30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جواب (اقول) : کیوں نہیں۔ تطہیر اور ازالہ نجاست ہے مگر اسی عمل کے حق میں جس کی نیت کی۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو اس کیلئے اس تیمم سے نماز کیسے جائز ہوجاتی اور بحالت جنابت مسجد میں داخل ہونا کیسے جائز ہوجاتا اور اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں کہ کچھ چیزوں کے حق میں یہ اعتبار نہ ہو۔ اس لئے کہ یہ نجاست ، نجاستِ حکمیہ ہی تو ہے جس کا ثبوت وانتفاء شریعت کے اعتبار اور عدمِ اعتبار سے ہی ہوتا ہے ہم تو دیکھتے ہیں کہ نجاست حقیقیہ کا بھی یہ حال ہے کہ کسی انسان کے حق میں زائل ہوجاتی ہے اور
عــہ کلام فی المشروطات بالطھارۃ ومن قولہ اقول وقد تقدم کلام فی غیرھا ۱۲ منہ غفرلہ (م)
یہاں سے ان امور کے بارے میں کلام ہے جن میں طہارت کی شرط ہے۔ اور آنے والے “ اقول الخ “ سے ان کے علاوہ امور سے متعلق کلام ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
یقع طھور الماء اوقعہ لاغیر [1] اھ ومثلہ فی الحلیۃ وفی ش یقع طھارۃ لمانواہ لہ فقط [2] اھ۔
اقول : وقد تقدم قولہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم حین تیمّم لرد السلام لم یمنعنی ان ارد علیك السلام الا انی لم اکن علی طھر [3]فارشد ان التیمم لرد السلام یجعل التیمم طاھرا فی حقہ مع ان السلام لایحتاج الی الطھارۃ فاذا اعتبر مطھرًا فیما لیست الطھارۃ ضروریۃ لہ لعدم الماء حکما ففی عدمہ حقیقۃ اولی فمالاحل لہ الابالطھارۃ اجدر واحری وماابد المحقق فی الفتح من احتمال کونہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم مایصح معہ التیمّم ثم یرد السلام اذا صار طاھرا [4]اھ ردہ فی البحر بان المذھب ان التیمّم للسلام صحیح وان التجویز المذکور خلاف الظاھر
کسی کے حق میں نہیں۔ یونہی کسی امر کے لئے زائل قرار پاتی ہے کسی کے لئے نہیں۔ جیسا کہ شروع رسالہ میں گزر چکا۔ اور یہاں بدائع کے حوالہ سے گزرا کہ یہ تیمم اسی کام کیلئے طہارت بنے گا جس کیلئے اسے عمل میں لایا ، دوسرے کیلئے نہیں اھ۔ اسی کے مثل حلیہ میں ہے۔ اور شامی میں ہے : “ صرف اس عمل کیلئے طہارت بنے گا جس کی نیت کی ہے “ ۔ اھ (ت)
اقول : (میں کہتا ہوں) : رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا یہ ارشاد مبارك بیان ہوچکا ہے کہ جوابِ سلام کے لئے جب تیمم کیا تو فرمایا تھا : “ لم یمنعنی ان ارُدَّ علیك السلام “ (مجھے تمہارے سلام کا جواب دینے سے صرف یہ بات مانع تھی کہ میں باطہارت نہ تھا) اس فرمان سے یہ ہدایت حاصل ہُوئی کہ جوابِ سلام کی غرض سے ہونے والاتیمم ، تیمم کرنے والے کو جواب سلام کے حق میں طاہر بنادیتا ہے حالانکہ سلام کیلئے طہارت کی ضرورت نہیں تو جب یہ تیمم اُس عمل میں جس کیلئے طہارت ضروری نہیں پانی کے عدم حکمی کی وجہ سے مطہّر مانا گیا ہے تو عدم حقیقی کی صورت میں تو بدرجہ اولٰی مُطہّر ہوگا اور وہ عمل جو بغیر طہارت جائز ہی نہیں ہوتا اس کیلئے تو اور زیادہ مناسب وبہتر طریقہ پر مطہّر ثابت ہوگا۔ حضرت محقّق نے فتح القدیر میں یہ احتمال ظاہر فرمایا ہے کہ
کمالایخفی [5]اھ
اقول : ویلزم علی ھذا انہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کان عادما للماء حال التیمّم [6] کماحملہ علیہ الامام النووی فی شرح مسلم وھو فی غایۃ البعد اشد البعد لان الواقعۃ کانت بالمدینۃ الکریمۃ فصدر الحدیث مررجل فی سکۃ من السکك فسلم علیہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فلم یرد علیہ حتی اذاکاد الرجل ان یتواری فی السکۃ ضرب بیدیہ علی الحائط [7]الحدیث
بل فی الصحیحین اقبل رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم من نحوبئر فلقیہ رجل فسلم علیہ فلم یرد علیہ حتی اقبل علی جدار فمسح وجھہ ویدیہ ثم ردّ علیہ السلام [8] اھ وبئر جمل موضع بالمدینۃ الکریمۃ علی صاحبھا واٰلہ افضل صلاۃ وسلام۔
“ ہوسکتا ہے حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے کسی ایسے امر کی نیت کی ہو جس کے ساتھ تیمم درست ہوتا ہے پھر جب طاہر ہوگئے تو سلام کا جواب دیا ہو “ اھ لیکن البحرالرائق میں اس احتمال کو ان الفاظ میں رَد کردیا ہے کہ “ مذہب یہ ہے کہ سلام کے لئے تیمم درست اور صحیح ہے۔ اور احتمال مذکور خلاف ظاہر ہے جیسا کہ عیاں ہے “ ۔ اھ (ت)
اقول : اس احتمال کی بنیاد پر یہ بھی لازم آئے گا کہ بحالت ِتیمم حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی دسترس میں پانی نہ تھا جیسا کہ شرح مسلم میں اسی پر امام نووی نے محمول کیا ہے حالانکہ یہ بعید ہی نہیں انتہائی بعید ہے اس لئے کہ یہ واقعہ مدینہ منورہ کا ہے۔ ابتدائے حدیث کے الفاظ یہ ہیں : “ گلیوں میں سے ایك گلی میں ایك آدمی گزرا جس نے حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکو سلام کیا تو حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے جواب نہ دیا یہاں تك کہ جب وہ گلی سے اوجھل ہونے کے قریب تھا تو سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے دیوار پر دونوں ہاتھ مارے “ الحدیث۔ بلکہ صحیحین میں تو یہ صراحت ہے کہ “ رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمبئر جمل کی سمت سے تشریف لارہے تھے ایك شخص سے ملاقات ہوگئی اس نے سلام کیا حضور رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے جواب نہ دیا یہاں تك کہ ایك دیوار کے پاس آکر چہرے اور ہاتھوں پرتیمم کیا پھر اس کے سلام کا جواب دیا “ اھ۔ اور بئر جمل خود مدینہ منورہ میں ایك مقام ہے۔ صاحبِ مدینہ اور اُن کی آل پر بہتر درود وسلام۔ (ت)
چہار دہم : جنس ارض اس کی معرفت کو جنس ارض کسے کہتے ہیں اور کیا کیا چیز جنس ارض سے ہے کیا کیا نہیں امر مہم ہے کہ اُسی پر مدار مسائل تیمم ہے فاستمع وبالله التوفیق وبہ الوصول الی ذری التحقیق (تو بغور سماعت ہو۔ اور توفیق خدا ہی کی جانب سے ہے ، اسی کی مدد سے تحقیق کی بلندیوں تك رسائی ہے۔ ت)
__________________
[1] بدائع الصنائع شرائط رکن التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۵۲
[2] ردالمحتار باب التیمم مطبع مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۷۸
[3] سنن ابی داؤد باب التیمم فی الحضر مطبوعہ مجتبائی لاہور ۱ / ۴۷
[4] فتح القدیر باب التیمم مکتبہ نوریہ رضویہ سکھّر ۱ / ۱۱۴
[5] البحرالرائق باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۵۰ تا ۱۵۱
[6] شرح مسلم للنووی مع المسلم باب التیمم قدیمی کتب خانیہ کراچی ۱ / ۱۶۱
[7] سنن ابی داؤد باب التیمم فی الحضر مطبوعہ مجتبائی لاہور ۱ / ۴۷
[8] صحیح للمسلم باب التیمم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۶۱
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع