30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہ آبادی خود ہی وجود آب کی کھلی ہوئی دلیل ہے کیونکہ آبادی پانی سے ہی قائم ہوتی ہے تو عدمِ آب ایك طرح سے ثابت ہے اور ایك طرح سے ثابت نہیں اور جوازتیمم کیلئے عدم مطلق شرط ہے جو بغیر تلاش کیے آبادیوں میں ثابت نہ ہوسکے گا۔ اسی طرح قریب میں پانی کے غلبہ ظن کی صورت میں بھی وہ بات نہیں کیوں کہ جوجوب عمل کے حق میں غلبہ ظن یقین کا کام کرتا ہے۔ (ت)
منیہ میں ہے :
شرطہ النیۃ وکذا طلب الماء ان غلب علی ظنہ ان ھناك ماء اوکان فی العمرانات [1] اھ
اقول : وبھذہ النصوص ظھر ان الحکم سواء فیما اذا ظن فی فلاۃ بامارۃ اوکان فی مظنۃ کالعمرانات اوقربھا انہ لایصح تیمّمہ بدون الطلب وان ظھر بعدُ عدم الماء افادہ اطلاق المحیط والخلاصۃ وقد صرح بہ فی السراج فان وجوب الطلب شامل للفصلین وذلك لان الطلب فی المظنۃ شرط جوازہ کما نص علیہ فی المنیۃ والمستصفی ،
وقد اوضحہ
تیمم کی شرط نیت ہے اور اسی طرح پانی کا تلاش کرنا بھی شرط ہے اگر اسے غالب گمان ہوکہ وہاں پانی ہوگا یا وہ آبادیوں میں ہو “ ۔ اھ(ت)
اقول : انہی نصوص سے یہ بھی ظاہر ہوگیا کہ کسی جنگل میں کوئی علامت دیکھ کر گمان کر رہا ہو یا آبادی وقرب آبادی جیسی گمانِ آب کی جگہ میں ہو دونوں صورتوں میں یہ حکم یکساں ہے کہ پانی تلاش کئے بغیرتیمم درست نہیں اگرچہ بعد میں یہی ظاہر ہو کہ وہاں پانی کا وجود نہیں اس کا افادہ اس سے ہُوا کہ محیط اور خلاصہ نے بغیر تلاشِ آب ، تیمم کو مطلقًا ناجائز کہا اور سراج وہاج میں تو اس کو صراحۃً بیان کردیا کیونکہ اس کی عبارت “
لوتیمم من غیر طلب وکان
فی البحر غایۃ الایضاح فاذا فقد الشرط فقد المشروط فبطلت الصلاۃ وظھور عدم الماء لایجعل المفقود موجودا ولا الباطل صحیحا فماوقع فی الحلیۃ بعدمانقلنا عنھا من قولہ وھذا یفید انہ لوکان فی العمران اوبقرب من العمران فتیمم وصلی قبل الطلب ولم یستکشف عن الحال انہ لایجوز وھو ظاھر الخلاصۃ حیث قال فیھا (فنقل ماقدمناہ قال) لکن فی البدائع وکذلك اذا کان بقرب من العمران یجب علیہ الطلب حتی لوتیمم وصلی ثم ظھر الماء لم تجز صلاتہ لان العمران لایخلو عن الماء ظاھرا وغالبا والظاھر یلحق بالمتیقن فی الاحکام انتھی۔ ولعلہ قید اتفاقی بدلیل التعلیل المذکور او احتراز عما لواستکشف الحال فلم یجد بالعمران فان الظاھر جواز صلاتہ لظہور انتفاعہ ذلك الظاہر ویحمل مافی الخلاصۃ علی ما اذا لم یستکشف الحال کماھو ظاھرھا[2]اھ
الطلب واجبا “ (اگر بلاتلاش تیمم کرلیا جبکہ تلاش کرنا واجب تھا)میں “ وجوب تلاش “ دونوں ہی صورتوں کو شامل ہے۔ اور عدمِ جوازتیمم کا حکم اس لئے ہے کہ جہاں وجوب آب کا گمان ہو وہاں پہلے پانی تلاش کرلیناتیمم جائز ہونے کی شرط ہے۔ جیسا کہ منیہ اور مستصفی میں اس کی صراحت ہے۔
اور البحرالرائق میں تو اسے انتہائی وضاحت سے بیان کیا ہے تو جب شرط مفقود ہوئی مشروط بھی مفقود ہوا (شرط_ تلاش آب _نہ پائی گئی تو مشروط جوازتیمم بھی نہ پایا گیا) تو نماز بھی باطل ہوئی اور بعد میں وہاں پانی کا عدم وجود ظاہر ہونے سے مفقود (تیمم) موجود نہیں ہوسکتا اور نہ ہی باطل(نماز)صحیح قرار پاسکتاہے۔ اس تمہید کے بعد اب حلیہ کی درج ذیل عبارت دیکھیے جو حلیہ کے حوالہ سے اُوپر نقل کی ہُوئی عبارت کے بعد آئی ہے : “ اس سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ اگر آبادی میں یا آبادی کے قریب ہے اور پانی تلاش کیے بغیرتیمم کرکے نماز پڑھ لی اور بعد میں بھی حقیقتِ حال (وہاں پانی ہونے نہ ہونے کی تفتیش نہ کی) تو جائز نہیں اور خلاصہ سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کیوں کہ اس کے الفاظ یہ ہیں (اس کے بعد صاحبِ حلیہ نے خلاصہ کی وہ عبارت نقل کی ہے جو ہم اوپر درج کر آئے ہیں) لیکن بدائع میں یہ لکھا ہُوا ہے کہ “ اور اسی طرح جب آبادی کے قریب ہو تو بھی پانی تلاش کرنا واجب ہے۔ یہاں تك کہ اگرتیمم کرکے نماز پڑھ لی پھر پانی ہونا ظاہر ہوا تو اس کی نماز جائز نہ ہوئی۔ اس لئے کہ ظاہرًا اور عمومًا آبادی پانی سے خالی نہیں ہوتی اور احکام کے معاملہ میں ظاہر ملحق
اقول : تجویزہ الاول اعنی جعلہ قید ثم ظھر الماء فی عبارۃ البدائع اتفاقیا ھو الصواب وکفی دلیلا علیہ التعلیل المذکور کما قال و تجویزہ الاٰخر اعنی استظھارہ جواز صلاتہ اذا طلب بعد فلم یجد بحث صادم المنقول والمعقول فالمعقول(۱) ماقرر الفقیر ان الشرع ادار الامر ھھنا علی عدم علمہ بالماء ولم ینظر الی وجودہ فی نفس الامر اوعدمہ فاذاظن الماء اوکان فی مظنتہ فقد انتفی عدم العلم فلم یصح التیمّم سواء ظھر بعد وجود الماء اوعدمہ الاتری ان من نسی الماء فی رحلہ اوضرب الخباء علی بئر وھو لایعلم فتیمّم وصلی ثم ذکر وظھر لااعادۃ علیہ فکما ان ظھور الماء لم یجعل تیممہ الصحیح غیر صحیح کذلك ظھور عدمہ لایجعل تیممہ الفاسد غیر فاسد(۲) والمنقول
بہ یقین ہے (عبارت بدائع ختم) شاید یہ (نماز کے عدمِ جواز کیلئے بعد میں پانی ظاہر ہونے کی قید) قیدِ اتفاقی ہے (ورنہ اگر بعد میں ظاہر ہو کہ پانی نہیں جب بھی قبل تلاش جوتیمم کیا اس تیمم سے پڑھی ہُوئی نماز باطل ہی ہے) اس کی دلیل وہ تعلیل ہے جو صاحبِ بدائع نے خود ذکر کی یا اس قید کے ذریعہ اُس صورت سے احتراز مقصود ہے جب بعد نماز حقیقتِ حال کی تفتیش کی اور آبادی میں پانی نہ پایا۔ کیوں کہ اس صورت میں ظاہر یہ ہے کہ اس کی نماز ہوگئی اس لئے کہ (بلحاظ غالب) وہاں جو ظاہر تھا (پانی کا وجود) اس کا نہ ہونا (عدم وجودِ آب) ظاہر ہوگیا اور خلاصہ میں جو بیان کیا گیا ہے وہ اُس صورت پر محمول ہوگا جب بعد نماز حقیقت حال کی تفتیش ہی نہ کی ہو جیسا کہ اس کی ظاہر عبارت سے پتہ چلتا ہے “ ۔ اھ (ت)
اقول : عبارت بدائع سے متعلق صاحبِ حلیہ نے جو پہلی تجویز رکھی وہی صحیح ہے یعنی یہ کہ “ ثم ظھر الماء “ (عدمِ جواز نماز کیلئے بعد میں پانی ظاہر ہونے) کی قید اتفاقی ہے اور اس کی دلیل کیلئے ان کی ذکر کی ہوئی تعلیل ہی کافی ہے جیسا کہ صاحبِ حلیہ نے خود کہا لیکن حلیہ کی دوسری تجویز یعنی یہ اظہار کہ جب بعد نماز پانی تلاش کرے اور نہ پائے تو نماز جائز ہوجائے یہ ایسی بحث ہے جو نقل وعقل سے متصادم ہے۔ عقلی دلیل تو وہ ہے جس کی فقیر نے تقریر کی کہ شریعت نے یہاں مدارِ امر عدمِ علم آب پر رکھا ہے اور واقع میں اس کے وجود و عدم پر نظر نہیں کی ہے تو جب پانی کا گمان ہو یا گمان کی جگہ ہو تو عدم علم نہ رہا اس لئے تیمم نہ ہُوا خواہ بعد میں پانی کا وجود ظاہر ہو یا عدم ظاہر ہو۔ دیکھئے جسے اپنے خیمہ یا کجاوہ میں پانی ہونا یاد نہ رہا یا جس نے لاعلمی میں کسی کُنویں پر خیمہ لگایا اورتیمم کرکے نماز پڑھ لی پھر اسے یاد آیا ، یا وہاں پانی ہونا ظاہر ہوا تو اس پر نماز کا اعادہ
ماتقدم من تصریح السراج ومثلہ فی الجوھرۃ النیرّۃ وبہ(۱) ظھر ان تقییدہ فی الاستفادۃ بقولہ ولم یستکشف غیر صحیح بل الحکم مطلق وجعلہ(۲) ایاہ ظاھر الخلاصۃ ممنوع بل صریحھا الاطلاق۔
فان قلت : حاصل ما قررت ھھنا ان لوظن القدرۃ علی الماء لایصح تیمّمہ وان ظھر بعد وانہ عاجز ولوظن العجز صح وان ظھر بعدُ انہ قادر فالمبنی ظنہ لامایظھر بعدہ وھو خلاف مانصوا علیہ فی مسألۃ من(۳) وجد مع غیرہ ماء فانہ ان لم یسألہ وتیمّم وصلی ثمّ سأل فان اعطی بطلت صلاتہ وان کان یظن قبلہ المنع وان ابی صحت وان کان یظن قبلہ الاعطاء فکان المبنی مایظھر بعد لا ماظن وقد ذکرنا نصوصہ وبلغنا الغایۃ تحقیقہ فی رسالتنا قوانین العلماء بعون الله تعالٰی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع