دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 3 | فتاوی رضویہ جلد ۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۳

درمختار کی عبارت یہ ہے : “ راکھ بننے والی چیز سے تیمم جائز نہیں مگرپتھر کی راکھ مستثنٰی ہے اس سے جائز ہے “ ۔ (ت)

معلوم ہوا کہ پتھربھی راکھ ہوسکتاہے توجنسِ ارض کب رہا اور اس سے تیمم کیونکررواہوا۔

ثانیا : ترکستان میں ایك پتھرہوتاہے کہ لکڑی کی جگہ جلتاہے اس کی راکھ سے تیمم رواہے۔ حلیہ میں ہے :

فی خزانۃ الفتاوی قال العبد الضعیف ان کان الرماد من الحطب لایجوز و اکان من الحجر یجوز لانہ من الارض وقدرأیت فی بعض بلاد ترکستان کان حطبھم الحجر[1]۔

خزانۃ الفتاوٰی میں ہے : “ بندہ ضعیف کہتاہے راکھ اگرلکری کی ہوتوتیمم جائز نہیں اور اگرپتھر کی ہوتوجائز ہے کیونکہ وہ جنس زمین سے ہے اووور میں نے ترکستان کے بعض شہروں میں دیکھا کہ ان کے یہاں پتھر ہی کاایندھن ہوتاہے “ ۔ (ت)

اسی طرح خزانہ سے قہستانی اور قہستان سے طحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے۔

ثالثا ورابعا :  علامہ برجندی نے نورہ ومردارسنگ سے دونقض اور واردکیے کہ یہ جل کرراکھ ہوجاتے ہیں حالانکہ جنسِ ارض سے ہیں۔ شرح نقایہ میں بعد نقل عبارت مارہ زاد الفقہا ہے :

ھذا یدل علی ان التیمم بالنورۃ و المردار سنج لایجوز فانہما یحترق بالنار ویصیران رماداوقد صرح قاضی خان انہ یجوز التیمم بھما الا ان یقال ان محترقہما لایسمّی رمادا فی العرف[2]۔

اس سے پتاچلتاہے کہ نورہ اور مرداسنگ سے تیمم ناجائز ہے کیونکہ یہ دونوں آگ سے جل راکھ ہوجاتے ہیں حالانکہ قاضی خان نے تصریح فرمائی ہے کہ ان دونوں سے تیمم جائز ہے مگر یہ کہاجاسکتاہے کہ عرف میں جلے ہوئے نورہ ومردارسنگ کوراکھ کے نام سے یاد نہیں کیاجاتا۔ (ت)

لین پرنقوض اقول اوّلًا چُونے کاپتھر اور جتنے احجار تکلیس کیے جاتے ہیں یقینا اپنی حالت اصلی سے صلابت میں کم ہوجاتے ہیں تکلیس کرتے ہی اس لئے ہیں کہ جو سخت جرم پِس نہیں سکتا پسنے کے قابل ہوجائے۔

ثانیًا : کبریت (اور) ثالثًا زرنیخ ضرور آگ پرنرم ہوتی ہیں حالانکہ کتب میں بلاخلاف ان سے تیمم جائز لکھاہے کما سیأتی (جیسا کہ آگے آرہاہے۔ ت)

ذوبان پرنقوض اقول : یہی کبریت اور زرنیخ دونوں اس پربھی نقض ہیں ان کی نرمی بَہ جانے پر منتہی ہوتی ہے جیسا کہ مشاہدہ شاہد--- علاتفتازانی نے مقاصد و شرح مقاصد میں معدنیات کی پانچ قسمیں کیں۔ دوم ذائب مشتعل ، اور فرمایا : ذلك لکبریت والزرنیخ [3]۔ (وہ کبریت اور زرنیخ کی طرح ہے۔ ت)

احتراق پرنقوض اقول اولًا وثانیًا یہی گندھک ، ہڑتال ایسی جلتی ہیں کہ شعلہ دیتی ہیں۔

ثالثا : چ کہ اس کاپتھر جلانے ہی سے بنتی ہے۔

رابعا : مان و بدخشان میں ایك پتھر حجرالفتیلہ ہے کوٹنے سے روئی کی طرح نرم ہوجاتاہے اس کی بتی بناکر چراغ میں روشن کرتے ہیں تیل ڈالتے رہیں توایك بتی دوتین مہینے تك کفایت کرتی ہے ذکرہ فی المخزن وذکرہ فی تاج العروس فی مستدرکہ بعد باذش ان معدنہ بدخشان[4]۔ (اسے مخزن میں ذکرکیاہے اور تاج العروس کے اندر “ باذش “ کے بعد اپنے اضافہ کے تحت بتایاہے کہ اس پتھر کامعدن بدخشاں میں ہے۔ ت)

خامسا : شام میں ایك پتھر حجرالبُحَیْرہ ہے آگ میں ڈالے سے لپٹ دیتاہے[5]۔ ذکرہ فی المحزن و التحفۃ (اسے مخزن اور تحفہ میں ذکرکیا۔ ت) سادسا : سنگِ خَزَامی جزیرہ صِقْلَبَّہ میں ایك پتھر ہے کہ آگ سے بھڑکتا اورپانی کاچھینٹا دینے سے اور زیادہ مشتعل ہوتاہے اور تیل سے بجھتاہے[6]قالافیھما (مخزن و تحفہ میں ہی اسے بھی بتایاہے۔ ت)سابعا : ریل کاکوئلہ کہ پتھر ہے اور لکڑی ساجلتاہے۔ ثامنا : جلی ہوئی زمین کامسئلہ خود کتب معتمدہ مثل مختارات النوازل و قاضیخان و فتح و حلیہ و بحر و غیاثیہ و جواہرالاخلاطی و مراقی الفلاح و دُرمختار و ہندیہ وغیرہا میں مذکور کہ س سے تیمم رواہے کماسیأتی ان شاء الله تعالٰی (جیسا کہ اس کابیان آگے آئے گا ان شاء الله تعالٰی۔ ت)

تنبیہ : کبریت سے نقض پر علامہ سیّد ابوالسعود ازہری کو تنبہ ہوا اور عبارت مارئہ ملامسکین کی شرح میں فرمایا :

الظاھر ان ھذا اغلبی لاکلی فلایشکل بان البعض یحترق لاکبریت[7] ۱ھ

اقول :  (۱) بل الایراد لامردلہ عن ظاھر العبارۃ والعذر لایجدی لانھم بصدد اعطاء معرف لما یجوزبہ التیمم ومالافاذا کان شیئا یختلف ویتخلف          

ظاہریہ ہے کہ حکم اکثری ہے کلی نہیں۔ اس لیے یہ اشکال نہ ہوگا کہ جنس زمین سے ایسی چیزیں بھی ہیں جوجلی جاتی ہیں جیسے کبریت ۱ھ (ت)

اقول : ظاہرعبارت پراعتراض واشکال توضرور وارد ہوگا اور عذر مذکورکرآمدنہ ہوگا اس لیے کہ جس چیز سے تیمم جائز ہے اور جس سے ناجائز ہے اس کی وہ حضرات ایك جامع ومانع تعریف کرناچاہتے ہیں توجب کوئی چیز اس ضابطہ سے مختلف یا

لزم المتخلیط والتغلیط۔

اس سے جداومتخِلّف ہوگی توبجائے تعریف کے تخلیط وتغلیط لازم آئے گی۔ (ت)

 



[1]   حلیہ

[2]   شرح النقایہ للبرجندی ، فصل فی التیمم ، مطبوعہ نولکشورلکھنؤ ۱ / ۴۷

[3]   شرح المقاصد ، المبحث الاول المعدنی ، دارالمعارف النعمانیہ لاہور ،  ۱ / ۳۷۴

[4]   تاج العروس فصل الباء من باب الشین احیاء التراث العربی بیروت ۴ / ۲۸۱

[5]   مخزن الادویہ فصل الحاء مع الجیم مطبوعہ نولکشور کانپور ص ۲۳۱

[6]   مخزن الادویہ فصل الحاء مع الجیم مطبوعہ نولکشور کانپور ص ۲۳۱

[7]   فتح المعین  بحث جنس الارض ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۹۱

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن