دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 3 | فتاوی رضویہ جلد ۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۳

ایك میں احتراق وترمّد رکھا یہ وہ ہے جس میں خود بعض اجزا کاجل جانا فناہوجاناہے۔

دوسری میں لین ، ذوبان ، انطباع۔ تویہ وہ ہیں جن کاذاتِ اجزا پر اثرنہیں یعنی تمام اجزا برقراررہیں اور جسم نرم ہوجائے گھڑنا قبول کرے یابہہ جائے یہ نہیں ہوتا مگرانہیں اجساد منطرقہ میں۔ غیرمنطرق میں جب آگ اتنا اثرکرے کہ اسے نرم کردے قابلِ عمل کردے گلا پگھلادے توضرور اس کی بعض رطوبتیں جلائے گی سب اجزا برقرار نہ رہیں گے بخلاف منطرقات کہ ان کی رطوبتیں بہہ جانے پر چرخ کھانے سے بھی کم نہیں ہوتیں۔ سہل سابالائی جواب تویہ ہے اور بتوفیقہٖ تعالٰی تحقیق انیق وتدقیق دقیق منظور ہو جو نہ صرف ان اوصاف ثلٰثہ بلکہ خمسہ میں ان معانی کا مرادہونا واضح کردے تووہ بعونہ تعالٰی استماع چند نکات سے ہے جوبفضلہٖ عزوجل قلب فقیر پرفائض ہوئے۔

نکتہ اولٰی ۱۔ اقول وبربی استعین (میں کہتاہوں اور اپنے رب ہی سے مدد کاطالب ہوں۔ ت) منطبع ہونے کو شَے کاصرف صالح قبول صورت ہوناکافی نہیں ورنہ ہررطب حتی کہ پانی بھی منطبع ہوکہ سہولت تشکل لازمہ رطوبت ہے بلکہ اس کے ساتھ حفظ صورت بھی درکار۔ قبول کو رطوبت چاہےئ اور حفظ کواجزا کاتماسک ، کہ جس صورت پرکردیاجائے قائم رہے یہ دونوں منشااگر شے میں خود موجود ہیں جب تووہ آپ ہی صالح انطباع ہے اور اگرایك ہے دوسرانہیں تووہ دوسرا جس سے پیداہو اس کاانطباع اس کی طرف منسوب ہوگا کہ اس نے اسے منبع کیامثلًا شيئ متماسك الاجزا میں صلابت مانع قبول صورت ہے ، پانی نے اس قابل کیا جیسے چاك کی مٹی تووہ منطبع بالماء ہے یاآگ سے جیسے تپایا ہوا لوہا تومنطبع بالنار یانرم شے میں فرط رطوبت مانع حفظ صورت ہے مٹی کے ملانے یاآگ کے سکھانے سے قابل حفظ ہوئی تو منطبع بالطین یا بالنار ہے اور اگردونوں نہیں اور دوچیزوں کے معًا عمل سے دونوں قوتیں پیداہوگئیں تو اس کاانطباع اس مجموعہ کی طرف منسوب ہوگا اور اگرتعاقب ہوا پہلے ایك سے قبول خواہ حفظ کی صلاحیت آگئی پھر دوسری کے عمل سے دوسری تو اس کاانطباع متأخر کی طرف نسبت کیاجائے گا کہ پہلی کے عمل تك وہ شے صالح انطباع نہ ہوئی تھی دوسری کے عمل سے ہوئی شرع ۱  مطہر میں اس کی نظیر کپڑاہے کہ تانے کاعتبار نہیں اگرچہ ریشم کاہوکہ اس وقت تك کپڑانہ ہواتھا بانے نے اسے کپڑا کیا تو اسی کااعتبار ہے بالجملہ انطباع اس کی طرف منسوب ہوگا جس نے صلاحیت انطباع کی تکمیل کی یہاں تك کہ اگرمثلًا قبول کی قوت شے میں آپ تھی اور قوت حفظ پر آگ نے مدد دی مگر اس نے صالح حفظ نہ کردیابلکہ یہ صلاحیت اس کے بعد دوسری شے سے پیداہوئی تووہ اسی دوسری شے سے منطبع ٹھہرے گی نہ آگ سے۔ یہاں سے ظاہرہواکہ جتنی چیزوں کو آگ پگھلاکر پانی کرے جس سے وہ سانچے میں قبول صورت کریں ان كا یہ انطباع جانب نارمنسوب نہ ہوگا کہ جس سیال۔ حفظ صورت کے کے قابل نہین ہوتایہ قابلیت سرد ہوکہ آئے گی وکبریت وزرنیخ اور ان کے امثال منطبع بالنار نہیں بلکہ شکر کا قوام بھی کہ اگرچہ رقّت اس میں آپ تھی جس سے صالح قبول صورت تھا اور نار نے صلاحیت حفظ صورت پرمدد دی کہ لزوجت پیدا کی جو وجہ تماسك اجزا ہے مگرحفظ کے لیے چوبیس درکارتھے اس کی مانع رہی کہ کہ نارموجب ذوبان ہے نار سے جداہوکر جب ہوالگی سرد ہونے نے صلاحیت حفظ دی تو یہ بھی انطباع بالنار نہ ہوا شکّر کے کھلونے اور زیادہ بڑے بتاسے توسانچے میں بنتے ہیں چھوٹے اور متوسط قوام کی بوندیں چادر پرگراکر مگرجب تك آگ سے جداہوکر ہوانہیں لگتی حفظ صورت کی صلاحیت نہیں آتی۔

ہاں شے کے منطبع بالنار کہلانے کو یہ ضرور نہیں کہ ہمیشہ اسی سے منطبع ہوبلکہ صرف اتناکافی کہ فی نفسہٖ ان میں ہو جو منطبع بالنار ہوسکتے ہیں اگرچہ کبھی منطبع بالغیر بھی ہوتوچرخ کھاکر سونے چاندی کاسانچے میں منطبع بالبرد ہونا انہیں اجساد منطبعہ بالنار سے خارج نہیں کرتا۔

تنبیہ : اب صلاحیت ذوبان وانطباع بالنار میں نسبت عموم من وجہ ایسے جرم کے ثبوت پرموقوف کہ آگ سے نرم ہوکر قابل شکل ہو اور ساتھ ہی فی نفسہ ہردی ہوئی صورت کاحفظ کرسکے اور آگ کتنا ہی عمل کرے اسے بہانہ سکے یہ حیز خفامیں ہے والله تعالٰی اعلم جب یہ نہ ہو ظاہرا ذوبان انطباع سے عام مطلقًا ہے والعلم عند ذی الجلال بحقیقۃ کل حال (اور ہرحالت کی حقیقت کاعلم بزرگی وجلال والے ہی کوہے۔ ت)

نکتہ ثانیہ۲ :  اقول : جسم کے اجزائے رطبہ ویابسہ سے مرکب ہو اس کا امتزاج دوقسم ہے ، ضعیف جس کی گرہ کھل جائے اجزائے رطبہ ویابسہ سے جداہوجائیں ، اور شدید الاستحکام کہ آگ جس کا فعل تفریق ہے ان کی گرہ کھولنے پرقادرنہ ہو۔

قسم اوّل میں تین ۳ صورتیں ہیں :

(۱) جسم کے اجزائے یابسہ لطیف ہیں کہ آگ انہیں بھی رطبہ کے ساتھ اڑادے گی اس صورت میں تو جسم فنا ہوجائے گا جیسے رال ، گندھک ، نوشادر ، اسے انتفا یانفاد کہیے یہ بھك اڑجانے والے مادوں میں اکثرہوتاہے۔

(۲) اس میں اجزائے رطبہ بہ نسبت اجزائے ارض بہت کم ہیں جیسے۱   پتھر کہ اجزائے ارضیہ رقیقہ ہی سے بنتاہے اور انہیں کاحصہ کثیروغالب ہے ، لزج یعنی چپك دار رطوبتوں سے انہیں اتصال ہوا اور عمل حرارت سے یبوست آئی باربار یوں ہوکرلزوجت کے باعث اجزامیں کتنا ز آکرسخت جسم پیداہو جس کانام حجر ہے ازانجا کہ ترکیب شدید الاستحکام نہیں آگ تاحدِ تاثیراجزائے رطبہ کو جدا کرے گی اور وہ اکتناز کہ بوجہ (موجب تھا کم ہوکر جسم میں قدرے تخلخل آئے گا باقی تحجر بدستور رہے گا یہ صورت تکلیس احجار کی ہے۔

(۳) اجزائے رطبہ بھی بکثرت تھے آگ انہیں فنا کرکے ایك بڑاحصہ جسم کامعدوم کرے گی جو رہ گیا وہ رماد اور اس طرح جلنے کانام ترمُّد ہے ، ظاہر۲ ہے کہ ان تینوں صورتوں میں انطباع بالنار نہ ہوسکے گا اول میں توبدیہی کہ جس فناہی ہوگیا اور سوم میں بوجہ تفتت وتشتت حفظ صورت کی قوت باقی نہیں دوم میں وہ لین نہیں کہ قبول صورت کرے بوجہ صلابت عمل قلیل قبول نہ کرے گا اورضرب شدید سے متفتت ہوجائے گا۔ ہاں لین ان سب صورتوں میں ہوگا کہ گرہ نرم ہی ہوکرکھلتی ہے اور بعض صورتوں میں ذوبان بھی ہوگا جیسے گندھك پہلے نرم پڑتی پھر بہتی پھر فنا ہوجاتی ہے۔

قسم دوم میں دو صورتیں ہیں جن میں پہلی دو۲ ہوکر تین ہوجائیں گی۔

(۱) گرہ اس قدر شدید محکم ہو کہ آگ اسے سست بھی نہ کرسکے۔ یہاں اگرجسم پررطوبت غالب ہو آگ پر قائم ہی نہ رہے گا کہ متنافیین جمع نہیں ہوتے ، یہ سیماب ہے۔

اقول : اس کے قائم علی النار نہ ہونے کاسبب یہ ہے کہ آگ کافعل تصعید ہے یعنی رطوبات کو جانبِ آسمان پھینکنا ان رطوبتوں پربھی اس نے اپناکام کیا اور یبوستیں جدانہ ہوسکیں لہٰذا ساراجسم بقدر عمل حرارت یونہی گرہ بستہ اڑا اور اپنی حالت پربرقرار رہا بخلاف صورت اول قسم اول کہ وہاں بھی اگرچہ اجزائے یابسہ بوجہ لطافت ہمراہ رطبہ خود بھی اڑے مگر گرہ کشادہ منتشر لہٰذا جسم ہباء منثورہوگیا۔ اور اگررطوبت غالب نہیں تو جسم آگ سے صرف گرم ہوگا ترکیبِ اجزا پر کچھ اثرنہ پڑے گا جیسے لعل یاقوت ہیرا یاطلق بھی جسے ابرك کہتے ہیں آگ اس کی بھی گرہ نہیں کھول سکتی مگر حیل وتدابیر خارجیہ سے۔ ظاہر ہے کہ اس صورت میں لین ، ذوبان ، ترمُّد کچھ نہ ہوسکے گا کہ گرہ بدستور رہے گی تو انطباع نہ ہوسکنابھی ظاہر کہ وہ بے لین نامتصور اور صورت غلبہئ رطوبت یعنی سیلاب میں اگرچہ لین خود موجود مگروہی غلبہ رطوبت مانع حفظ صورت تو اس میں قابلیت انطباع یوں ہوتی کہ آگ اس کی رطوبتیں اتنی خشك کردے کہ اس میں “ یبس “ قابل حفظ صورت پیدا ہوجائے یہ اسی گرہ کھلنے پرموقوف اور وہ یہاں منتفی اس حالت کانام امتناع رکھیے نہ بایں معنی کہ اثر نار اصلًا قبول نہ کیا کہ تصعید یاسخونت توہوئی بلکہ بایں معنی کہ ترکیب اجزا پر اس کاکوئی اثرنہ لیا۔

(۲)۱ آگ گرہ سست کرسکے مگرجسم میں دہنیت اس درجہ قوی ہوکہ کھلنے نہ دے جیسے سوناچاندی کہ آگ سے پانی ہوسکتے ہیں مگران کی رطوبت ویبوست جدانہیں ہوسکتی۔ ان میں نار کااثر اول لین ہوگا کہ نرم پڑ کر مطرقہ یعنی ہتھوڑے کی ضرب سے متاثر بھی ہوں گے اور اپنی شدّت دہنیت کے باعث مجتمع بھی رہیں گے متفتت ومتفرق نہ ہوسکیں گے لاجرم عمق میں دبتے ہوئے عرض وطول میں بتدریج پھیلیں گے اسی کانام انطراق ہے یعنی زیرمطرقہ

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن