی رضویہ جلد ۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۳

اقول :  لکن الروایتین انما ھما الجواز مطلقًا والجواز بشرط الالتزاق(۱) اما عدم الجواز بالطین مطلقًا فی روایۃ عن محمد کما ذکر عن النھایۃ فلیس ظاھر

الخلاصۃ ولامتوھما منھا ثمّ لا(۲) شك

جیسے ملك العلماء کاکلام ہے۔

پھر دھلے ہوئے پتھر او رپکّی اینٹ کے مسئلوں سے یہ افادہ فرمایا کہ امام محمد اپنی ایك روایت میں امام اعظم کے موافق ہیں کہ ہاتھ سے کچھ چپکنا شر ط نہیں۔ پھر خزف کے مسئلہ میں بھی اختلاف کاحوالہ دیا اور ظاہریہی ہے کہ اس سے مراد وہی اختلاف ہے جوپکّی اینٹ کے بارے میں ذکر ہوا کیونکہ اسی کے بعد اسے ذکرکیا ہے اور اس لئے بھی کہ دونوں میں یہ علّت مشترك ہے کہ دونوں ہی سے کوئی ایسی چیز الگ نہیں ہوتی جو ہاتھ سے چپك جائے۔ اس سے یہ بھی مستفاد ہوا کہ خزف میں بھی امام محمدسے دو۲ روایتیں ہیں ایك روایت میں مطلقًا جائز ہے جیسا کہ امام اعظم کا مذہب ہے اور دوسری روایت میں جائزنہیں مگر اسی وقت جب کہ خزف پسا ہوا ہو یا اس پرغبار ہو جیسا کہ پتھر سے متعلق ذکرکیا اور یہی ان کی مشہور روایت ہے۔ پھرانہوں نے تری والی زمین کے مسئلوں میں بھی اسی اختلاف کاحوالہ دیا جوخزف میں ذکرہو ا اس سے یہ اخذ ہوتاہے کہ امام محمد سے ان دونوں کے بارے میں بھی دو۲ روایتیں ہیں __حلیہ کی عبارت “ کما ھوظاھر الخلاصۃ “ (جیسا کہ خلاصہ کے ظاہر سے معلوم ہوتاہے) کایہ مطلب ہوا (جوعبارت خلاصہ کی تفصیل کرکے ہم نے واضح کیا)۔ (ت)

اقول : لیکن یہ دو روایتیں کیاہیں؟ یہی کہ مطلقًا جواز ہے یاچپکنے کی شرط کے ساتھ جواز ہے مگریہ کہ امام محمدسے کسی روایت میں کیچڑ سے مطلقًا عدمِ جواز منقول ہے جیسا کہ حلیہ نے نہایہ کے حوالہ سے ذکر کیا یہ بات نہ توخلاصہ کے ظاہر سے مستفاد ہوتی ہے نہ ہی اس کااس سے وہم ہوتاہے۔ پھر یہ امریقینی ہے

ان الطین یلتزق منہ شیئ بالید کما افادہ ملك العلماء فتتفق الروایتان علی الجواز ولایبقی محل لاستدراکہ علی البدائع بالخلاصۃ لعدم دلالتھا علی روایۃ اخرٰی ولا(۱) بالنھایۃ اذلاملتفت الی النوادر مع الظواھر وانما کان قصاراہ ان یقول ماذکرہ عن محمد ھو مذھبہ ویروی عنہ خلافہ علی مافی النھایۃ اذا عرفت ھذا وقد استقرعرش التحقیق علی ان الروایات الظاھرۃ عن محمد متفقۃ علی جواز التیمّم بالطین فقول(۲) البرجندی عندھما لایجوز لیس کما ینبغی۔ ھذا ثم قال فی الحلیۃ تیمم بارض قدرش علیہا الماء وبقی لھاندوۃ جازکذا فی الفتاوی الخانیۃ وغیرھا وفی خزانۃ الفتاوی لوتیمم بالثرٰی ان کان الی الجاف اقرب جاز وان کان الی البلل اقرب لایجوز [1]اھ

اقول :  نفس البلل لایمنع التیمم کما علمت من تظافر المعتمدات علیہ فکیف مایقرب منہ فیجب                          کہ کیچڑ سے ہاتھ میں کچھ ضرور چپکتاہے جیسا کہ ملك العلماء نے افادہ فرمایا تودونوں ہی روایتیں (کیچڑ سے تیمم کے) جواز پرمتفق ثابت ہوئیں۔ اور خلاصہ کے حوالہ سے بدائع پراستدراك کی کوئی گنجائش نہ رہی۔ اس لیے کہ عبارت خلاصہ کی اور روایت کاکوئی پتا نہیں دیتی۔ اسی طرح نہایہ کے حوالہ سے بھی استدراك کاموقع نہیں اس لیے کاظاہر روایۃ کے ہوتے ہوئے نوادرقابلِ التفات نہیں۔ صاحب حلیہ زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے تھے کہ “ ملك العماء نے امام محمد سے جونقل کیا وہ امام محمد کامذہب ہے اور ان سے اس کے خلاف بھی ایك روایت آئی ہے جیساکہ نہایہ میں ہے “ جب یہ بات معلوم ہوگئی اور عرش تحقیق اس پر مستقر ہوا کہ امام محمدسے نقل شدہ ظاہرروایات کیچڑ سے جوازتیمم پرمتفق ہیں توبرجندی کایہ لکھنا کہ “ صاحبین کے نزدیك ناجائز ہے “ مناسب نہیں (یعنی امام ابویوسف کی طرح اسے امام محمدکابھی مذہب قراردے دینا درست نہیں۱۲م الف) یہ ذہن نشین رہے۔ پھرحلیہ میں یہ لکھا ہے : “ ایسی زمین سے تیمم جائز ہے جس پرپانی چھڑکاگیاتھا اور نمی رہ گئی ہے۔ فتاوٰی خانیہ وغیرہا میں ایسا ہی ہے۔ اور خزانۃ الفتاوٰی میں ہے کہ : نمناك مٹّی سے تیمم کیا تو وہ اگرخشك ہونے سے زیادہ قریب ہوتوجائز ہے اور اگرترہونے سے زیادہ قریب ہوتوناجائز ہے۱ھ۔ (ت)

اقول : خود تری تیمم سے مانع نہیں ، جیسا کہ اس پرکتب معتمدہ کے باہمی اتفاق سے ناظر پرعیاں ہوچکا ہے توجومٹّی تری سے قریب ہو وہ کیونکر تیمم سے مانع ہوگی؟

حمل الجواز فیہ علی معنی الحل ای ان کان اقرب ال البلل بحیث یلطخ الوجہ لایحل لما فیہ من المثلۃ کما سیأتی۔

لہٰذا ضروری ہے کہ عبارت بالا میں لفظ جواز کو حلّت کے معنی پر محمول کیاجائے۔ یعنی مٹّی اگرتری سے زیادہ قریب ہواس طرح کہ چہرے کوآلودہ کردے تو(تیمم میں اس کااستعمال) حلال نہیں کیوں کہ اس میں مثلہ(صورت بگاڑنا) لازم آئے گا۔ جیسا کہ اس کابیان آرہاہے۔ (ت)

طین یعنی کیچڑ : ۱۔ بدائع ، ۲۔ خلاصہ ، ۳۔ بزازیہ ، ۴۔ ایضاح کرمانی ، ۵۔ معراج الدرایہ ، ۶۔ شلبیہ ، ۷۔ سراجیہ ، ۸۔ والواجیہ ، ۹۔ مبتغی ، ۱۰۔ بحر ، ۱۱۔ نہر ، ۱۲۔ ہندیہ میں جواز تیمم کی تصریح ہے۔

وقدمرت عبارات البدائع والخلاصۃ ومثل الخلاصۃ فی البزازیۃ وعن البدائع نقل فی الھندیۃ ولفظ ابن الشلبی عن الکاکی عن الکرمانی ماذکر فی الاصل انہ یلطخ الثوب بالطین ویتیمّم بعد الجفاف اذاکان فی طین ردغۃ ھوقولہ اما عند ابی حنیفۃ یجوز التیمّم بالطین الرطب اذالم یعلق منہ شیئ [2] ۱ھ۔

اقول :  ای وان لم یعلق منہ شیئ کما سیأتی فی عبارۃ الامام الاجل الکرخی فیکون تصریحا بالخفی لاجل خلاف محمد لیدل علی الظاھر بالاولٰی والجواز بمعنی الحل فیتلق بما اذالم یعلق حذرا عن المثلۃ وفی السراجیۃ لوتیمّم بالطین یجوز۱ھ۔ [3] وزعم البرجندی ان فی      

بدائع اور خلاصہ کی عبارتیں گزرچکیں ، خلاصہ ہی کے مثل بزازیہ میں بھی ہے اور بدائع سے ہندیہ میں نقل کیاہے۔ اور ابن الشلبی کے الفاط کاکی پھرکرمانی سے روایت کرتے ہوئے وہی ہیں جواصل (مبسوط) میں ذکرہوئے کہ آدمی کپڑے پرکیچڑ لگالے اور خشك ہوجانے کے بعد اس سے تیمم کرے جب سخت کیچڑوالی زمین میں ہو۔ یہ امام محمد کاقول ہے۔ لیکن امام ابوحنیفہ کے نزدیك ترکیچڑ سے تیمم جائز ہے جب اس میں سے کچھ بدن پر نہ چپکے۱ھ۔ (ت)

اقول : مراد یہ ہے کہ اگرچہ اس میں سے کچھ بدن پرنہ چپکے جیسا کہ عن قریب امام اجل کرخی کی عبارت میں آرہا ہے تویہ امام محمد کے خلاف کی وجہ سے خفی بات کی صراحت کردیتاہے تاکہ ظاہربات پربدرجہ اولٰی دلالت ہو__ یاجواز بمعنی حلّت ہے تونہ چپکنے والی صورت سے اس کاتعلق مثلہ سے بچنے کے لیے ہوگا۔ سراجیہ میں ہے : “ اگرکیچڑ سے تیمم کیاتوجائز

الخلاصۃ لایجوزالتیمّم بالطین بل یلطخ بعض ثیابہ الخ[4]۔

 



[1]   شرح النقایۃ للبرجندی فصل فی التیمم مطبع نولکشوربالسرور ۱ / ۴۷

[2]   حاشیۃ الشلبیۃ مع التبیین باب التیمم مطبوعہ امیریہ بولاق مصر ۱ / ۳۹

[3]   فتاوی سراجیۃ  باب التیمم مطبوعہ نولکشورلکھنو ص ۷

[4]   شرح النقایۃ للبرجندی فصل فی التیمم مطبوعہ نولکشورلکھنؤ ۱ / ۴۷

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن