دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 3 | فتاوی رضویہ جلد ۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۳

اقول : “ نماز فرض “ کا لفظ قید نہیں (نماز نفل یا دوسری عبادت کی ادائیگی کا بھی یہی حکم ہوگا) جیسا کہ مخفی نہیں پھر__  (غور طلب بات یہ ہے کہ) دونوں ہی عبارتوں میں اُس کے برخلاف ہے جو علما نے ذکر کیا ہے کہ سجدہ شکر کا مستحب ہونا صاحبین کا قول ہے لیکن غنیہ میں بھی مصفی کے حوالہ سے اسی کے مثل لکھا ہُوا ہے جب ایسا ہے تو اس مسئلہ میں امام ابویوسف سے دو۲ روایتیں ہیں۔

اقول :  شارح (صاحبِ درمختار) پر تعجب ہے کہ سجدہ شکر کی نفی کو انہوں نے اصح کیسے قرار دیا جب کہ خود ان کی عبارت موجود ہے کہ “ سجدہ شکر مستحب ہے اسی پر فتوٰی دیا جاتا ہے اھ۔ اور اس میں شك نہیں کہ سجدہ شکر کے استحباب پر فتوی اس پر بھی فتوی ہے کہ اس کی ادائیگی کیلئے جوتیمم کیا گیا ہو اس سے نماز جائز ہے۔ غنیہ میں مصفی کے حوالہ سے ہے : “ صاحبین نے فرمایا : سجدہ شکر قربت ہے جس پر ثواب (باقی برصفحہ آئندہ)

جنب بنیۃ الوضوء بہ یفتی [1]۔

ہونے والاتیمم) خارج ہوگیا اور وضو کی نیت سے جنابت والے کاتیمم صحیح ہے۔ اسی پر فتوی دیا جاتا ہے۔ (ت)

ردالمحتار میں ہے :

قولہ فی حق جواز الصلاۃ امافی حق صحتہ لنفسہ فتکفی نیۃ ماقصدہ لاجلہ ای عبادۃ کانت عند فقد الماء وعند وجودہ

اس کا قول جوازِ نماز کے حق میں __ لیکن خود صحت تیمم کے حق میں تو اسی عمل کی نیت کافی ہے جس کے لئے تیمم کا قصد کیا خواہ وہ کوئی عبادت ہو یہ اُس صورت میں ہے جب پانی نہ ہو اور پانی موجود

 

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)

اذا نام فی سجود الشکر وفیما اذا تیمم لسجدۃ الشکر ھل تجوز الصلاۃ بہ اھ۔  ای فجواب محمد فی الاولی لاوفی الثانیۃ نعم وجواب الامام بالعکس۔

اقول :  وعلی ماحققنا فی رسالتنا نَبّہ القوم من اعتبار الھیأۃ مطلقًا لاخلف فی الاولی والله تعالٰی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ (م)

ہوگا۔ اور نظم کے ظاہر سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے۔ اور ثمرہ اختلاف ان دو مسئلوں میں ظاہر ہوگا :

(۱) سجدہ شکر میں سوجائے تو طہارت ٹوٹے گی یا نہیں؟

(۲) سجدہ شکر کی ادائیگی کیلئے تیمم کرے تو اس تیمم سے نماز کی ادائیگی جائز ہوگی یا نہیں؟ اھ “ یعنی پہلے مسئلہ میں امام محمد کا جواب یہ ہوگا کہ نہیں ٹوٹے گی اور دوسرے میں یہ جواب ہوگا کہ نماز جائز ہوگی اور امام صاحب کا جواب برعکس ہوگا۔

اقول : ہم نے اپنے رسالہ “ نبہ القوم ان الوضوء من ایّ نوم “ (۱۳۲۵ھ) میں تحقیق کی کہ مطلقًا ہیأت کا اعتبار ہے اس کی بنیاد پر پہلے مسئلہ میں کوئی اختلاف ظاہر نہ ہوگا (یعنی یہ سجدہ قربت ہو یا نہ ہو اس ہیئت پر سونے سے طہارت نہیں ٹوٹتی تو دونوں ہی قول پر ایك جواب ہوگا ۱۲ م الف) والله تعالٰی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ (ت)

یصح بعبادۃ تفوت لاالی خلف [2]۔

ہونے کی صورت میں صحتِ تیمم کیلئے ایسی عبادت کی نیت شرط ہے جو فوت ہوجائے تو اس کا کوئی بدل نہ ہو۔ (ت)

دُرمختار میں ہے :

قالوا لوتیمّم لدخول مسجد اوقراء ۃ ولومن مصحف اومسہ کتابتہ تعلیمہ زیارۃ قبورعیادۃ مریض دفن میت اذان  اقامۃ اسلام سلام ردہ لم تجز الصلٰوۃ بہ فتاوٰی الرملی وظاھرہ انہ یجوز فعل ذلك[3]۔                                                                                                             

علما نے فرمایا ہے : مسجد میں داخل ہونا ، قرآن پڑھنا ، اگر چہ مصحف سے پڑھے ، قرآن چھُونا ، لکھنا ، سکھانا ، زیارتِ قبور ، عیادت مریض ، دفنِ میت ، اذان ، اقامت ، اسلام ، سلام ، جوابِ سلام اگر ان امور کے لئے تیمم کیا تو اس سے نماز کی ادائیگی جائز نہیں فتاوٰی رملی __اس کا ظاہر یہ ہے کہ خود ان امور کی ادائیگی جائز ہے۔ (ت)

ردالمحتار میں ہے :

التیمّم لھذہ المذکورات التی لاتشترط لھا الطھارۃ صحیح فی نفسہ یجوزفعلہ عند فقد الماء والا فلا نعم ما عــہ یخاف فوتہ بلابدل من ھذہ المذکورات یجوز مع وجود                                                                                                                                                                                                                                                                               

یہ مذکورہ افعال جن میں طہارت کی شرط نہیں ہے ان کے لئے تیمم فی نفسہ درست ہے جو پانی نہ ملنے کے وقت جائز ہے مگر پانی ہوتے ہوئے جائز نہیں ، ہاں ان امور میں سے وہ جس کے بارے میں کسی بدل کے

 

عــہ کسلام و ردہ اقول :  قد یکون منہ الدفن اعنی تعجیل الماموربہ اذاخیف علی المیت فی المکث وقد یکون منہ عیادۃ المریض اذا اشتد الامر علیہ ۱۲ منہ غفرلہ۔  (م)                               

جیسے سلام وجوابِ سلام __ اقول : اس میں دفن بھی کسی وقت آسکتا ہے یعنی تعجیلِ دفن جس کا اس وقت حکم دیا گیا ہے جب ٹھہرنے کی صورت میں میت کے لئے خطرہ ہو اور مریض کی عیادت بھی اس میں شامل ہوسکتی ہے جب بیمار کا حال سنگین ہو۔ ۱۲ منہ غفرلہ (ت)

الماء [4]ملخصًا

بغیر فوت ہونے کا اندیشہ ہو اس کے لئے پانی ہوتے ہوئے بھی تیمم جائز ہے۔ (ت)

دُرمختار میں منیہ وشرح منیہ سے ہے :

تیمّمہ لدخول مسجد ومس مصحف مع وجود الماء لیس بشیئ بل ھو عدم لانہ لیس بعبادۃ یخاف فوتھا[5]۔

$&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن