30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تین کہ ان کی ملزوم ہیں اور یہاں نیت استباحتِ نماز کے یہی معنی ہوں گے کہ وہ مانعیت جو میرے اعضاء سے قائم ہے دُور ہوجائے کہ بے اُس کے اباحت نماز نہیں ہوسکتی وہی اس کا طریقہ معینہ ہے۔ رہا کسی اور عبادت کی غرض سے تیمم مشروطہ میں قطعًا یہی قصد قلبی ہوگا کہ اس عبادت کے ادا کرنے کے قابل ہوجاؤں اور نیت اسی قصد دلی کا نام ہے تو اسے نیت استباحت اور اسے نیت رفع حدث لازم اور غیر میں قصد طہارت خود ظاہر کہ یہ تیمم نہ کیا مگر ادبًا کہ عبادت بے طہارت نہ کروں۔
وقد سلك فی البحر الرائق نحو من ذلك فقال شرطھا ان یکون المنوی عبادۃ مقصودۃ لاتصح الابالطھارۃ اواستباحۃ الصلاۃ اورفع الحدث اوالجنابۃ وماوقع فی التجنیس من ان النیۃ المشروطۃ فی التیمم ھی نیۃ التطھیر وھو الصحیح فلاینافیہ لتضمنھا نیۃ التطھیر وانما اکتفٰی بنیۃ التطھیر لان الطھارۃ شرعت للصلاۃ وشرطت لاباحتھا فکانت نیتھا نیۃ اباحۃ الصلاۃ[1] اھ۔
اقول : (۱) صدر کلام یقتضی ان الاصل نیۃ التطھیر وجازت نیۃ استباحۃ الصلاۃ لتضمنھا ماھو المقصود وعُجزہ یقضی بالعکس ان نیۃ التطھیر تنبئ عن الاصل فاکتفی بھا ولفظ المحقق فی الفتح بعد نقل کلام التجنیس ومازاد
اور البحرالرائق میں بھی کچھ اسی طرح کی راہ اختیار کی ہے ، لکھتے ہیں : اس کی(تیمم نمازکی ) شرط یہ ہے کہ جس امر کی نیت کی گئی وہ ایسی عبادت مقصودہ ہو جو بغیر طہارت درست نہیں یا جواز نماز یا رفع حدث یا رفع جنابت کی نیت ہو۔ اور یہ جو تجنیس میں لکھا ہوا ہے کہ “ تیمم میں جس نیت کی شرط ہے وہ نیت تطہیر ہے اور یہی صحیح ہے “ تو یہ عبارت ہمارے مذکورہ بیان کے منافی نہیں اس لئے کہ جواز نماز کی نیت کے ضمن میں تطہیر کی نیت بھی پالی جائے گی اور تجنیس میں صرف نیت تطہیر پر اس لئے اکتفا فرمایا ہے کہ طہارت نماز کیلئے مشروع ہُوئی ہے اور جوازِ نماز کیلئے طہارت کی شرط بھی ہے تو طہارت کی نیت جواز نماز کی بھی نیت ہے “ اھ (ت)
اقول : بحر کے شروع کلام کا اقتضا یہ ہے کہ اصل ، نیتِ تطہیر ہے۔ اور اباحت نماز کی نیت اس لئے جائز ہے کہ اس کے ضمن میں وہ نیت تطہیر بھی پالی جاتی ہے جو اصل مقصود ہے۔ اور ان کے کلام کا آخری حصہ اس کے برعکس یہ فیصلہ دے رہا ہے کہ تطہیر کی نیت چُونکہ اصل
غیرہ من نیۃ استباحۃ الصلاۃ لاینافیہ اذا یتضمن نیۃ التطھیر [2] اھ وجعل فی الحلیۃ الاصل ارادۃ الصلاۃ فقال لفظ التیمم ینبئ عن القصد والاصل(۱) ان یعتبر فی الاسماء الشرعیۃ ما تنبئ عنہ من المعانی ثم مطلق القصد غیر مراد بالاجماع وسوق الاٰیۃ یفید الامر بالقصد الی الصعید لاقامۃ الصلاۃ عند عدم الماء المطلق فیتقید الامر بہ فلایوجد المأمور الشرعی وھو التیمم بدون نیۃ فعلہ للصلاۃ اولما ھو منزل منزلتھا وھو عبادۃ مقصودۃ بنفسھا لاتصح الابالطھارۃ فلاجرم ان ذکر القدوری ان الصحیح من المذھب انہ اذانوی الطھارۃ اواستباحۃ الصلاۃ اجزأہ لان کلامن النیتین تقوم مقام نیۃ ارادۃ الصلاۃ لان الطھارہ شرعت لھا وشرطت لاباحتھا ومثلہ رفع الحدث ورفع الجنابۃ[3] اھ۔
(جوازِ نماز کی نیت) کا پتا دیتی ہے اس لئے اس پر اکتفا کیا۔ حضرت محقق نے فتح القدیر میں تجنیس کی عبارات نقل کرنے کے بعد یہ تحریر فرمایا ہے : “ دوسرے حضرات نے جواز نماز کی نیت کا جو اضافہ کیا ہے وہ اس عبارت کے منافی نہیں اس لئے کہ جواز کی نیت ، نیتِ تطہر پر بھی مشتمل ہوگی “ اھ۔ (یعنی جب جوازِ نماز کی نیت ہوگی تو اس کے ضمن میں نیتِ تطہیر جو اصل ہے یہ بھی پالی جائے گی ۱۲ م الف) اور حلیہ میں ارادہ نماز کو اصل قرار دیا ہے۔ اس میں لکھتے ہیں : “ لفظ تیمم کا معنی قصد ہے اور قاعدہ یہ ہے کہ شرعی الفاظ جن معانی کا اظہار کرتے ہیں انہی کا اعتبار ہو پھر مطلق قصد بالاجماع مراد نہیں اور آیت کا سیاق یہ بتاتا ہے کہ آبِ مطلق نہ ہونے کے وقت نماز کی ادائیگی کے لئے قصدِ صعید کا حکم ہے۔ تو یہ امر اسی سے مقید رہے گا۔ اس لئے مامور شرعی یعنی تیمم بغیر اس کے نہ پایا جائے گا کہ نماز کے لئے اسے عمل میں لانے کی نیت ہویا ایسے کام کے لئے جو نماز کے قائم مقام ہویعنی کسی ایسی عبادت مقصودہ کیلئے جو بغیر طہارت جائز نہ ہو یقینًا اسی لئے قدوری نے ذکر فرمایا ہے کہ “ صحیح مذہب یہ ہے کہ جب طہارت یا جواز نماز کی نیت کرے تو کافی ہوگی اس لئے کہ دونوں نیتوں میں سے ہر ایك ارادہ نماز کی نیت کے قائم مقام ہے کیوں کہ طہارت اسی کیلئے مشروع ہوئی اور اس کے جواز کیلئے طہارت کی شرط بھی ہے رفعِ حدث اور رفعِ جنابت کی نیت بھی اسی کے مثل ہے “ ۔ اھ (ت)
اقول : فی قولہ فیتقید الامر بہ فلا یوجد الخ ۔ نظر ظاھر لما قدمنا عن البدائع ان حکم التیمم وارد علی خلاف القیاس وقد قال فی الحلیۃ نفسھا صدر الفصل التعبد ورد بمسحھما علی الاعضاء المخصوصۃ۔ الخ فلوتقید الامر الوارد بارادۃ الصلاۃ لم یجز التیمم لغیرھا کدخول المسجد وتلاوۃ القراٰن للجنب او مسہ للمحدث وھو خلاف الاجماع ولیست فی معنی الصلاۃ من کل وجہ حتی تلحق بھا دلالۃ لاسیما وقد حصر المنزل منزلتھا فی عبادۃ مقصودۃ الخ بل الصواب عندی ان الله سبحٰنہ وتعالٰی انزل من السماء ماء طھورا لیطھرنا بہ وامرنا بہ فی الوضوء والغسل لالخصوص اقامۃ الصلاۃ بل لکل مایطلب فیہ الطھارۃ مقصودا بنفسہ کان اولا ثم قال فلم تجدوا ماء ای کافیا لطھرکم فتیمّموا لتطھیرکم صعیدا طیبا فالاصل ھو نیۃ التطھیر کماافادہ ما فی الفتح والکل انما یدور علیہ ولذا اقتصر علیہ الامام البرھان فی التجنیس وماالتطھیر المراد ھنا الا ازالۃ النجاسۃ الحکمیۃ وھو الذی اخذتہ فی التعریف فالحمدالله الذی القی فی قلبی واجری علی قلمی ماھو الامر المحقق عند محقق الائمۃ الکرام
اقول : صاحبِ حلیہ کا کلام “ تو یہ امر اسی سے مقید رہے گا الخ “ ۔ عیاں طور پر محلِ نظر ہے۔ اس لئے کہ بدائع کے حوالہ سے ہم پہلے یہ بیان کرچکے ہیں کہ تیمم کا حکم خلافِ قیاس وارد ہے۔ خود حلیہ میں بھی شروع فصل میں لکھا ہے کہ “ التعبد ورد بمسحھما علی الاعضاء المخصوصۃ یعنی بر خلاف قیاس بطور عبادت اعضائے مخصوصہ پر ان دونوں کے مسح کا حکم وارد ہوا ہے “ اب یہ وارد ہونے والا حکم اگر ارادہ نماز سے مقید ہوتا تو کسی غیر نماز جیسے مسجد میں داخل ہونا ، جنابت والے کا قرآن پڑھنا ، بے وضو شخص کا مصحف چھُونا کسی کام کیلئے تیمم جائز ہی نہ ہوتا اور یہ اجماع کے خلاف ہے اور یہ افعال ہر جہت سے معنی نماز میں داخل نہیں ہیں کہ بطور دلالت انہیں نماز سے لاحق کردیا جائے۔ خصوصًا جب کہ صاحبِ حلیہ نماز کے قائم مقام فعل کو ایسی عبادت مقصودہ میں محصور قرار دے رہے ہیں جو بغیر طہارت صحیح نہیں ہوتی ، بلکہ میرے نزدیك صحیح یہ ہے کہ الله سبحانہ وتعالٰی نے ہماری تطہیر کیلئے آسمان سے پاك پانی اتارا۔ اور وضو وغسل میں اسے استعمال کرنے کا ہمیں حکم دیا۔ خاص ادائے نماز کیلئے نہیں بلکہ ہر اس کام کیلئے جس میں طہارت مطلوب ہو خواہ وہ بجائے خود مقصود ہو یا نہ ہو۔ پھر فرمایا : “ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً “ ای کافیا لطھرکم (فتیمموا) لتطھیرکم (صعیدا طیبا) یعنی تم اپنی طہارت کیلئے کافی پانی نہ پاؤ اپنے کو پاك کرنے کیلئے
والحمدلله ولی الانعام۔
پاکیزہ رُوئے زمین کا قصد کرو۔ تو اصل وہی نیت
تطہیر ہے جیسا کہ حضرت محقق نے فتح القدیر میں افادہ فرمایا۔ اور اسی نیت پر ہر ایك کام کا مدار ہے۔ اسی لئے امام برہان الدین مرغینانی نے تجنیس میں اسی پر اکتفا کیا۔ اور یہاں جو تطہیر مقصود ہے وہ یہی نجاست حکمیہ کا دُور کرنا ہے۔ اسی کو میں نے اپنی تعریف میں لیا ہے۔ تو خدا کا شکر ہے کہ میرے دل میں اسی کا القا فرمایا اور میرے قلم پر وہی جاری کیا جو محققین ائمہ کرام کے نزدیك امر محقَّق ہے۔ اور ساری خوبیاں احسان وانعام کے مالك خدا ہی کیلئے ہیں۔ (ت)
بقی ان یقال این التطھیر وازالۃ النجاسۃ فی الصورتین الاخیر تین اذلوطھر وزالت لجازلہ کل شیئ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع