30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اگرسونا ، چاندی ، پیتل ، تانبا ، سیسہ ، آٹا ، شیشہ ، گیہوں ، جَو کسی ایسی چیز سے تیمم کیا جوجوہرِ زمین سے نہیں یازمین ہی کے جوہرسے ہے مگرپگھلانے یاجلانے کے ذریعہ زمین کے جوہر سے نکلی ہے تو اس سے تیمم بالاتفاق جائز نہیں ۱ھ۔ ان کی عبارت “ جوہرزمین سے نہیں “ آٹا ، گیہوں اور جَو سے متعلق ہے اور ان کا قول “ یازمین کے جوہرسے ہے مگر الخ “ باقی چیزوں سے متعلق ہے۔ (ت)
یوں اُن عبارات کی توجیہ ہوجائے گی اور معنی انطباع پرکہ ہم نے تحقیق کئے غبار نہ آئے گا نہ زرنیخ وکبریت یہ سب عبارات متحد ہوگئیں باقی کثیر و وافر عبارات جن میں مثال زجاج نہیں اس نفیس ووجیہ توجیہ سے موجّہ ہیں جوسابق گزری جس سے وہ مذہب جمہورمشہور ومنصور پرماشی ہیں مگرعبارتِ عنایہ کہ اس کا اَوْ اسی توجیہ لاحق پر بنے گا ان دو۲ توجیہوں سے تمام عبارات موجّہ ہوگئیں۔
الاقوال(۱) الدر منطبع کزجاج فلم اجدلہ طبا ونسبتہ وحدہ الی السہوا سھل من نسبۃ سائر الکبراء الیہ ھذا ما عندی فان کان عند غیری احسن من ھذا فلیبدہ بامعان٭ فان المقصود اتباع الحق حیث کانا ٭والله المستعان٭وعلیہ
مگردرمختارکی عبارت “ منطبع کزجاج “ کاکوئی علاج میں نہ پاسکا۔ اور تنہا اسے سہو کی جانب منسوب کرلینا سارے بزرگوں کوسہو پرقرار دینے سے آسان ہے۔ یہ وہ ہے جو میرے خیال میں آیا۔ اگرکسی کے پاس اس سے بہتر ہوتو بنگاہِ غور اس کا اظہار کرے کیونکہ مقصود حق کااتباع ہے حق جہاں بھی ملے اور
التکلان ٭والصّلوۃ والسلام الاتمان الاکملان ٭علی سید الانس والجان ٭واٰلہٖ وصحبہٖ کل حین واٰن ٭والحمد لله رب العٰلمین ٭
خداہی سے مدد طلبی ہے اور اسی پرتوکّل ہے اور تام وکامل درودوسلام اِنس وجِن کے سردار اور سرکار کی آل واصحاب پرہرلمحہ وہرآن۔ اور ساری خوبیاں سارے جہان کے مالك خداہی کے لیے ہیں۔ (ت)
مقامِ دوم (اُن ایك سو اکاسی۱۸۱ چیزون کابیان جن سے تیمم جائز ہے) اُن بعض اشیاء کاشمار جن سے ہمارے عــہ۱ امام جاعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے مذہب میں تیمم جائز ہے انہیں دو۲قسم کریں :
منصوصات ، جن کی تشریح کتابوں میں اس وقت پیش نظر ہے۔
مزیدات کہ فقیر نے اضافہ کیں وکان حقا علی افرازھا کیلا یساق المعقول مساق المنقول (انہیں الگ کرنا میری ذمہ داری جتھی تاکہ معقول کاذکر منقول کی جگہ نہ ہو۔ ت)
منصوصات : نقلِ عبارات میں طول تکرار ہے لہٰذا صرف شمار اسمائے بعض کتب پرقناعت کریں مگر خلافیات یاخفیات ہ اُن مین تکثیر اسمامناسب۔
(۱) خاك کہ اصل الاصول ہے اصل المحرر المذھب ومتون عامۃ (یعنی خاك سے جواز تیمم محرر مذہب امام محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکی مبسوط اور فقہ کے عام متون میں مذکور ہ۔ ت)
پھراگرمُنبت یعنی قابلِ نبات ہو تو اس سے جوازتیمم پراجماعِ اُمت اقول : تومستحب یہ ہے کہ اس کے ملتے اور کسی چیز سے تیمم نہ کرے فان الخروج عن الخلاف مستحب بالاجماع (کیونکہ سرحد خلاف سے نکل آنا بالاجماع مستحب ہے۔ ت)
(۲) ہمارے نزدیك خاك شور بھی جس میں کوئی چیز اُگنے کی صلاحیت نہ ہو خلاصۃ خزانۃ عــہ۲ بزازیۃ
عــہ۱ : خصہ بالذکر لان لمحمد خلافا فی کل مالا یلتزق بالید ولابی یوسف فی جمیع غیرالتراب۱۲منہ غفرلہ(م)
عــہ۲ : المراد بھا خزانۃ المفتین فی ھذہ الفصول حیث اطلق۔ ۱۲منہ غفرلہ (م) صرف ان کاذکر اس لئے ہے کہ امام محمد کا ہراس چیز کے بارے میں اختلاف ہے جوہاتھ سے چپکنے والی نہ ہو۔ اور امام ابویوسف کامٹی کے علاوہ ساری چیزوں میں اختلاف ہے۔ ۱۲منہ غفرلہ(ت)
ان فصلوں میں جہاں بھی خزانہ کاحوالہ آئے اس سے مراد خزانۃ المفتین ہے۔ ۱۲منہ غفرلہ (ت)
مراقی الفلاح[1]۔
(۳) ریتا اصل ومتون عامۃ خلافا لابی یوسف فی قولہ الاٰخر (امام ابویوسف کے قول دوم کے برخلاف۔ ت)
(۴) پتھر مرّعن ۳۳ کتابا(۳۳کتابوں کے حوالہ سے اس کابیان گزرچکا۔ ت) اگرچہ صاف دھلا بے غبار ہو خانیۃ ، خلاصۃ ، مراقی ، در وکثیر۔
(۵) باریك پسا ہویاسالم نوازل خانیۃ بزازیۃ خزانۃ المفتین درھندیۃ وغیرھا وقیدہ فی الشلبیۃ عن المجتبی بالمدقوق
(نوازل ، خانیہ ، بزازیہ ، خزانۃ المفتین ، در ، ہندیہ وغیرہا۔ اور مجتبٰی ، کے حوالہ سے شلبیہ میں اس کے ساتھ “ پسے ہوئے “ کی قیدلگائی۔ ت)
اقول : مشی علی قول محمدمن لزوم ان یلتزق بالید شیئ ومذہب الامام الاطلاق۔
اقول : (میں کہتاہوں) یہ امام محمدکے قول پرگئے ہیں کہ ہاتھ سے کچھ چپك جانا ضروری ہے اور امام اعظم کے مذہب میں یہ قید نہیں۔ (ت)
(۶) غبار متون وعامہ۔ اقول : جبکہ نہ ناپاك خاك سے اُٹھا ہو اگرچہ نجاست کااثر زائل ہوجانے سے نماز کے لئے پاك ہوگئی ہو نہ کسی ترچیز ناپاك پرگرا ہو نہ ناپاك خشك چیز پرگرکر اسے تری پہنچی ہو اگرچہ پھر وہ تری خشك بھی ہوجائے وقد تقدم بعضہ (اس میں سے کچھ کابیان گزرچکا۔ ت)
(۷) ناپاك خشك چیز پرگرا ہواغبارجبکہ اسے تری نہ پہنچے تقدم فی الدروس السالفۃ عن الحلیۃ والنھایۃ والھندیۃ ومثلہ فی الفتح (گزشتہ اسباق میں حلیہ ،
نہایہ ، ہندیہ کے حوالہ سے اس کا بیان گزرا ، اسی کے مثل فتح القدیرمیں بھی ہے۔ ت)
(۸) ترزمین پرجس پرچھڑکاؤ ھُوا کما یأتی (جیسا کہ آرہاہے۔ ت)
(۹) مقبرے کی زمین جبکہ اس کی نجاست مظنون نہ ہو ،
لویتمّم بتراب المقبرۃ ان غلب علی ظنہ نجاسۃ لایجوز وا لا یجوز کما فی السراج [2] ط علی المراقی۔
اگرقبرستان کی مٹی سے تیمم کیا اگر اس کاغالب گمان ہوکہ یہ مٹی نجس ہے توتیمم جائزنہیں ، ورنہ جائز ہے جیسا کہ سراج میں ہے۔ طحطاوی علی المراقی الفلاح۔ (ت)
(۱۰) گردبادبگولا ، اس سے تیمم کے دو۲ طریقے اوپرگزرے خلاصۃ ، بزازیۃ۔
(۱۱) جلی ہوئی زمین قدمرّو یأتی (اس کابیان گزرچکا اور آگے بھی آئے گا۔ ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع