دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 3 | فتاوی رضویہ جلد ۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۳

وفی شرح الجامع الصغیر لقاضی خان یجوز بالکیزان والحباب ویجوز بالذھب والفضۃ والحدید والنحاس ومااشبھھا مادامت علی الارض ولم یصنع منہا شیئ وبعد السبك لایجوز[1]۔

قاضیخان کی شرح جامع صغیر میں ہے : کوزوں اور گھڑوں سے تیمم جائز ہے اور سونے ، چاندی ، لوہے ، تانبے اور ایسی دوسری دھاتوں سے بھی جائز ہے جب تك یہ زمین پر ہوں اور ان سے کوئی چیز بنائی نہ گئی ہو اور ڈھالنے کے بعد ان سے تیمم جائز نہیں۔ (ت)

شرح وقایہ میں ہے :

اما الذھب والفضۃ فلایجوز بھما اذاکانا مسبوکین وان کانا غیرمسبوکین مختلطین بالتراب یجوز [2]۔

سوناچاندی جب ڈھلے ہوئے ہوں توان سے تیمم جائزنہیں اور گلائے پگھلائے نہ گئے ہوں بلکہ مٹی سے ملے ہوئے ہوں توجائز ہے۔ (ت)

عــہ : یرید موازاۃ سائر الاصناف۔ ۱۲منہ غفرلہ(م)

دیگراصناف کامقاب بلہ مقصود ہے۔ ۱۲منہ غفرلہ (ت)

شرح الکنز علامہ عینی پھر شرح سید ازہری پھر طحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے :

قبل السبك یصح التیمّم ماداما فی المعدن وکذاالحدید والنحاس لانھما من جنس الارض[3]۔

ڈھالنے سے پہلے تیمم درست ہے جب تك یہ دونوں اپنی کان میں ہوں۔ یہی حکم لوہے اور تانبے کاہ۔ اس لئے کہ یہ جنسِ زمین سے ہیں۔ (ت)

علامہ ط نے فرمایا :

ذکرہ السّید واطلاق المصنّف کغیرہ یفید المنع مطلقًا لوجود الضابط[4]۔

اسے سیّدازہری نے ذکرکیا۔ اور دوسرے حضرات کی طرح مصنّف کے بھی مطلق بیان کرنے سے مطلقًا ممانعت مستفاد ہوتی ہے کیونکہ ضابطہ موجود ہے۔ (ت)

فتاوٰی ظہیریہ پھرخزانہ المفتین میں ہے :

مالیس من جوھر الارض اوکان من جوھر الارج الاانہ خلص عن جوھرہ بالاذابہ والاحراق فانہ لایجوز بہ التیمم فالذھب والفضۃ والنحاس والحدید ومااشبہ ذلك یجوز بہ التیمّم مادام فی الارض ولم یصنع منہ شیئ فاذا صنع منہ شیئ لم یجزبہ التیمم اذالم یکن علیہ غبار[5]۔ جوزمین کاجوہرنہ ہو یازمین ہی کاجوہرہومگر وہ پگھلانے ، جلانے کے ذریعہ اپنے جوہرواصل سے جداہوگیاہو تواس سے تیمم جائزنہیں۔ تو سونا ، چاندی ، تانبا ، لوہا اور ایسی ہی دوسری چیزوں سے جب تك یہ زمین میں رہیں اور ان سے کچھ نہ بنایاگیاہو ، تیمم جائز ہے جب ان سے کوئی چیزبنادی جائے تواس سے تیمم جائزنہیں جبکہ اس پرغبارنہ ہو۔ (ت)

توحاصل یہ ہوا کہ آگ سے لین واحترق دوہیں ایك متقدم کہ معدنی معدن سے نکالتے وقت اجزائے ارضیہ سے اپنی جدائی میں ان کامحتاج ہو ا ن کے نزدیك یہ مطلقًا اسے جنس ارض سے خارج کردیتے ہیں اگرچہ نہ لین مورث انطباع وانطراق ہو نہ احتراق تاحد ترمُّد دوسرامتأخر کہ اجزائے ارضیہ سے جداوصاف ہونے کے بعد اس شے کی حالت دیکھی جائے یہاں اگراحتراق بحد ترمُّد یالین موجب انطراق کاصالح ہے توجنسِ ارض سے نہیں ورنہ ہے۔ جوچیز بڑے قطعے کان سے نکلے کہ صاف کرنے میں جلانے ، گلانے کی محتاج نہ ہو اس میں وہ  عــہ قاعدہ معیار جاری ہوگا یاقوت وبلور سے تیمم جائز ہوگا اور لوہے سے نہیں اور جوریزہ ریزہ نکلے کہ گلا ، جلاکر صاف کی جائے اس سے بعد صفاوہ مطلقًا ناجائز مانیں گے زجاج اسی قبیل سے ہے کہ وہ ریزہ ریزہ ہی معدن میں ملتا اور آگ پرگلا کر صاف کیاجاتاہے۔ ارسطو نے جو اس کی ایك قسم کومتحجرکہااس بناپر تھا کہ وہ بلور کوبھی نوع زجاج مانتاہے اس کے کلام میں عبارتت مذکورہ کے بعد ہے :

والبلور جنس من الزجاج غیرانہ یصاب فی معدنہ مجتمع الجسم ویصاب الزجاج مفترق الجسم فیجمع کما ذکرنا بحجر المغنیا [6]۱ھ یشیر الی قولہ منہ ماھو رمل فاذا اوقد علیہ النار والقی معہ حجر المغنیسا جمع جسمہ۔

بلورزجاج ہی کی ایك قسم ہے فرق یہ ہے کہ ب لور کاجسم معدن میں مجتمع ملتاہے اور زجاج کاجسم متفرق ملتاہے پھرجیسا کہ ہم نے بتایاسنگ مغنیسا کے ذریعہ جمع کیاجاتاہے۱ھ۔ یہ اشارہ اس عبار ت کی جانب ہے : اس میں سے ایك وہ ہے جوریت ہوتاہے جب اس پر آگ جلائی جاتی ہے او ر اس کے ساتھ سنگِ مغنیسا بھی ڈالاجاتاہے تواس کاجسم مجتمع ہوجاتاہے۔ (ت)

اسی طرح انوارالاسرارمیں ہے مخزن سے گزراسنگے ست ریزہ[7] (ریزہ ریزہ پتھرہوتاہے۔ ت)۔ ولہٰذا ان علمانے لین و

عــہ : اقول قسمیں چار۴ہوئیں :

(۱) نہ اپنے تصفیہ میں احراق وتلیین کامحتاج ہو نہ بعد کومنطرق جیسے یاقوت۔ (۲) تصفیہ میں محتاج نہ ہو اور بعد کو (۳) اس کاعکس کہ تصفیہ میں محتاج ہو اور بعد کو نامنطرق جیسے شیشہ۔ (۴) پہلے بھی محتاج ہو اور بعد کو بھی منطرق جیسے سونا___________________ان کے نزدیك سواقسم اول کے سب جنس ارض سے خارج ہیں دوم میں صرف بربنائے معیار ، سوم میں صرف بربنائے لین متقدم ، چہارم میں اگرچہ دونوں جمع ہیں مگرلین متقدّم۔ اسے جنس ارض سے خارج کرچکا۔ معیار کی حاجت نہیں لہٰذا ہم نے اجزائے معیار کوقسم دوم ہی مین رکھا ، ورنہ وہ اس سے خاص نہیں۔ یہ ان کے طور پرہے اور معتمد صرف لحاظ معیار ، تواول وسوم دونوں جنس ارض ہیں اور دوم وچہارم نہیں والله تعالٰی اعلم۔ ۱۲منہ غفرلہ (م)

انطباع دولفظ کہے لین متقدم کے لئے اور اس کی مثال میں زجاج ہے اور انطباع متأخر کے لئے اس کی مثال میں حدید وغیرہ ہیں آخر نہ دیکھا کہ امام جلیل نسفی نے احتراق کی مثالوں میں رماد بھی ذکرفرمائی اور وہ ہرگز قالب احتراق نہیں لاجرم اس کے لئے احتراق متقدم مراد ہے کہ جلنے سے حاصل ہوئی ، یوں ہی زجاج کے لئے لین اور اس پرشاہد عدل امام طاہر کاخلاصہ میں کلام ہے کہ زجاج کو اسی لین متقدم میں گنا ، فرماتے ہیں :

 



[1]   تبیین الحقائق باب التیمم  مطبعہ امیریہ بولاق مصر ۱ / ۳۹

[2]   شرح الوقایہ مایجوزبہ التیمم مطبوعہ المکتبۃ الرشیدیہ دہلی ۱ / ۹۸

[3]   طحطاوی علی مراقی الفلاح مایجوزبہ التیمم  مطبعہ ازہریہ  ص۶۹

[4]   طحطاوی علی مراقی الفلاح مایجوزبہ التیمم مطبعہ ازہریہ  ص۶۹

[5]   خزانۃ المفتین

[6]   جامع ابن بیطار

[7]   مخزن الادویہ فصل الزاء مع الجیم مطبوعہ نولکشورلکھنؤ ص۳۲۰

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن