30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عــہ اقول : انما علل بھذا اما عدم خوف الفوت فعلل بہ دعواہ انہ لم یوجد واحد منھما وذلك لان الماء موجود حقیقۃ والقدرۃ علی استعمالہ حاصلۃ فانما یکون معدوما حکما لخوف الفوت وھھنا لاخوف وبہ ظھرانہ لایصح جعلھماتعلیلین مستقلین فی الواقع ایضا ۱۲منہ غفرلہ (م)
اقول : شرح منیہ میں صرف یہی ایك علّت بتائی ہے۔ اور اندیشہ فوت نہ ہونے کا ذکر اپنے اس دعوٰی کی دلیل میں کیا ہے کہ “ دونوں باتوں میں سے ایك بھی نہ پائی گئی “ ۔ یہ اس لئے کہ پانی حقیقۃً موجود ہے اور اس کے استعمال کی قدرت بھی ہے۔ پانی فوتِ عمل کے اندیشہ ہی کے وقت حکمًا معدوم قرار پاتا ہے اور یہاں خوف نہیں (تو حکمًا بھی معدوم نہیں) اسی سے یہ بھی ظاہر ہوگیا کہ فی الواقع بھی ان دونوں کو دو مستقل تعلیلیں قرار دینا صحیح نہیں ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
واحد منھما فلایجوز اھ فیفید ان التیمم لمالا تشترط لہ الطھارۃ غیر معتبر اصلا مع وجود الماء الا اذاکان ممایخاف فوتہ لا الی بدل فلوتیمم المحدث للنوم اولدخول المسجد مع قدرتہ علی الماء فھو لغوبخلاف تیممہ لرد السلام مثلا لانہ یخاف فوتہ لانہ علی الفور ولذا فعلہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم وھذا الذی ینبغی التعویل علیہ [1] اھ۔
اقول : فی الاستدلال بالمنیۃ علی منع التیمّم مع وجود الماء لغیر المشروطۃ بالطھارۃ نظر عــہ
میں سے ایك بھی نہ پائی گئی اس لئے تیمم جائز نہیں اھ اس سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ وہ عمل جس میں طہارت کی شرط نہیں ہے اس کیلئے پانی ہوتے ہوئے تیمم کا کوئی اعتبار نہیں مگر جب ایسا عمل ہو جس کے بارے میں اندیشہ ہوگا کہ فوت ہوجائے گا اور اس کا کوئی بدل بھی نہیں (تو اس کے لئے تیمم جائز ہے)۔ اس لئے اگر بے وضو شخص نے پانی پر قادر ہونے کے باوجود سونے کیلئے یا مسجد میں داخل ہونے کیلئے تیمم کیا تو وہ لغو ہے۔ اس کے برخلاف جوابِ سلام کیلئے تیمم جائز ہے کیونکہ اس کے فوت ہونے کا خطرہ ہے اس لئے کہ سلام کا جواب فورًا دینے کا حکم ہے۔ اسی لئے حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے اسے کیا __یہ وہ بات ہے جس پر اعتماد ہونا چاہئے اھ (ت)
اقول : جس عبادت میں طہارت شرط نہیں ہے اس کیلئے پانی ہوتے ہُوئے تیمم کے عدم جواز پر منیہ کی عبارت سے استدلال میرے نزدیك
عــہ اوردھا فی الدر ردا علی مافی البحر من جواز التیمّم لکل ما لا تشترط لہ الطھارۃ مع وجود الماء فان عبارۃ المنیۃ شاملۃ لدخول المسجد لصاحب الحدث الاصغر واجاب ح کما فی ش وتبعہ ط بتخصیص الدخول بالجنب قال
منیہ کی عبارت درمختار میں نقل کی ہے جس سے شارح اس کی تردید کرنا چاہتے ہیں جو صاحبِ بحر نے لکھا ہے کہ ہر وہ عمل جس میں طہارت شرط نہیں ہے اس کیلئے پانی ہوتے ہوئے بھی تیمم جائز ہے۔ منیہ کی عبارت سے تردید اس طرح ہوتی ہے کہ یہ عبارت (جس میں تیمم نہ ہونے کا ذکر ہے) بے وضو شخص کے مسجد میں داخل ہونے کو بھی شامل ہے سید حلبی نے(باقی برصفحہ آئندہ)
عندی وکذا فی استدلال البحر بالمبتغی ، والدر بالبزازیہ عــہ١ علی جوازہ کمابینہ
محل نظر ہے۔ اسی طرح اس کے جواز پر مبتغی کی عبارت سے البحرالرائق کے ، اور بزازیہ کی عبارت سے درمختار
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
ش ولایخفی انہ خلاف المتبادر ولذا عللہ فی شرح المنیۃ بماذکرہ الشارح [2] الخ۔
اقول : دلالۃ التعلیل مسلم اما(۱) المتبادر فلقائل ان یقول لابل الظاھر ارادۃ مایحتاج الی الطھور ولذا قال فی الحلیۃ وکذا لوتیمّم لغیر ھذین الامرین من الامور التی لاتستباح الابالطھارۃ مع وجود الماء والقدرۃ قال وقد کان الاولی ترك التعرض لھذا لظھورہ وعدم الخلاف فیہ[3] اھ۔ فافھم ۱۲ منہ غفرلہ (م)
عــہ١ بل حاول العلامۃ ش ان یستدل بھا علی خلافہ وھو المنع فقال عبارۃ البزازیۃ لوتیمّم عند عدم الماء لقراء ۃ قراٰن عن ظھر قلب او من المصحف اولمسہ اولدخول المسجد اوخروجہ اولدفن اوزیارۃ قبراوالاذان اوالاقامۃ لایجوزان یصلی بہ عند العامۃ
جیسا کہ شامی میں ہے۔ اور سید طحطاوی نے بھی حلبی کا اتباع کیا ہے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ یہ دخولِ مسجد خاص جنب (بے غسل) سے متعلق ہے اس پر علامہ شامی نے کہا کہ یہ متبادر مفہوم کے خلاف ہے اور اسی لئے شرح منیہ میں اس حکم کی علّت وہ بتائی ہے جو شارح نے ذکر کی الخ۔ (ت)
اقول : تعلیل کی دلالت تو تسلیم ہے ، رہی تبادر کی بات تو اس پر کہنے والا یہ کہہ سکتا ہے کہ نہیں ، بلکہ ظاہر یہ ہے کہ وہ عمل مراد ہو جس کیلئے طہارت کی احتیاجی ہے۔ اسی لئے حلیہ میں یہ لکھا ہے “ اور یہی حکم ہے اگر پانی اور قدرت ہوتے ہوئے ان دو کاموں کے علاوہ ایسے امور کیلئے تیمم کیا جو بغیر طہارت جائز نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے تعرض نہ کرنا ہی بہتر تھا اس لئے کہ یہ ظاہر ہے ، اور اس میں اختلاف بھی نہیں اھ۔ اسے سمجھو۔ ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
بلکہ علامہ شامی نے اس عبارت سے درمختار کے برخلاف ، منع پر استدلال کرنا چاہا ہے۔ وہ لکھتے ہیں : “ بزازیہ کی عبارت یہ ہے : اگر پانی نہ ہونے کے وقت ، یاد سے یا مصحف سے قرآن پڑھنے ، یا مصحف چھُونے ، یا مسجد میں داخل ہونے ، یا نکلنے ، یا دفن کرنے ، یا زیارتِ قبر ، یا اذان یا اقامت کیلئے تیمم کیا تو عامہ علماء کے نزدیك اس تیمم سے نماز کی ادائیگی(باقی برصفحہ آیندہ)
ش وقضیۃ الدلیل المنع۔
کے استدلال پر بھی کلام ہے جیسا کہ علامہ شامی نے اسے بیان کیا ہے اور دلیل کا اقتضا یہ ہے کہ ممنوع ہو۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
ولوعند وجود الماء لاخلاف فی عدم الجواز اھ۔ فقولہ لاخلاف فی عدم الجواز ای عدمہ جواز الصلاۃ بہ ظاھر فی عدم صحتہ فی نفسہ عند وجود الماء فی ھذہ المواضع لان من جملتھا التیمّم لمس الصحف ولاشبھۃ فی انہ عند وجود الماء لایصح اصلا [4] اھ۔ کلام ش۔
اقول : انما مفادہ الاجماع علی عدم جواز الصلاۃ بہ وھو حاصل قطعًا فان التیمّم الذی فعل مع القدرۃ علی الماء کیف تسوغ بہ الصلاۃ ولانظر فیہ الی کونہ جائزا فی نفسہ اولا الاتری ان التیمم لتعلیمہ جائز قطعا مع وجود الماء ولاتجوز بہ الصلاۃ وکون بعض ماذکر لایصح لہ التیمم کمس المصحف لایقضی ان الکل کذلك فالقراٰن فی الذکر لیس عندنا قراٰنا فی الحکم
جائز نہیں اور اگر پانی ہوتے ہوئے ان امور کیلئے تیمم کیا تو عدمِ جواز میں کوئی اختلاف نہیں “ اھ۔ تو یہ عبارت کہ “ عدمِ جواز یعنی اس تیمم سے نماز کے عدمِ جواز میں کوئی اختلاف نہیں “ ۔ اس بارے میں ظاہر ہے کہ پانی ہوتے ہوئے ان مقامات میں یہ تیمم خود بھی درست نہیں کیوں کہ ان ہی میں وہ تیمم بھی ذکر ہُوا ہے جو مصحف چھُونے کیلئے ہو اور پانی ہوتے ہوئے اس کے نا درست ہونے میں قطعًا کوئی شبہ نہیں اھ۔ شامی کا کلام ختم ہوا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع