30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اقول : اس عبارت سے یہ وہم پیداہوتاہے کہ اس مسئلہ میں امام محمد سے کوئی روایتِ اختلاف نہیں ، حالانکہ قول جواز یہ امام محمد سے ایك نادر روایت ہے اور روایت ِ مشہورہ۔ جیسا کہ حلیہ وغیرہا میں ہے۔ یہ ہے کہ اس کے کسی جز کا ہاتھ سے چپکنا شرط ہے۔ اور وجیزکردری میں فرمایاہے
عــہ : وذلك لان التقیید بہ للمشی علی قول محمدمن لزوم التزاق شیئ بالیدولایتأتی الافیما جعل کالدقیق۔ ۱۲منہ غفرلہ(م)
وہ اس لئے کہ اس کی تقیید امام محمد کے قول پرمشی کی وجہ سے ہے کہ ہاتھ میں کچھ چپك جانا ضروری ہے اور یہ اسی میں ہوسکے گا جسے آٹے کی طرح پیس دیاگیا ہو۔ ۱۲منہ غفرلہ (ت)
یداس بہ الثیاب ان لم یصبغ یجوز عندھما بناء علی عدم الشتراط الالتصاق [1]۱ھ۔
اقول : والضمیر فی عندھما للشیخین رضی الله تعالٰی عنہما کما یفھم من سباقہ ویشھد لہ البناء المذکور فقد مشی علی روایۃ الجواز عن ابی یوسف ونسب المشھورۃ عن محمد الیہ خلافا لما فی الخلاصۃ۔
کہ “ سنگِ خیاط یہ ایك پتھر ہوتاہے جس سے کپڑے کو پیٹا جاتاہے اگررنگاہوانہ ہو ، اس سے دونوں حضرات کے نزدیك تیمم جائز ہے اس بنیاد پر کہ چپکنا شرط نہیں ۱ھ(ت)
اقول : دونوں حضرات سے مراد (عندھما کی ضمیرمیں) شیخینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاہیں جیسا کہ ماسبق سے سمجھ میں آتا ہے اور جو بنیاد ذکر کی ہے وہ بھی اس پرشاہد ہے وہ امام ابویوسف کی روایتِ جواز پر چلے ہیں اور امام محمد کی روایتِ مشہورہ ان کی طرف منسوب کی ہے اس کے برخلاف جو خلاصہ میں ہے۔ (ت)
(۴۵) گچ۔ چُونے کاپتھر جسے پھونك کرچُونابناتے ہیں کماسیأتی اصل ، قدوری ، ھدایۃ ، ملتقی ، وکثیر (جیسا کہ عنقریب آئے گا۔ اصل قدوری ، ہدایہ ، ملتقی اور کثیر۔ ت)
(۴۶) گچ کی ہوئی دیوار ، درمختار۔
(۴۷) کلسن چُونا ردالمحتار ، جاز وعلیہ الفتوی نصاب حلیہ (جائز ہے اور اسی پرفتوٰی ہے۔ نصاب ، حلیہ۔ ت) اقول یعنی وہ کہ سنگِ گچ یاسنگِ مرمر کوئی پتھر پھونك کر بناہو۔
(۴۸)۔ پتھر کی راکھ اقول یعنی چونا کہ گزرگیا۔
(۴۹)۔ یاکھنگر کہ اس کاغیر اس سے سخت ترہے۔
(۵۰) یاکوئی پتھر پھونك کرپیس لیاجائے۔
(۵۱) یانرم پتھر پیس کر پھونکاجائے ، یہ سب صورتیں پتھر کی راکھ ہیں اور سب سے تیمم جائز والمسألۃ مرت عن الحلیۃ وخزانۃ الفتاوٰی وجامع الرموز والدر وش وط علی الدر والمراقی (اور یہ مسئلہ حلیہ ، خزانۃ الفتاوٰی ، جامع الرموز ، درمختار ، شامی ، طحطاوی علی الدر اور مراقی الفلاح کے حوالہ سے گزرچکا۔ ت)
(۵۲) نورہ بال اڑانے کانسخہ ہڑتال چوناملاہوا۔ اصل ، قدوری ، ھدایۃ ، ملتقی ، کافی ، تبیین ، فتح ، بحر ، نھر ، مسکین ، مراقی ، نوازل ، خانیۃ ، خلاصۃ ، خزانۃ ، سراجیۃ ، منیۃ ، ھندیۃ ، ط۔ والنورۃ طلاء مرکب من اخلاط یزال بہ الشعر[2]نتائج شبیۃ (نورہ چند خلطوں سے ملاہوا ہے ایك طلا ہے جس سے بال اڑایاجاتاہے۔ نتائج ، شلبیہ۔ ت)
اقول : ورُبما تطلق علی نفس الکلس کما فی التذکرۃ وغیرھا وھذا اولی الجدۃ الافادۃ ومرعن البرجندی مافہمہ عن زادافقہاء ان التیمم بالنورۃ لایجوز لانہ مما یترمّد[3] اقول : ھی (۱) من رماد حجرلاانھا ترمد وقد علمت الجواب۔
اقول : نورہ کبھی خود کلس کوبھی کہاجاتاہے جیسا کہ تذکرہ وغیرہا میں ہے۔ او ریہ زیادہ مناسب ہے تاکہ اس لفظ سے ایك جدید فائدہ حاصل ہو۔ اور برجندی کے حوالہ سے گزرا کہ انہوں نے زادالفقہا سے یہ سمجھا کہ نورہ سے تیمم جائز نہیں اس لئے کہ یہ رماد ہوجاتاہے اقول یہ پتھر کے رماد کاہواہی ہے ایسا نہیں کہ یہ رماد بن جاتاہے اور جواب پہلے بتادیا جا چکاہے۔ (ت)
(۵۳) یاقوت زمرد زبرجد فیروزہ۔ تبیین ، فتح ، حلیہ ، بحر ، نھر ، ھندیہ ، ازہری ، ط۔ زعم بعض النّاس ان الزمرد والزبرجد واحد (اور بعض لوگوں کاخیال یہ ہے کہ زمرد ار زبرجد ایك ہی ہے۔ ت)
اقول : ویردہ(۲) عدھم کلا علی حدۃ وقد قال فی التذکرۃ عند ذکر انواع الزمرد قیل ان منہ نوعا یسمی الصابونی یضرب الی البیاض وفولس یقول انہ من الزبرجد[4] ۱ھ نعم فی الجامع عن ارسطو
اقول : اس خیال کی تردید اس سے ہوتی ہے کہ فقہاء نے ہرایك کوالگ الگ شمار کیاہے۔ تذکرہ میں انواع زمرد کے ذکر میں کہا ہے : کہاگیا ہے کہ اس کی ایك نوع کوصابونی کہاجاتاہے جوسپیدی مائل ہوتاہے اور فولس کاکہنا ہے کہ یہ زبرجد ہی سے ہے ۱ھ۔ ہاں جامع میں ارسطو کے حوالہ سے ہے
الزمرد والزبرجد حجران یقع علیہما اسمان وھما عــہ فی الجنس واحد [5] ۱ھ واتحاد
کہ زمرد اور زبرجددوپتھر ہیں جن کے دونام ہیں اور ان دونوں کی جنس ایك ہے ۱ھ جنس میں
عــہ : وعلیہ یحمل مافی التذکرۃ بلفظ وعن المعلم انہ والزمرد سواء[6] اھ نقلہ عنہ ای عن ارسطو فی التحفۃ والمخزن ان معدنھا واحد۔
اقول : ولایدل علی اتحاد ھما فرب شیئ یتکون فی معدن شیئ اٰخر الاتری انھما یتولدان فی معدن الذھب کما قال ارسطوا ما مافی التذکرہ قال ھرمس لافرق بینھما الاتلون الزبرجد [7] ۱ھ فیحتمل التاویل اوھو قیل اما قول القاموس الزمرد الزبر جد معرب۱ھ فقد قال فی التاج قال التیفاشی فی کتاب الاحجار قال الفراء ان الزبر جد تعریب الزمرد ولیس کذلك بل الزبرجد نوع اٰخرمن الحجارۃ وقال ابن ساعد
اور اسی پروہ محمول ہوگا جوتذکرہ کے اندر ان الفاظ میں ہے : اور معلم سے منقول ہے کہ یہ اور زمرد دونوں برا برہیں۱ھ۔ اور اسے تحفہ اور محزن میں اس سے ---- یعنی ارسطو سے---- یہ نقل کیاہے کہ “ ان دنوں کامعدن ایك ہے “ ۔
[1] فتاوٰی بزازیۃ علٰی حاشیۃ الہندیۃ الخامس التیمم نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۱۷
[2] شلبیۃ مع التبیین باب التیمم مطبعہ امیریہ بولاق مصر ۱ / ۳۸
[3] شرح النقایۃ للبرجندی فصل فی التیمم مطبوعہ نولکشورلکھنؤ ۱ / ۴۷
[4] تذکرہ داؤدانطاکی حرف الزاء زمرد کے تحت مذکور ہے۔ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۸۰
[5] جامع ابن بیطار
[6] تذکرۃ اولی الالباب زبرجد کے تحت مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۷۵
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع