دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 3 | فتاوی رضویہ جلد ۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۳

(۱۶۶) سنگِ شجری ، درخت کی اسی جھلك نظرآتی ہے۔ زیور میں جڑاجاتاہے۔
(
۱۶۷) سنگِ سنہرا مشابہ پکھراج مگرااس سے ہلکا۔ یہ بھی جڑائی میں کام آتاہے۔
(
۱۶۸) بُسَدّ کہ مستقل پتھر ہے یابیخ مرجان۔ بہرحال قابل تیمم ہے۔
(
۱۶۹) دَہنج یعنی دَہنَہ فِرِنْدی جسے لوگ دہن فرنگ بولتے ہیں۔
(
۱۷۰) عینُ الہِر یعنی لہسنیا۔
(
۱۷۱) جزع یعنی مہرہ یمانی۔
(
۱۷۲) دانہ سلیمانی۔
(
۱۷۳) سبز ،              (۱۷۴)خاکی ،             (۱۷۵)سنہری ہرتال۔

زرنیخ سات قسم ہوتی ہے چارقسمیں حلیہ وغنیہ سے گزریں تکمیل عــہ۲کے لئے ہم نے انہیں اضافہ کیا ورنہ اس طرح

عــہ۱ :  اس میں آٹھ پتھر ہیں : یاقوت ، پنّایعنی زمرد ، نیلم ، پکھراج ، لہسنیا ، مونگا ، ہیرا ، گئو سیندك اور نواں موتی۔ ۱۲منہ غفرلہ(م)

عــہ۲ :  شاید حلیہ و غنیہ نے ہڑتال کی سبز قسم اس لئے ترك فرمائی کہ کمیاب ہے۔ تذکرہ میں ہے :

(زرنیخ) خمسۃ اصناف اصفر وھواشرفہا واحمریلیہ فی الشرف وابیج یسمی زرنیخ والنورۃ ودواء الشعر وھذا اوطی الانوع واخضر اقلہا وجودا ونفعا واسود اشدھا حدۃ واکثرھا کبریتیۃ [1]اھ۔

اقول :   وماقال فی الاخضر فہو عکس المعہودفان المعہود ان عزیز النفع عزز الوجود والله تعالٰی اعلم۔

ہڑتال کی پانچ قسمیں ہیں : (۱) زرد۔ یہ ساری قسموں سے بہتر ہوتی ہے۔ (۲) سرخ۔ عمدگی میں اسی کے قریب ہوتی ہے۔ (۳) سفید۔ اسے زرنیخ ، نورہ اور بال کی دوابھی کہاجاتاہے اور یہ سب سے زیادہ پامال قسم ہے۔ (۴) سبز۔ یہ سب سے کم یاب اور کم نفع ہے۔ (۵) سیاہ۔ یہ حدّت میں سب سے شدید اور کبیریتیت میں سب سے زیادہ ہوتی ہے۱ھ(ت)

اقول : سبز قسم کے بارے میں جوبتایا یہ معہود کے برخلاف ہے اس لئے کہ معہودیہ ہے کہ جوچیز زیادہ نفع بخش ہوتی ہے وہ کم یاب ہوتی ہے اور خدائے برتر خوب جاننے والا ہے۔ (ت)

مشہور یہی پانچ قسمیں ہیں اور خاکی او رسنہری ابن البیطار نے کتاب الاحجارسے نقل کیں۔ (م)

اقسام گنی جائیں توشمار بہت ہومثلًا کبریت بھی زرد ، سرخ ، سیاہ ، سفید ، زردمائل ، سبزی مائل بکبووی ، پچرنگی متعدد اقسام کی ہوتی ہے۔ اور درزی کی بٹیا شمار فرمائی۔

(۱۷۶) توسِل (۱۷۷) بٹا
(
۱۷۸) چکّی کے پاٹ (۱۷۹) تولنے کے باٹ کہ پتھر کے ہوں۔
(
۱۸۰) کھرل کیوں نہ معدود ہوں۔

اقول : مگریہاں ایك دقیقہ ہے جس کاذکر کتب میں نظر سے نہ گزرا بعض ۱  پتھر پیدائشی یا ان میں دانت پیدا کرنے سے ایك سمت میں ایسے کھدڑے ناہموار ہوتے ہیں کہ ان پرکفدست کی ضرب سے ہتھیلی کی پوری سطح پتھر سے مس نہ کرے گی اس صورت میں اگر اکثر کف کو مس نہ ہو ا تیمم صحیح نہ ہوگا لہٰذا قبال وادبار جن کاذکر حواشی میں گزرا یعنی ہاتھ جنسِ ارض پرملنا آگے لے جانا پیچھے لانا کہ سنّت تھا یہان فرض ہوگا کہ تمام کف یاکم ازکم اکثر کو پتھر سے مس ہوجائے ، یہی حکم کنکریاں ناہموار زمین وغیرہ میں ملحوظ رہنالازم۔

ثم اقول : وہ حکم کہ ان شاء الله الکریم آگے آتا ہے کہ چہرہ وہردودست کو اکثر کف سے مسح کرنا ضرور ہے یہاں ۲  اگرجنس ارض پرخود اکثرکف ہی کامسح ہوا تولازم ہوگا کہ یہ اکثر تمام وکمال یا اس کااتنا حصہ جس پراکثر صادق آئے چہرہ ہردودست سے مس کرے ورنہ اگرکف سے مسح کیا اور وہ اس حصے سے مل کر اکثر کف ہے جس نے جنسِ ارض سے مس نہ کیاتھا توتیمم نہ ہوگا۔

ثم اقول : وہ جوگزرا۳  کہ کف دست کے لیے جنس ارض پرضرب ہی بس ہے انہیں دوبارہ مسح نہ کرے اس حالت میں ہے کہ پورے کف دست کاجنس ارض سے مس ہوگیا ہو ورنہ اگراکثر کامس ہوا اور اسی اکثر سے چہرہ دہردودست کو مسح کیا تویہ مسح اُن کے لیے کافی سہی خود کفدست کے جو بعض حصّے باقی رہ گئے استیعاب نہ ہوا تیمم نہ ہوا لہٰذا اس صورت میں لازم ہے کہ ہتھیلیوں پربھی ہاتھ پیرے۔

وھذا کلہ وان لم ارہ صحیح واضح ان شاء الله تعالٰی فاحفظ تحفظ والله تعالٰی اعلم۔

یہ سب اگرچہ میری نظر سے نہ گزرا مگران شاء الله تعالٰی صحیح وواضح ہے تو اسے یاد رکھو محفوظ رہو گے اور خدائے تعالٰی خوب جاننے والا ہے۔ (ت)

(۱۸۱) ابرك  عــہ بھی حسبِ ۴  تصریح اہل فن پتھر ہے توضرور کہ اس سے بھی تیمم جائز ہو۔ انوارالاسرارمیں ہے :

 عــہ : یہ لفظ اردو میں یونہی کاف سے ہے فقیر کی رائے میں ممکن کہ اصل ابرق قاف سے ہو براقت سے ماخوذ یعنی نہایت جچمکدار جس طرح فارسی میں ابلق کو ابلك کہتے ہیں۔ ۱۲منہ غفرلہ (م)

حجر الطلق حجر براق مؤلف من ورقات [2]الخ (ابرك کاپتھر ایك چمکدار پتھرہوتاہے جو چندورقوں سے ملاہواہوتاہے۔ ت)جامع ابن بیطارمیں محمد بن عبدون سے ہے :

(طلق) حجر براق یتحلل اذادق الی طاقات صغار دقاق[3]۔

طلق (برک) ایك بہت چمکدار پتھرہوتاہے جب اسے کُوٹاجاتاہے توچھوٹی چھوٹی باریك تہوں میں تحلیل ہوجاتا ہے۔ (ت)

اسی میں دیسقوریدوس سے ہے :

الطلق حجریکون بقبرس شبیہ بالشب الیمانی یتشظی وتتفسخ شظایاہ فسخا و یلقی ذلك الفسخ فی النار ویلتھب ویخرج وھو متقدالاانہ لایتحرق[4]۔

 



[1]   تذکرہ اولی الالباب  حرف الزاء زرنیخ کے تحت مذکور ہے۔ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۷۷۸

[2]   انوارالاسرار

[3]   جامع ابن بیطار

[4]   جامع ابن بیطار

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن