دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 3 | فتاوی رضویہ جلد ۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۳

اللطیف والکثیف قریبین من الاعتدال حدثت من الحرارۃ القویۃ حرکۃ دوریۃ لانہ کلما مال اللطیف الی التصعد جذبہ الکثیف الی الانحدار والافان کان الغالب ھو اللطیف یصعد بالکلیۃ کالنوشادروان کان ھو الکثیف فان لم یکن غالبًا جداحدث تسییل کما فی الرصاص اوتلیین کما فی الحدید وان کان غالبا جد کما فی الطلق حدث مجرد سکونۃ واحتیج فی تلیینہ الی الاستعانۃ باعمال اُخر [1]۔ ملخصًا 

اور اوپرلے جانے والامیدان پیداکرتی ہے پھراثرقبول کرنے والے اجسام کے اختلاف کے لحاظ سے جمع ، تفریق ، تبخیر وغیرہ مختلف آثار اس پرمترتب ہوتے ہیں۔ اس کی تحقیق یہ ہے کہ حرارت سے متاثر ہونے والاجسم اگربسیط ہوتوپہلے اس کی کیفیت میں تغیّر ہوگا پھر یہ اسے جوہر کی تبدیلی تك پہنچائے گا۔ او اگرمرکب ہوتواگر اس کے بسیط اجزا کاباہمی اتصال شدید نہ ہو۔ اور یہ بھی مخفی نہیں کہ جوجتنا زیادہ لطیف ہوتاہے اتناہی زیادہ وہ صعود قبول کرتاہے۔ تومختلف اجزاکی تفریق اور جدائی لازم آئے گی اور اس کے پیچھے ہرایك کابلحاظ اقتضائے طبیعت اپنے ہم شکل کے ساتھ انضمام بھی ہوگا۔ جمع متشاکلات اور ہم شکلوں کی یکجائی کایہی معنی ہے۔ اوراگراتصال شدید ہوتواگرلطیف وکثیف قریب بہ اعتدال ہوں توقوی حرارت سے حرکت دور یہ (گردش وچرخ والی حرکت) پیداہوگی اس لیے کہ جب بھی لطیف اوپرچڑھنے کی طرف مائل ہوگاکثیف اسے پستی کی طرف کھینچے گا۔ ورنہ اگرغالب لطیف ہوتوبالکلیہ صعودپاجائے گا اور اوپر چلاجائے گا جیسے نوشادر۔ اور اگرغالب کثیف ہو تواگربہت غالب نہ ہوتو بہاؤ پیداہوگا جیسے رصاص میں ہوتاہے یانرمی پیداہوگی جیسے لوہے میں رونما ہوتی ہے۔ اوراگربہت غالب ہو جیسے طلق (ابرک) میں۔ تومحض گرمی پیداہوسکے گی اور اس میں نرمی لانے کے لیے دوسرے عملوں سے مددلینے کی ضرورت ہوگی۔ (ت)

یہاں دواختلاف باہم دونوں کتابوں میں ہوئے انہوں نے قسم دوم یعنی شدید الاستحکام کی چار نوعیں کی :

(۱) معتدل جس میں اجزائے لطیفہ وکثیفہ تقریبًا برابرہوں۔

(۲) لطیف بالغلبہ جس میں اجزائے لطیفہ بہت غالب ہوں۔

(۳) کثیف متقارب جس میں اجزائے کثیفہ غالب ہوں مگر نہ بشدّت۔

(۴) کثیف متفاحش جس میں کثیفہ بشدت غالب ہوں یہان تك متفق ہیں مگرموافقت نے معتدل کاحکم سیلان رکھا اور دوران کواسی کاتابع کیا اور کثیف متقارب کاحکم صرف لین رکھا اور شرح مقاصد نے معتدل کاحکم فقط دوران لیا اور کثیف متقارب میں کہیں سیلان کہیں لین کیا۔

اقول : صحیح۱  یہ ہے کہ دوران نہیں مگرایك حالت سیلان جیسا کہ مواقف نے کیا اور سیلان۲  نوع اول سے ہرگزخاص نہیں سوم میں بھی یقینا ہے جیسا شرح مقاصد نے کہا اور لین اگربمعنی صلاحیت نرمی لیاجائے تودونوں کوعام اور اگربایں معنی ہوکہ صرف ناربلاحیلہ اس سے زیادہ عمل نہ کرے توبے شك صرف نوع سوم سے خاص جیسادونوں نے کیا۳  بلکہ اس کے بھی بعض افراد سے جیسا شرح مقاصدنے کہا اور پانچ عــہ  اختلاف بیان فقیر کو ان بیانات اکابرسے ہوئے :

(۱) فقیرنے قسم اوّل یعنی ضعیف الترکیب میں تین۳ حکم رکھے نفاد ، تکلس ، ترمُّد۔ انہوں نے صرف ایك حکم لیا تفریق۔ یہ کوئی اختلاف نہیں کہ تینوں حکم اسی تفریق کی شکلیں ہیں۔

(۲)فقیرنے نفاد قسم اوّل میں رکھا اور بیشك اس میں۴  ہے جس پرکبریت شاہد اور کبریت کاضعیف الترکیب ہوناخودانہیں کتب سے ظاہر۔ شرح مواقف میں مباحث مشرقیہ امام رازی سے ہے :

الاجسام المعدنیۃ اماقویۃ الترکیب وح اماانیکون منطرق اما لغایۃ رطوبتہ کالزیبق اولغایۃ یبوستہ کالیاقوت ونظائرہ ، واما ضعیفۃ الترکیب فاما ان تنحل بالرطوبۃ وھو الذی یکون ملحی الجوھر کالزاج

معدنی اجسام یاتوقوی الترکیب ہوتے ہیں۔ اور اس وقت یاتومنطرق ہوتے ہیں۔ یہ اجسام سبعہ ہیں۔ یامنطرق نہیں ہوت۔ غایت رطوبت کی وجہ سے جیسے پارہ یاغایت یبوست کی وجہ سے جیسے یاقوت اور اس کے نظائر۔ یاضعیف الترکیب ہوتے ہیں پھریوتورطوبت کی

عــہ :  پانچ گنائے ہیں ان میں پہلا حقیقۃ اختلاف نہیں چار رہے ان میں چوتھا دوہوکرپھرپانچ ہوگئے ۱۲منہ غفرلہ(م)

ولنوشادر والشب اولاتنحل وھوالذی یکون دھنی الترکیب کالکبریت والزرنیخ [2]۔

وجہ سے گھل جاتے ہیں۔ یہ وہ جو نمك والا جوہر رکھتے ہیں جیسے زاج ، نوشادر اور شب۔ یا گھلتے نہیں۔ یہ وہ ہیں جودُہنی (روغن والی) ترکیب رکھتے ہیں جیسے کبریت اور زرنیخ۔ (ت)

شرح مقاصدمیں ہے :

الذائب المشتعل ھو الجسم الذی فیہ رطوبت دھنیۃ مع یبوسۃ غیرمستحکم المزاج ولذلك تقوی النارعلی تفریق رطبہ عن یابسہ وھوالاشتعال وذلك کالکبریت والزرنیخ[3]۔

شعلہ زن پگھلنے والاوہ جسم ہوتاہے جس میں یبوست کے ساتھ دہنی رطوبت ہومستحکم المزاج نہ ہو اسی لئے آگ اس کے رطب کویابس سے جداکرنے کی قوت رکھتی ہے اور یہی اشتعال ہے اس کی مثال کبریت اور زرنیخ ہے۔ (ت)

انہوں نے قسم دوم میں صعود بالکلیہ رکھا اور وہ فی نفسہٖ حق تھا وہ وہی ہے کہ بیان فقیرمیں عدم قرار علی النار سے تعبیر اور سیماب سے ممثل ہوا مگر ان اکابر عــہ نے نوشادر سے ممثل کیا جس سے ظاہر کہ صورت نفاد بھی اسی میں لیتے ہیں کہ نوشادر میں یہی واقع ہے۔

اقول :  اوّلا۱ : استحکام ترکیب کے منافی کہ جب گرہ نہ کھلے گی جسم نفاد نہ پائے گا۔

ثانیا : نوشادر۲  ہرگزقوی الترکیب نہیں پھراسے اس قسم میں شمار فرمانا صریح سہو ہے اس کاضعیف الترکیب ہونا ابھی شرح مواقف سے بحوالہ امام رازی گزرا۔ اہل فن تصریح کرتے ہیں کہ وہ چار۳  معدنیات غیرکامل الصورۃ سے ہے کہ زاجات واملاح ونوشادرات وشبوب ہیں۔ تذکرہ داؤدمیں زیرشب ہے :

قال اھل التحقیق لمولدات التی لم تکمل صورھا من المعدنیات اربعۃ اشیاء شبوب واملاح ونوشادرات وزاجات[4]۔

اہل تحقیق کاقول ہے کہ وہ مولّدات جن کی صورتیں کامل نہ ہوئیں معدنیات میں سے چارچیزیں ہیں : شب ، ملح ، نوشادر ، زاج۔ (ت)

عــہ : اصفہانی نے شرح طوالع الانوار میں لفظ کی مثال دی یہ بھی اسی نفاد کی طرف گئی ۱۲منہ غفرلہ۔ (م)

 



[1]   شرح المقاصد المبحث الاوّل الخ (بحث کیفیاتِ محسوسہ) دارالمعارف العمانیہ لاہور۔ ۱ / ۲۰۲

[2]   شرح مواقف الفصل الثانی فیمالانفس لہ من المرکبات المطبعۃ السعادۃ مصر ۷ / ۱۷۳

[3]   شرح المقاصد المبحث الاول المعدنی دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۱ / ۳۷۴

[4]   تذکرہ داؤد انطاکی (حرف الشین) شب کے تحت مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۰۹

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن