30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فائدہ ۲ : حقیقت سیلان اور اس کا فلسفہ اور جامدوسائل کا فرق اور یہ کہ اگر اُوپر سے نشیب میں مثلًا گیہوں کے دانے اور کوئی تختہ اور پانی گرائیں سب اپنی حرکت بالطبع سے متحرك ہوکر نیچے اُتر جائیں گے مگر ان میں پانی ہی کی حرکت کو سیلان کہیں گے نہ ان دو کی اس کی وجہ کہ اول اجسام منفصلہ کی حرکات عدیدہ ہیں اور دوم جسم واحد کی حرکت واحدہ اور سوم جسم واحد متصل حسّی کے اجزائے متجاورہ کی متوالی حرکات طبیعہ پے درپے کہ انکاك حسّی نہ ہونے دیں اسی کا نام سیلان ہے۔
فائدہ ۳ : رقت مطلق کے معنی اور اس کے مواضع اطلاق۔
فائدہ ۴ : وہ امر اضافی ومقول بالتشکیك ہے۔
فائدہ ۵ : وہ اپنے نفس معنی کے لحاظ سے سیلان کے ساتھ مساوی بلکہ معنی شامل جامدات پر اُس سے عام مطلقًا ہے اور ہنگامِ اضافت عام من وجہ کہ شیر شتربہ اضافت شیربز رقیق نہیں اور سائل ہے اور گلاب کا شیشہ حلبی آئینہ کے اعتبار سے رقیق ہے اور سائل نہیں۔
فائدہ ۶ : مسائل خف وغیرہ میں معنی جرم وعدم جرم۔
فائدہ ۷ : اُن میں معنی مرئی وغیر مرئی۔
فائدہ ۸ : مرئی وغیر مرئی معتبر مسئلہ تطہیر ومسئلہ حوضِ کبیر سے اُن کا فرق۔
فائدہ ۹ : انظار ماہرین کی ان میں انواع انواع لغزش۔
فائدہ ۱۰ : رقت مطلوبہ ومصطلحہ ائمہ کے معنی یہ سب بھی روشن طور پر واضح ہوگئے۔
فائدہ ۱۱ : جرم میں بے جرمی کیونکر ہوتی ہے۔
فائدہ ۱۲ : نیز یہاں کلام ائمہ میں بمعنی تماسک۔
فائدہ ۱۳ : کہ رقت مطلوبہ وبے جرمی ایك شے ہیں اور غلظت یہ کہ بعد ختم سیلان دَل باقی رکھے۔
فائدہ ۱۴ : رقتِ آب غالب ومغلوب یا موجودو مسلوب ہونے سے مراد یہ کہ اُن کا ایك ہی مفاد۔
فائدہ ۱۵ : کہ یہ رقت سیلان سے خاص ہے اور اس کے بعد محل اثبات میں ذکر سیلان کی حاجت نہیں مثلًا یوں کہنا کہ فلاں صورت میں رقت وسیلان باقی رہیں تو وضو جائز ہے ، ہاں یوں کہنے میں حرج نہیں کہ سیلان ورقت باقی رہیں کہ ذکر سیلان ذکر رقت سی مغنی نہیں اگرچہ تنہا ذکر رقت بس ہے تو اطناب ہوا نہ اہمال۔
فائدہ ۱۶ : محل نفی میں ذکر سیلان بحرفِ واو مضر وموہم خلاف مقصود ہے اور بحرف یا کہ تردید کیلئے ہے بیکار۔
فائدہ ۱۷ : کپڑے سے نہ نچڑ سکنا اس رقت سے خاص ہے دُودھ رقیق ہے اور نچڑ نہیں سکتا۔
فائدہ ۱۸ : یہ رقت نہ معنی اضافی ہے نہ اس میں تشکیک۔
فائدہ ۱۹ : پانی میں جرم دار اشیا ملنے کی صورتیں اور اُن کے احکام۔
فائدہ ۲۰جلیلہ(۱) : پانی کی رقت زائل ہونا کچھ جامدات ہی کے خلط پر موقوف نہیں (۲) خلافا لما تظافرت علیہ کلمات الشراح واھل الضابطۃ(یہ اس کے خلاف ہے جس پر شراح حضرات اور اہل ضابطہ کا کلام گزر چکا ہے۔ ت)بلالکہ جرم دار مائعات مثل شہد وشیرہ و رُب و دِبس جب اس سے ایسے ممتزج ہوجائیں کہ بمعنی مذکور جرم دار کردیں ضرور رقت زائل اور طبیعت متبدل ہوجائے گی یہ فائدہ بہت ضروری یاد رکھنے کا ہے کہ فصل آئندہ میں کام دے گا اِن شاء الله تعالٰی یہ ہے وہ تحقیق بازغ کہ مولی عزوجل کے فضل بالغ سے قلبِ فقیر پر فائض ہوئی ولله الحمد حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ کمایحب ربنا ویرضی٭ وصلی الله تعالٰی وبارك وسلم علی الحبیب الکریم الرؤف الرحیم الارضی٭ واٰلہ وصحبہ وابنہ وحزبہ ماعلت سماء ارضا٭ والحمدلله رب العٰلمین۔
غلبہ غیر اس میں تین بحثیں ہیں :
بحث اوّل : کسی امر میں غلبہ مراد ہے۔
اقول : یہاں چار چیزیں ہیں : طبیعت ، اوصاف ، اجزا ، مقاصد۔ اور ان سب کے اعتبار سے غلبہ لیا گیا ہے غلبہ بحسب اوصاف توقول امام محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِتعالٰی ہے جس کا بیان بعونہ تعالٰی آگے آتا ہے باقی تین میں اعتبار غلبہ مجمع علیہ ہے غلبہ بحسب طبع وہی زوال رقت ہے اس کے اعتبار پر اجماع ظاہر اور غلبہ بحسب اجزا کہ خاص مذہب امام ابویوسف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِتعالٰی کہاگیا اور امام۱ برہان الدین عــہ صاحب ہدایہ وامام
عـــہ : ہدایہ میں زیر مسئلہ آبِ زردج فرمایا ھو الصحیح ( یہی صحیح ہے۔ ت) بنایہ میں ہے المروی عن ابی یوسف ھو الصحیح (جو امام ابویوسف سے مروی ہے وہ صحیح ہے۔ ت) نہایہ میں ہے قولہ ھو الصحیح احتراز عن قول محمد(اس کے قول ھو الصحیح سے امام محمد کے قول سے احتراز ہے۔ ت) نیز ہدایہ میں فرمایا الغلبۃ بالاجزاء لابتغیراللون(غلبہ اجزاء کے اعتبار سے تغیر لون سے نہیں۔ ت) بنایہ میں ہے اشار بہ ایضاالٰی نفی قول محمد(اس سے امام محمدکے قول کی نفی کا اشارہ بھی ہے۔ ت) عنایہ میں ہے نفی لقول محمد فانہ یعتبرالغلبۃ بتغیراللون والطعم (امام محمد کے قول کی نفی ہے کیونکہ وہ غلبہ باعتبار تغیرلون وطعم مراد لیتے ہیں۔ ت)کنز میں تھا اوغلب علیہ غیرہ اجزاء (یا اس پر غیر کا غلبہ بطور اجزاء ہو۔ ت) اس پر شارح ہروی نے فرمایا احترازعن قول محمد رحمہ الله تعالٰی اھ (یہ امام محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے قول سے احتراز ہے۔ ت) ۱۲ منہ غفرلہ (م)
قاضی۲ خان وامام ۳شمس الائمہ کردری وامام۴ حافظ الدین نسفی وغیرہم اکابر نے اُس کی تصحیح کی اسی کو درر۵ ودر۶ میں اصح اور منبع۷ میں صحیح اور سراج۸ وہاج وجوہرہ۹ نیرہ وفتاوی۱۰ غزی وفتاوی۱۱ عالمگیریہ میں قول جمہور اور نہایہ۱۲ وعنایہ۱۳ وحلیہ۱۴ وغنیہ۱۵ وبحر۱۶ ونہر۱۷ وغیرہا میں اساتذہ کرام سے منقول وماثور بتایا کماتقدم کل ذلك فی نمرۃ ۱۲۲ ، ۱۰۱ ، ۷۹ (جیسا کہ نمبر ۱۲۲ ، ۱۰۱ اور ۷۹ میں گزر چکا ہے۔ ت) جامع الرموز۱۸ میں ہے اعتبر الغلبۃ من حیث الاجزاء وھو الصحیح لتقدم الجزء علی الوصف فی الاعتبار کمافی حاشیۃ [1] الھدایۃ۱۹ (غلبہ اجزاء کے اعتبار سے ہوگا اور یہی صحیح ہے کیونکہ اعتبار میں جز وصف پر مقدم ہوتا ہے جیسے کہ ہدایہ کے حاشیہ میں ہے۔ ت)( جامع الرموز باب جوہرہ نیرہ میں ہے الاصح ان المعتبر بالاجزاء [2] (اصح یہی ہے کہ اجزاء کا اعتبار ہوگا۔ ت)نیز عنایہ۲۰ سے آتا ہے کہ صحیح قول ابویوسف ہے غایۃ البیان۲۱ میں اسی کو ہمارے ائمہ نے ظاہر الروایۃ بتایاغایہ وعنایہ وبنایہ نے شرح طحاوی۲۲ امام اسبیجابی سے اس کی تائید کی اس کے خلاف یعنی اعتبار اوصاف کو امام کرخی۲۳ وغیرہ اکابر نے خلاف صحیح بتایا۔ بنایہ۲۴ میں ہے الروایۃ الصحیحۃ بخلافھا (روایۃ صحیحہ اس کے خلاف ہے۔ ت) اُسی میں ہے صحۃ الروایۃ بخلافہ کذا عن الکرخی [3] اھ (صحتِ روایت اس کے خلاف ہے ایسا ہی کرخی سے ہے۔ ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع