30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حل اشکالات وتطبیقِ عبارات : اشکالوں کااٹھانا اورعبارتون کامتفق کردکھانا۔
بحمدہ تعالٰی ہمارے ان بیانات سے الفاظِ خمسہ کے معانی مقصودہ اور ان کی نسبتیں ظاہرہوگئیں کہ احتراق۱ عین ترمُّد ہے اور ترمّد۲ بمعنی اوسط اور ۳لین وانطباع وذوبان سب کاحاصل انطراق ، صلاحیت۴ لین وانطباع متلازم فی الوجود ہیں اور ان کے مشتق متساوی فی الصدق اور ۵صلوح ذوبان بھی ظاہرًا ان دونوں کالازم وملزوم اور ان کااس سے مطلقًا عموم بھی ایك احتمال غیرمعلوم۔ اب بارہ۱۲ عبارات اعنی باستثنائے دو۲پیشین اول موردایراد اور دوم باطل ہے سب کاحاصل دو۲وصفوں کااعتبار ہوا ترمّد وانطراق پانچوں وصف انہیں دو۲ کی طرف راجع ہوگئے اور بفضلہ تعالٰی اتنے فائدے ظاہرہوئے :
(۱) انطباع کی لین سے تفسیر کہ درر نے کی صحیح اور تفسیر بالمساوی ہے۔
(۲)تقطیع ولین سے اس کی تفسیر کہ منح نے کی اس کے خلاف نہیں ، صرف اصل مفہوم انطباع یعنی قابلیت عمل کااس میں اظہار فرمادیا ونعم فعل (اور کیاہی اچھاکیا۔ ت)
(۳) یلین وینطبع خواہ ینطبع ویلین ہرایك میں ایضاح کے لئے جمع متساوین ہے ان میں نہ اتحاد مصداق باطل نہ جمع ہیں ایہام غلط نہ کوئی لغویت نہ تفسیر بالاخفی۔
(۴) اظہرتساوی انطباع وذوبان ہے توبدستور یذوب وینطبع خواہ ینطبع ویذوب ایك ہی بات ہے اور اجتماع مثل جمع ولین وانطباع البتہ اگرعموم انطباع ثابت ہوتو عبارات نہم ودہم ویازدہم نیزعبارات شمس الائمہ وظہیریہ وخانیہ وخزانۃ المفتین میں جمع ذوبان وانطباع یاذوبان ولین ضرور موہم غلط ہوگا کہ اب جنسیت ارض وجود ذوبان پرموقوف رہے گی حالانکہ مجروانطباع سے حاصل لاجرم واوبمعنی اَوْ لینا ہوگا اور ذکر ذوبان ضائع۔ ان اکابر سے اس کا صدور ہمارے اس استظہار کی صحت پر دلیل ہے کہ ذوبان بھی ملازم انطباع ہے۔
(۵) عبارت ششم میں ایك طرف اضافۂ انطباع دوسری طرف ترك کاحاصل ایك ہی ایضاحًا بڑھایا اور ایجازًا کم کیا۔
(۶) یوں ہی عبارت سیزدہم میں ترك وذکرلین۔
(۷) ینطبع ویلین میں نفع ایضاح مراد ہے کہ لفظ انطباع قلیل السماع اور یلین وینطبع میں ازاعت وہم ہے کہ توہم لیں بمعنی عام کااندفاع۔
(۸) یوں ہی ذوبان وانطباع کی تقدیم وتاخیر میں۔
(۹) عبارت یازدہم میں خوبی یہ ہے کہ قسم دوم میں نار کے دونوں اثراصلی لے لیے اگرچہ ذکرلین کافی تھا۔
(۱۰) سوم وچہارم وچہاردہم میں نفع ایجاز ہے کہ ملزومات ثلٰثہ انطراق سے صرف ایك لیا کہ دلالت علٰی المقصود پربس تھا باقیوں کامسلك ایضاح کے لیے اطناب۔
(۱۱) عبارت عنایہ میں برخلاف کل اومساحت ہے یاالف زیادت ناسخ یااوتکییر فی التعبیر کے لیے یعنی ینطع کہو یایلین حاصل ایك ہے۔
(۱۲) غرر میں بعد وھو لفظ مابڑھنا چاہیے اور دُرر میں پہلا اوگھٹنا کہ وہ جنس کی تفسیر ہوجائے اور یہ غیرجنس کابیان والله تعالٰی اعلم۔
نقوض جمع کادفع(۱۳) کبریت وزرنیخ منطرق نہیں تومنطبع کہاں۔
(۱۴) یہاں ترمّد بمعنی اوسط ہے اور ررماد حجر بمعنی اول لاجرم قول درمختار الا رماد حجر [1] (مگر پتھر کی راکھ۔ ت پر علامہ طحطاوی نے فرمایا : کالجص عــہ [2](جیسے گچ۔ ت)۔ علامہ شامی نے فرمایا : کالجص
عــہ اقول : فیہ ان الجص ھو الحجر نفسہ لارمادہ وانما رمادہ الکلس و یردہ ایضا علی جمع الشامی بینھما و الجواب انہ قد یطلق الجص علی الکلس تجوزا کما فی الحلیۃ عن النصاب الحجر طبخ حتی صار جصا لتیمم جاز وعلیہ الفتوی ۱ھ فالکلس فی ش عطف تفسیر ۱۲منہ غفرلہ۔ (م)
اقول : (میں کہتاہوں) اس پر یہ اعتراض ہے کہ جص خود پتھرہی ہے پتھر کی راکھ نہیں راکھ تو کِلس (چونا) ہے۔ مثال میں علامہ شامی کے جص اور کِلس دونوں جمع کرنے پربھی یہ اعتراض ہوگا۔ اور جواب یہ ہے کہ کلس (چونا) کوکبھی مجازًا جص(گچ) کہہ دیا جاتا ہے جیسا کہ حلیہ میں نصاب کے حوالہ سے ہے۔ پتھر اتناپکایا گیا کہ جص (یعنی چونا) ہوگیا پھر اس سے تیمم کیاتو جائز ہے اور اسی پرفتوٰی ہے ۱ھ۔ توشامی میں لفظ کلس عطف تفسیری ہے۔ ۱۲منہ غفرلہ (ت)
وکلس [3](جیسے گچ اور چُونا۔ ت) یوں ہی حجر ترکستان ونورہ ومردار سنگ مدنی۔
(۱۵) یہاں مرادلین انطراق ہے اور وہ نہ جص ومکلس میں نہ کبریت وزرنیخ میں۔
(۱۶) یو ں ہی کبریت وزرنیخ میں ذوبان انحلال ہے نہ ذوبان تعقد وانطراق کہ یہاں مراد۔
(۱۷) ان میں اور جص وحجر فتیلہ وسنگ بحیرہ وحجر خزامی اور ریل کے کوئلے اور ارض محترقہ میں احتراق ہو ترمُّد نہیں جو یہاں مراد۔
نقوض منع کادفع۔ اقول : بحمد الله وہ بہت سہل ہے ہرتعریف میں جنس ملحوظ ہوتی ہے علمائے کرام نے بوجہ وضوح ونیز تصریحات باب یہاں اس کاذکر مطوی فرمایا جیسا کہ اکثر ان کی عادات کریمہ سے معہود ، لہٰذانظرمیں نقوض نظرآتے ہیں اور حقیقۃً کچھ نہیں وہ جنس جسم ثقیل یابس الاصل بے مائیت یاقلیل المائیۃ ہے اس سے :
(۱) پانی عرق ماء الجبن ، شیر ، بہتاگھی ، تیل ، گاز اور ان کے امثال کاخروج ظاہر۔
(۲) یونہی شکر کاقوام جماہواگھی وہ کیچڑ جس پرپانی غالب ہے اولا پالاکَلْ کابرف۔
(۳) یونہی پارے کامغلوب المائیۃ ہوناظاہرگویاوہ پانی ہے کہ پورا جمابھی نہیں۔
(۴) سانبھرپانی سے بنتی ہے۔
(۵) یوں ہی ہرقسم زاج انوارالاسرار میں ابن سیناسے ہے :
الزاجات جواھرتقبل الحل وقد کانت سیالۃ فانعقدت[4]۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع