30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اوریہ اس لئے کہ صعید باجماعِ اہلِ لغت روئے زمین کانام ہے تو یہ لفظ اس چیز کوشامل نہ ہوگا جوجنس زمین سے نہیں یامنطبع یاراکھ ہونے والی ہے۔ (ت)
پرظاہر۱ کہ یہ طریقہ تمام سلف وخلف مشایخ وعلماسے جداہے۔
وحاول العلامۃ الشرنبلالی ردہ الی
علامہ شرنبلالی نے اسے موافقت کی جانب پھیرنے
الوفاق فقال علی قول الشرح فی العطف باوتسامح کان ینبغی بالواو لانہ عطف خاص[1] ۱ھ۔
اقول : وما(۱) ذا یفعل بالمتن فانہ لم یقل وھو مالابل قید جنس الارض بجملۃ حالیۃ والاحوال شروط ثم قولہ لانہ عطف خاص وان کان حقا علی مالحققہ ان شاء الله لکنہ مخالف لمسلکہم ومسلك نفسہ المار عنہ فی العبارۃ الثالثۃ۔
کی کوشش کرتے ہوئے فرمایا ہے “ شرح کی عبارت میں اَو(یا) کے لفظ سے عطف تسامح ہے۔ یہ عطف واو سے ہوناچاہئے کیوں کہ یہ عام پرخاص کاعطف ہے ۱ھ(ت)۔ اقول : متن کوکیاکریں گے۔ اس میں یہ نہیں ہے کہ وھو مالاینطبع الخ۔ (اور وہ (جنسِ زمین) وہ ہے جومنطبع نہ ہو الخ) بلکہ اس میں جنس زمین کوجملہ حالیہ سے مقید کیاہے اور حال شرط کی حیثیت رکھتاہے۔ پھر ان کایہ کہنا کہ یہ خاص کاعطف ہے اگرچہ بجائے خود حق ہے جیسا کہ ہم ان شاء الله تعالٰی اس کی تحقیق کریں گے لیکن یہ مصنفین بالاکے موقف اور خود علامہ شرنبلالی کے موقف کے خلاف ہے جوان کے حوالہ سے عبارت سوم کے تحت بیان ہوا۔ (ت)
یہ عبارت اگرچہ جنس وغیرمیں فاضل بتانے سے جدارہی پھر بھی اتناحاصل دیا کہ لین وترمُّد مانع تیمم ہیں تو اس جملہ میں وہ عبارت چہارم کی شریك ہوئی۔
بالجملہ ہمارے بیان سے واضح ہوا کہ یہ چودہ ۱۴ عبارتیں اس وجہ سے کہ ۷ ، ۸ ، ۹ ، ۱۰ ، ۱۲ میں تین تین احتمال تھے اور ۱۱ میں دو۲ ، پچیس۲۵ عبارات ہوکراُن کاحاصل نوقولوں کی طرف رجوع کرگیا۔
(۱) غیرجنس ارض ہونے کامدار صرف انطباع
(۲) فقط ترمّد
(۳) ترمّد یاانطباع
(۴) ترمّد یالین عــہ
(۵) ترمّد یاذوبان
(۶) ترمّد یااجتماع ذوبان وانطباع
(۷) ترمُّد یاذوبان یاانطباع
عــہ : غیردُرر میں یہ بروجہ مناط لیاجائے گا اور دُررمیں طرف ایك طرف سے کلیہ ۱۲منہ غفرلہ(م)
(۸) احتراق یالین
(۹) احتراق یاانطباع
خاص خاص عبارات پر جو ان کے متعلق اشکالات تھے مذکور ہوئے ، اب اصل مبحث کے اشکال ذکرکریں وبالله التوفیق غیرجنس ارض ہونے کامناط سات قول اخیر میں کہ دو۲دو۲ یاتین۳ وصف پرمشتمل ہیں ان اوصاف میں سے کس وصف کاوجود ہے اور جنس ارج ہونے کامناط ہرقول کے ان سب اوصاف کاانتفا ہے یعنی ان میں سے ایك بھی ہو توجنس ارض نہیں اور اس سے تیمم ناجائز اور اصلًا کوئی نہ ہوتو جنس ارض ہے اور تیمم جائز۔ اب اگرجنس ارض سے کوئی شے ایسی پائی جائے جس میں کسی قول کے اوصاف ملحوظ سے کوئی وصف پایاجاتاہو وہ اس قول کے مناط ارضیت کی جامعیت پرنقض ہوگا یعنی بعض اشیاء جن کو اس مناط کاشامل ہوناچاہئے تھا اس سے خارج ہوگئیں اور اگرغیرجنس سے کوئی چیز ایسی ثابت ہوجس میں ایك قول کے اوصافِ معتبرہ سے اصلًا کوئی نہیں وہ اس قول کی مانعیت پرنقض ہوگا یعنی بعض اشیاجن کااس مناط سے خارج ہونا درکارتھا اس میں داخل رہیں دوقول اول کی مانعیت پرنقض ہوگا یعنی بعض اشیاجن کا اس مناط سے خارج ہونا درکارتھا اس میں داخل رہیں دوقول اول کی مانعیت پرنقوض وہیں گزرے اور وہ دونوں قابل لحاظ بھی نہیں باقی یہاں ذکرکریں والله الموفق نقوض جمع میں کسی جنس ارض میں ایك وصف کاتحقق کافی ہے لہٰذا ہرقول پرجداکلام کرنے سے اوصاف کی تلخیص کرکے ہروصف پرکلام کافی ہوگا کہ وہ وصف جتنے اقوال وعبارات میں ہو اس کے نقض سب پروارد ہوں۔
انطباع پر نقوض اقول اوّلا کبریت کہ جب آگ سے ذائب کرکے کسی سانچے میں ڈال دیں یقینا سردہوکر اسی صورت پررہتی ہے ، خالص گندھك کے پیالے کٹوریاں گلاس بنتے ہیں ہمارے شہرمیں ایك صاحب بکثرت بناتے تھے جسے شبہ ہو وہ اب آزما دیکھے ، تو اس میں یقینا جس صورت پرچاہیں ڈھالے جانے کی صلاحیت ہے توبلاشبہ منطبع ہوئی اور یہ انطباع آگ سے ہی ہواکہ قبول صورت پرچاہیں ڈھالے جانے کی صلاحیت ہے توبلاشبہ منطبع ہوئی اور یہ انطباع آگ سے ہی ہوا کہ قبول صورت پر اسی نے مہیا کیا اگرچہ بقائے صورت بعد برودت ہے جیسے چھوٹے بڑے بتاسوں ، شکر کے کھلونوں ، سونے چاندی کی اینٹوں وغیرہا میں ، تولازم کہ گندھك جنس ارض سے نہ ہو اور اس سے تیمم ناروا ہو حالانکہ کتب معتمدہ میں اس کا جنس ارض سے ہونا اور اس سے تیمم کاجواز مصرح ہے کما سیأتی (جیسا کہ آگے آرہاہے۔ ت)
ثانیا : زرنیخ ، یہ بھی بلاشبہ آگ سے بہتی اور سرد ہوکرپھر متحجر ہوجاتی ہے تویقینا قابل انطباع ہے جس کاخود ہم نے تجربہ کیاغایت یہ کہ بہ نسبت کبریت کے زیادہ قوی آنچ چاہتی ہے۔
وھذا معنی قول ابن زکریا الرازی فی کتاب علل المعدن ثم ابن البیطار۔
کتاب علل المعادن میں ابن زکریا رازی پھر جامع میں ابن بیطار کی درج ذیل عبارت کایہی معنی ہے :
فی الجامع تکوین الزرنیخ کتکوین الکبریت غیران البخار البارد الثقیل الرطب فیہ اکثر والبخار الدخانی فی الکبریت اکثر ولذٰلك صار لایحترق کاحتراق الکبریت وصار اثقل واصبر علی النار منہ [2]۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع