30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رطوبت آگ تصعید کلّی پرقادر ہوئے یہ خود اثراصلی ہے ورنہ صرف تسخین یعنی گرم کرسکی تویہاں اسی قدر اثراصلی ہوگا کہ آگ اس سے زیادہ نہیں کرسکتی ان دونوں صورتوں کو لین وذوبان سے علاقہ نہیں۔ رہیں قسم دوم کی اخیر دو صورتیں ان میں آگ کااثرہی یہی لین وذوبان ہیں کہ آگ یہاں اسی قدر پرقادر تویہ خود ہی آثار اصلیہ ہیں او ر انطباع وانطراق تابع لین کہ اس پرموقوف ہے اور دوران تابع ذوبان کہ اس پر متوقف ہے تویہی لین وذوبان آثار اصلیہ کے ساتھ شمار ہونے کے قابل اوروہ جو پہلی قسم میں ہیں ضمنی وتابع اور اپنی اپنی صورتوں کے لازم ملازم ہونے کے باعث صلاحیت میں ان سے جدا کوئی حکم نہ پیداکریں گے ان ۱ کے لین وذوبان انحلال گرہ ہیں جوشئ نفاد یاتکلس یاترمد کی صالح ہوگی ضرور اس لین یاذوبان کی بھی صالح ہوگی جو ان کے ضمن میں ہوتا ہے اور جو شئ لین وذوبان وانحلال کی صالح ہوگی ضرور ان تین میں سے کسی کی صلاحیت رکھے گی تو انہیں مستقل لحاظ کرنے کی نہ کوئی وجہ نہ کہیں حاجت۔ فقیر نے اپنے اس دعوے کی کہ لین عــہ وذوبان آثارِ نار میں گنیں گے تو ان سے یہی لین وذوبان قسم دوم مراد ہوں گے جن کو لین وذوبان تعقد كہئے کہ گرہ نہ کھلنے میں پیدا ہوئے نہ قسم اول والے جو لین وذوبان انحلال تھے کہ گرہ کھلنے میں حادث ہونے کلام علماء میں تصدیق پائی ولله الحمد ، یہ اقسام واحکام جس طرح قلبِ فقیر پرفیض قدیر عزجلالہ سے فائز ہوئے لکھ کر مقاصد و مواقف اور ان کی شروح کا مطالعہ کیا اور اپنے بیان میں ذکر دَوران انہیں سے لے کر بڑھایا والفضل للمتقدم (اور فضیلت اگلے کے لیے ہے۔ ت) ان کی مراجعت نے ظاہرکیا کہ قاضی عضد و علامہ تفتازانی و علامہ سید شریف رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰیتعالٰی اگرچہ احکام اقسام میں مسلك فقیر سے جدا چلے مگرلین وذوبان قسم دوم ہی میں رکے اور یہی ہمیں مقصود تھا ان اکابر اور اس فقیر کے بیان میں فرق یہ ہے کہ فقیر نے قسم اول میں تین حکم رکھے : نفاد ، تکلس ، ترمُّد۔ اور قسم دوم میں چار صعود کل بمعنی عدم قرار اور سخونت ولین وذوبان انہوں نے بالاتفاق قسم اول میں صرف تفریق رکھی اور قسم دوم میں مواقف و شرح نے لیے یہی چار کہ فقیر نے ذکرکیے مگر صعود کل میں نفاد رکھا جسے فقیر نے قسم اول میں ذکرکیا اور دوران کو سیلان ہی میں لائے جس طرح فقیر نے ان کے اتباع سے کیا اور شرح مقاصد نے اس قسم میں پانچ حکم لیے چار اس طور پر کہ مواقف میں تھے مگرانہوں نے لین وسیلان کو دو۲ مختلف قسموں کے احکام رکھا اور انہوں نے دونوں کوایك قسم کے دو۲حکم لیا اور دوران کو سیلان یعنی ذوبان سے جداپانچواں حکم قرار دیا۔
عــــــہ : دوبارہ ذوبان اس کاشاہد وہ بھی ہے کہ انطاکی نے تذکرہ میں زیر لفظ معدن تقسیم معدنیات میں کہا :
ان حفظت المادۃ بحیث یذوب فالمنطرقات [1]الخ فقد جعل الذوبان من باب حفظ المادۃ وماھو الابقاء الاجزاء جمیعا رطبہا ویابسہا ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)
اگرمادہ محفوظ رہے اس طرح کہ پگھل جائے تومنطرقات الخ اس عبارت میں پگھلنے کو حفظ مادہ کے باب سے قرار دیا اور یہ اس وقت ہوگا جب سارے خشك و تراجزاء باقی رہیں ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
مواقف عــہ وشرح میں ہے :
(الحرارۃ فیہا قوۃ مصعدۃ) ای محرکۃ الی فق لانہا تحدث فی محلہا الخفۃ المقتضیۃ لذلك (فاذا اثرت (۱) فی جسم مرکب من اجزاء مختلفۃ باللطافۃ والکثافۃ ینفعل اللطیف منہ اسرع فیتابدر الی الصعود الالطف فالالطف دون الکثیف فیلزم منہ تفریق المختلفات ثم الاجزائ(۲)) بعد تفرقھا (تجمع بالطبع) الی ما یجانسہا لان طبائعہا تقتضی الاحرکۃ الی امکنتہا الطبعیۃ ولانضمام الی اصولہا الکلیۃ (فان الجنسیۃ علۃ الضم) کما اشتہر فی الالسنۃ (ھذا اذالم یکن الالتئام بین بسائط ، ذلك المرکب شدیدا) اما اذا اشتد الالتحام وقوی الترکیب فالنار لاتفرقہا فان کانت الاجزاء اللطیفۃ والکثیفۃ متقاربہ) فی الکمیۃ (کما فی الذھب افادتہ الحرارۃ سیلانا) وذوبانا (وکلما حاول الخفیف صعودا منعہ الثقیل فحدث وتجاذب وفیحدث دوران و ان غلب اللطیف جدا فیصعد
(حرارت کے اندر صعودپیداکرنے والی قوت پیداہوتی ہے) یعنی ایسی قوّت جواوپر کی جانب حرکت پیداکرتی ہے اس لیے کہ آگ اپنے محل میں خفّت وسبکساری پیداکردیتی ہے جواوپر جانے کی مقتضی ہوتی ہے (تو جب یہ کسی ایسے جسم میں اثرانداز ہو جو لطافت وکثافت میں اختلاف رکھنے والے اجزا سے مرکب ہو تو اس جسم کا لطیف جززیادہ جلد اثر پذیر ہوکر صعود کی جانب بڑھے گا پہلے لطیف توپھر جو لطیف ترہومگرکثیف میں یہ اثرپذیری نہ ہوگی جس کی وجہ سے ان مختلف اجزا کی تفریق اور جدائی لازم آئے گی۔ پھر یہ اجزا باہمی جداکے بعد (طبعًا یکجاہوں گے) لطیف اپنے ہم جنس کے ساتھ۔ اس لیے کہ ان کی طبیعتیں ان کے مکان طبعی کی سمت حرکت اور ان کے اصول کلیہ سے انضمام اور ملاپ کی مقتضی ہوں گی(اس لیے کہ زبان زد ہے (یہ اس وقت ہوسکے گا جب اس مرکب کے بسیط اجزامیں شدید اتصال وپیوستگی نہ ہو۔ اگر سخت اتصال ہو اور ترکیب مضبوط ہو تو آگ ان اجزاکوجدا نہ کرسکے گی۔ تو اگرلطیف وکثیف اجزا مقدار میں قریب قریب ہوں جیسے سونے میں ہوتاہے تو حرارت اس میں بہاؤ اورپگھلاؤ پیداکردے گی
عــہ : قاضی بیضاوی نے بھی طوالع الانوارمیں اسی کااتباع کیا مگر نوع (۳)چہارم طلق والی کومطلق ذکرنہ کیا ۱۲منہ غفرلہ(م)
ویستصحب الکثیف لقلتہ کالنوشادر) فانہ اذا اثرت فیہ الحرارۃ صعد بالکلیۃ (اولا) یغلب اللطیف بل الکثیف لکن لایکون غالبا جدا (فتفیدہ) الحرارۃ (تلیینا کما فی الحدید وان غلب الکثیف جدالم یتأثر) بالحرارۃ فلایذوب ولایلین (کالطلق) فانہ یحتاج فی تلینیہ الی حیل یتولاھا اصحاب الاکسیر من الاستعانۃ بما یزیدہ اشتعالاکالکبریت والزرنیخ ولذلك قیل من حل الطلق استغنی عن الخلق[2]۔ ملخصًا
اور جب بھی ہلکا جزصعود چاہے گا بھاری جز اسے روك دے گا جس سے تجاذب اور باہمی کشاکش پیداہوگی تودوران(چرخ ہونے اور گول ہونے) کی صفت رونما ہوگی۔ اور اگرلطیف جز زیادہ غالب ہوگا توصعود وپاجائے گا اور کثیف کوبھی اس کے قلیل ہونے کی وجہ سے اپنے ساتھ لے جائے گا جیسے نوشادر میں ہوتا) اس لیے کہ اس میں جب آگ اثرکرتی ہے تو پوراہی اوپر چلا جاتاہے (یالطیف غالب نہ ہوگا) بلکہ کثف غالب ہوگا لیکن بہت زیادہ غالب نہ ہوگا(توحرارت اس میں نرمی پیدا کر دے گی جیسا کہ لوہے میں ہوتاہے۔ اوراگرکثیف بہت غالب ہوتو حرارت سے متاثر ہی نہ ہوگا) نہ پگھلے گانہ نرم ہوگا(جیسے طلق یعنی ابرک) کہ اسے نرم کرنے کے لیے کچھ خاص تدبیریں کرنی پڑتی ہیں جو اکسیربنانے والے عمل میں لاتے ہیں کہ ایسی چیز کی مدد لیتے ہیں جو اسے زیادہ شعلہ زن کردے جیسے کبریت اور زرنیخ کی مدد لیتے ہیں۔ اسی لیے کہاجاتاہے : جو طلق(ابرک) کی گرہ کھول لے وہ مخلوق سے بے نیازہوجاتاہے۔ (ت)
شرح مقاصد عــہ میں ہے :
الخاصۃ الاولیۃ للحرارۃ احداث
حرارت کی پہلی خاصیت یہ ہے کہ وہ خفّت
عــہ : بعینہٖ اسی طرح شرح تجریدمیں ہے انہوں نے حرف بحرف علّامہ کااتباع کیا مگراطلق کے ساتھ ایك مثال نورہ اور بڑھائی۔
حیث قال وانکان غالبا جدا کما فی الطلق و النورۃ حدث مجرد سخونۃ واحتیج فی تلیینہ الی الاستعانۃ باعمال الخ
انہوں نے کہااوراگر بہت غالب جیسے طلق اور نورۃ میں تو صرف گرمی پیداہوسکے گی اور اس میں نرمی لانے کے لیے دوسرے عملوں کی ضرورت ہوگی الخ (ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع