30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بیان تنوع کلمات علماء واشکالات: اوصاف خمسہ مذکورہ کے عدم سے جنس ارض یاوجود سے اس کے غیر کی پہچان بتانے میں کلماتِ علماچودہ۱۴ وجوہ پر آئے : (۱) بعض نے صرف انطباع لیا کہ جس میں یہ نہیں وہ جنس ارض ہے۔
شرح نقایہ علامہ برجندی میں ہے : ذکرالجلابی ان جنس الارض کل جزء من لاینبع [1] ۔ جلابی نے ذکرکیا ہے کہ جنس ارض ہروہ جز ء ہے جومنطبع نہ ہو۔ (ت)
اقول : یہ ظاہر البطلان(۱) ہے کہ لکڑی کپڑے ناج ہزاروں چیزوں پرصادق۔
فان قلت قد اخرجہا بقولہ کل جزء منہ ای من الارض ذکرالکنایۃ تسامحااوباعتبار المذکور۔
اقول : اولًا ضاع قولہ لا ینطبع فلیس جزء منہا لینطبع بالنار۔
وثانیا : یعود حاصلہ ان جنس الارض کل جزمنہا وھذا کتعریف شیئ بنفسہ فانما الشان فی معرفۃ ان ای شیئ من اجزائھا۔
اگریہ اعتراض ہو کہ انہوں نے بکل جزء منہ ج(یعنی ہرجزء زمین) کہہ کر ان سب چیزوں کوخارج کردیاہے اور منہا کی بجائے منہ مذکر کی ضمیر تسامحًا یامذکورکااعتبار کرکے لائے ہیں۔
اقول : اولًا : یہ ہو توان کا قول “ لاینطبع “ (منطبع نہ ہو) بے کار ہوجائے گا اس لئے کہ زمین کاکوئی جزء ایسانہیں جوآگ سے مطبع ہو۔ جنسِ زمین ، زمین کاہرجزہے اور یہ گویا کہ شیئ کی تعریف خود اسی شے سے کرناہے اس لئے کہ یہاں تویہی جاننا مقصود ہے کہ کون سی شے زمین کاجزہے۔ (ت)
(۲)صرف ترمُّد کہ جوچیز جل کرراکھ نہ ہوجنس ارض ہے نافع شرح قدوری میں ہے : جنس الارض مااذا احترق لایصیر مادا [2] (جنسِ زمین وہ ہے جو جل کرراکھ نہ ہو۔ ت)
اقول : یہ بھی ۱ فلزات مثلًا سونے ، چاندی ، فولاد ، نیز تیل ، گھی ، دودھ وغیرہا لاکھوں اشیاء پرصادق۔ اگرکہئے سونے چاندی کاکشتہ اُن کی راکھ ہے اقول اولا یہ راکھ کے معنی سے ذہول ہے جوہم نے بیان کئے ثانیا عقیق ویاقوت کابھی کشتہ ہوتاہے تووہ بھی جنس ارض نہ ہو ، حالاں کہ بے شك ہیں کماسیأتی (جیسا کہ آگے آرہاہے۔ ت)
(۳) انطباع وترمُّد کہ جو منطبع یاخاکستر ہو جنس ارض سے نہیں ، فتح القدیرمیں ہے :
قیل ما کان بحیث اذاحرق بالنار لاینطبع ولایترمد فھو من اجزاء الارض ۱ھ [3]۔
اقول : ولایرید الترییف فقد اقرہ وفرع علیہ۔
کہاگیا جوایسا ہوکہ آگے سے جلایا جائے تونہ منبع ہونہ راکھ ہوتووہ زمین کاجز ہے۔ ۱ھ
اقول : (قیل “ کہاگیا “ سے اس معنی کو ذکرکرکے) اس کی خرابی وکمزوری بتانامقصود نہیں کیوں کہ انہوں نے اس قول کوبرقراررکھا ہے اور اس پرتفریع بھی کی ہے۔ (ت)
جامع المضمرات پھر جامع الرموز میں ہے :
جنس الارض مما لایحترق فیصیر رمادا اوینطبع[4]۔
جنس زمین وہ ہے جو جل کرراکھ یامنطبع نہ ہو۔ (ت)
مراقی الفلاح میں ہے :
الضابطۃ ان کل شیئ یصیر رمادااوینطبع بالاحراق لایجوز بہ التیمم ولاجاز[5]۔
ضابطہ یہ ہے کہ ہروہ چیز جو جلانے سے راکھ ہوجائے یامنطبع ہوجائے اس سے تیمم جائزنہیں اور ایسی نہ ہوتو جائز ہے۔ (ت)
تنویرالابصارمیں ہے :
بمطھر من جنس الارض فلایجوز بمنطبع ومترمد ومعاون[6]۔
جنسِ زمین کی کسی پاك کرنے والی چیز سے (تیمم ہوگا) تومنطبع ہونے والی اور راکھ ہونے والی چیز اور معدنوں سے جائزنہیں۔ (ت)
اقول : پہلی تین عبارتوں میں احراق سے مجرد عمل نارمراد ہے اور اخیر میں معاون سے فلزات ورنہ کبریت وزنیخ ومردار سنگ وتوتیاکے بھی معاون ہیں اور ان سے جواز تیمم مصرح کما سیأتی ان شاء الله تعالٰی (جیسا کہ ان شاء الله عنقریب آرہاہے۔ ت)(۴) لین وترمُّد کہ جو آگ سے نرم پڑے یاراکھ ہوجنس ارض نہیں۔ غنیہ میں ہے : ھرما یلین عــہ بالنار اویترمُّد [7]۔ (یہ وہ ہے جو آگ سے نرم ہو یاراکھ ہوجائے۔ ت)(۵) امام اکمل الدین نے ان پرانطباع کااضافہ فرمایا کہ یامنطبع ہو ، عنایہ میں ہے :
قیل کل ما یحترق بالنار فیصررمادا اوینطبع اویلین فلیس من جنس الارض[8]۔
[1] شرح النقایہ للبرجندی فصل فی التیمم مطبوعہ نولکشورلکھنؤ ۱ / ۴۷
[2] نافع شرح قدوری
[3] فتح القدیر باب التیمم نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۱۱۲
[4] جامع الرموز باب التیمم مطبعہ کریمیہ قزان (ایران) ا / ۶۹
[5] مراقی الفلاح باب التیمم مطبعہ ازہریہ مصر ص ۶۸
[6] الدرالمختار مع الشامی باب التیمم مطبع مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۷۵ تا ۱۷۶
[7] غنیۃ المستملی باب التیمم سہیل اکیڈمی لاہور ص۷۶
[8] العنایۃ مع فتح القدیر باب التیمم نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۱۱۲
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع