دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 3 | فتاوی رضویہ جلد ۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۳

سیّدنا امام الائمہ امام اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے نزدیك ہر اس چیز سے کہ جنس ارض سے ہو تیمم رواہے جبکہ غیرجنس سے مغلوب نہ ہو اور اس کے غیر سے ہمارے جمیع ائمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکے نزدیك روانہیں لہٰذا جنس ارض کی تحدید وتعدید درکار۔ اس میں چار۴ مقام ہیں :  

مقام اوّل تحدید۔

اقول :  وبالله التوفیق وبہ الوصول الی اعماق التنقیح والتحقیق (میں کہتاہوں اور توفیق خدا ہی کی جانب سے ہے ، اور اسی کی مدد سے تنقیح وتحقیق کی گہرائیوں تك رسائی ہے۔ ت) علمائے کرام نے بیان جنس ارض میں اُن آثار سے کہ اجسام میں نار سے پیداہوتے ہیں پانچ لفظ ذکرفرمائے ہیں :

(۱) احتراق                               (۲) ترمُّد
(
۳)  لین                                  (۴) ذوبان
(
۵) انطباع

اوّلًا ان کے معانی اور ان کی باہم نسبتوں کابیان ، پھر کلمات علما میں جن مختلف صورتوں پراُن کاورود ہوا اس کاذکر پھربیانات پرجواشکال ہیں اُن کا ایراد پھر بتوفقیہ تعالٰی بقدرضرورت تنقیح بالغ وتحقیق بازغ وتبیین مقاصد ودفع ایرادات وتکمیل تحدید وابانت افادات کریں وبالله التوفیق۔

بیانِ معانی الفاظ خمسہ :

احتراق : جلنا ، امثال ، مطعومات میں اس کا اطلاق اس صورت پرآتاہے کہ شَے اثرِ نار سے کُلًا یابعضًا فاسدوخارج عن المقاصد ہوجائے کھاناپکنے کواحتراق نہ کہیں گے بلکہ طبخ ونضج وادراك۔ ان کے غیرمیں کبھی آگ سے مجرد تأثرقوی کواحتراق کہتے ہیں اگرچہ اس سے اجزاومقاصد شے برقرار رہیں جیسے زمین سوختہ کہ اثرِ نار سے بشدّت ہوکرسیاہ ہوگئی درمختار میں ارضِ محترقہ کامسئلہ ذکرفرمایا کہ اس سے تیمم جائز ہے۔ طحطاوی و شامی نے کہا :

اذا حرق ترابہا من غیرمخالط لہ حتی صارت سوداء جازلان المتغیر لون التراب لاذاتہ[1]۔

جب زمین کی مٹّی کسی اورملنے والی چیز کے بغیر اس حد تك جلادی گئی ہوکہ سیاہ بن گئی ہو تو اس سے تیمم ہوسکتاہے اس لئے کہ اس سے محض مٹی کے رنگ میں تغیر آیاہے حقیقت اورذات میں تبدیلی نہیں(ت)

بلکہ ایسی اشیاء میں کبھی مقصود کے لئے مہیّا ہوجانے کو جسے مطعومات میں پك جاناکہتے تھے احتراق بولتے ہیں اسی باب سے ہے احراق احجار وتکلیس یعنی اُن کاچونابنانا۔

ترمُّد : راکھ ہوجانا

اقول :  احتراق(۱) کی چار۴صورتیں ہیں : انتفا ، انطفا ، انتقاص کہ دو۲قسم ہوجائے گا۔

انتفا یہ کہ شَے جل کر بالکل فناہوجائے جیسے رال ، گندھک ، نوشادر۔

انطفا یہ کہ بعد عملِ ناراس کے سب اجزاء برقرار رہیں یہ احتراق ارض ہے اگروہاں خارج سے پانی کی کوئی نم تھی کہ خشك ہوگئی تووہ کوئی جزء زمین نہ تھی۔

انتقاص یہ کہ نار اس کے اجزاء رطبہ یابسہ میں تفریق کردے اور جسم کاحصہ باقی رہے۔ اس صورت میں اگررطوبات بہت قلیل تھیں عمل نار سے حجمِ جسم میں فرق نہ آیانہ پہلے سے بہت ضعیف ہوگیا تویہ تکلیس احجارہے ورنہ ترمُّد۔ اس میں اگررطوبات کثیرہ سب فناہونے سے پہلے آگ بجھ گئی کہ آئندہ بوجہ بقائے رطوبت دوبارہ جلنے کی صلاحیت رہی توفحم ، انکشت ، کولاہے ورنہ رماد ، خاستر ، راکھ۔ اس میں غالبًا اجزاء بکھرجاتے ہیں یاچھوئے سے بکھر جائیں گے کہ آگ بالکل تفریفق اتصال کرچکی والعیاذ بالله تعالٰی منہا (الله تعالٰی کی اس سے پناہ مانگتے ہیں۔ ت) محاورہ عامہ میں اکثر اسی کو رماد کہتے ہیں۔

لین : نرم پڑنا۔ یہ نضج وطبخ کو بھی شامل ہے کہ ہرشے پك کراپنی حالت خامی ے نرم ہوجاتی ہے بلکہ تکلیس کوبھی کہ چونابھی اپنے پتھرسے نرم ہوگا۔

اقول :  اس میں کُلًا یا بعضًا عــہ۱ بقائے جسم شرط ہے بھڑك ہوکرفناہوجانانرم ہونانہیں ، نیز یہ بھی لازم کہ اگرچہ گرہ قدرے سست ضرور ہوئی کہ پہلی سی باہم گرفت وصلابت نہ رہی مگر عــہ۲ جسم کہ منجمد تھا اپنے انجماد پررہے نہ یہ کہ عــہ۳  پانی ہوکربہہ جائے ، بہہ  جانے کونرم پڑنا نہ کہیں گے۔

ذوبان : پگھل جانا۔

اقول : یہ وہ صورت ہے کہ اجزائے  عــہ۴موجودہ کی گرہ قریب انحلال ہے نہ توپوری کھل گئی کہ اثرِنار سے ان میں کے رطبہ یابسہ کو چھوڑکراُڑجائیں نہ وہ گرفت رہی کہ جسم کی مٹھی اگرچہ نرم پڑگئی ہوبندھی رہے جوصورت تکلیس احجار میں تھی لہٰذا یہ اجزائے رطبہ فراق چاہ کراُڑناچاہتے ہیں کہ آگ کی گرمی اسی کی مقتضی اور گرہ بہت سست ہوگئی لیکن اجزائے یابسہ انہیں نہیں چھوڑتے کہ ہنز تماسك باقی ہے اس کشمکش میں روانی توہوئی مگرمع بقائے اتصال زمین ہی پررہی اس نے صورتِ سیلان پیداکی۔

انطباع : یہ لفظ اگرچہ عربی ہے مگرزبانِ عرب پرنہیں ، نہ اُن سے کبھی منقول ہوا ولہٰذا قاموس ، محیط حتی کہ تاج العروس کے مستدرکات تك اس کاپتانہیں ، ہاں فقہائے کرام نے اس کااستعمال فرمایا ، جس کا پہلا سراغ امام شمس الائمہ سرخسی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِتك چلتاہے ، شيخ الاسلام غزینی اس کے معنی فرمائے ، پارہ پارہ ونرم ہونا۔ طحطاوی علی الدرالمختار و ردالمختارمیں ہے : قولہ ولا بمنطبع ھومایقطع

عــہ۱ : یہ تعمیم اس لئے کہ فنائے بعض اجزا جس طرح تکلیس وترمُّد میں ہے لین باقی کے منافی نہیں۔ (م)

عــہ۲ :  یعنی وہی جس قدربعد احتراق باقی ہے کل خواہ بعض ۱۲منہ (م)

عــہ۳ :  اس کے بعد بحمدالله تعالٰی ہم نے شرح مقاصدمیں دیکھا کے عدم سیلان کولین میں شرط فرمایا۔

حیث قال اللین کیفیۃ تقتضی قبول الغمزالی الباطن ویکون للشیئ بھا قوام غیرسیال ۱۲منہ غفرلہ (م)

 



[1]   ردالمحتار باب التیمم مطبع مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۷۷

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن