30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
علم عدم کہ پانی مِیل بھر یا زائد دُور ہونا ، معلوم ہو اس میں تو عجز ظاہر ہے۔
اور علم وجود میں عجز یوں ہوگا کہ حسابًا یا طبعًا یا شرعًااُس تك وصول یا اُس کے استعمال پر قادر نہیں جیسے محبوس یا مریض یا وہ پانی پانے والا جو پینے کیلئے وقف ہے۔
رہا عدم۱ علم نمبر۱۵۸ و ۱۵۹ سے واضح ہُوا کہ شرع مطہر نے اسے بھی عجز میں رکھا اگرچہ بعد نماز پانی وہیں موجود ہونابھی معلوم ہوجائے اور جب شریعت نے یہاں وجود و عدم آب پر مدار نہ رکھا بلکہ اُس کے عدمِ علم پر تو واجب ہے کہ وہ جگہ مظنہ آب نہ ہو جیسے آبادی یا اُس کا قرب نہ اُسے وہاں وجود آبِ مظنون ہو مثلًا سبزہ لہلہا رہا ہے یا پرندے یا چرندے موجود ہیں یا ثقہ شخص کہہ رہا ہے کہ یہاں قرب میں پانی ہے کہ غلبہ ظن بھی انحائے علم سے ہے خصوصًا فقہیات میں کہ ملتحق بہ یقین ہے تو بحالِ ظن عدم علم نہ ہوا اور یہاں اسی پر مدار عجز تھا تو نہ عجز متحقق ہُوا نہ تیمم روا ، نہ اُس سے نماز صحیح ، اگرچہ بعد کو عدمِ آب ہی ظاہر ہو کہ وجود و عدم واقعی یہاں ساقط النظر تھا۔ درمختار میں ہے :
یجب ای یفترض طلبہ ولوبرسولہ قدر مالایضر بنفسہ ورفقتہ بالانتظار ان ظن ظنا قویا قربہ دون میل بامارۃ اواخبار عدل والایغلب علی ظنہ قربہ لایجب بل(۲) یندب ان رجا والا لا[1] اھ ملخصًا
پانی تلاش کرنا فرض ہے اگرچہ اپنے قاصد ہی کے ذریعہ ، اس حد تك کہ انتظار سے خود اسے یا اس کے ہم سفروں کو ضرر نہ ہو۔ یہ حکم اس صورت میں ہے جب کسی علامت یا کسی عادل کے بتانے سے قریب میں ایك میل سے کم دُوری پر پانی ہونے کا اسے قوی گمان ہو ، اور اگر قریب میں پانی ہونے کا غالب گمان نہ ہو تو تلاش واجب نہیں بلکہ مستحب ہے اگر ملنے کی کچھ امید ہو ورنہ مستحب بھی نہیں ، اھ ملخصًّا۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
بامارۃ ای علامۃ کرؤیۃ خضرۃ اوطیر[2] اھ و زاد فی الحلیۃ الوحش ۔
بَامارۃٍ یعنی کسی علامت سے ، مثلًا سبزہ یا پرند دیکھنے سے اھ اور حلیہ میں “ وحشی جانوروں “ کا لفظ بھی ہے۔ (ت)
حلیہ میں محیط سے ہے :
الذی نزل بالعمران ولم یطلب الماء لم یجز تیمّمہ [3]۔
جو آبادی میں اُترا اور پانی تلاش نہ کیا اس کاتیمم درست نہیں۔ (ت)
خلاصہ میں ہے :
ان تیمّم قبل طلب الماء وصلی فی العمرانات لایجوز وفی الفلوات یجوز [4]۔
اگر آبادیوں میں پانی تلاش کرنے سے پہلے تیمم کرکے نماز پڑھ لی تو جائز نہیں اور بیابانوں میں جائز ہے۔ (ت)
حلیہ میں ہے :
لان العلم بقرب الماء قطعًا اوظاھرًا ینزلہ منزلۃ کون الماء موجودًا بحضرتہ فلایجوز تیمّمہ فی شئ من ھذہ الاحوال کمالایجوز مع وجودہ بحضرتہ[5]۔
اس لئے کہ قطعی یا ظاہری طور پر قریب میں پانی کے ہونے کا علم ، اپنے پاس پانی موجود ہونے کے درجہ میں ہے تو ان میں سے کسی بھی حالت میں اس کاتیمم جائز نہیں جیسے خود اس کے پاس پانی موجود ہونے کی صورت میں جائز نہیں ۔ (ت)
بحرالرائق میں ہے :
ولوتیمم من غیر طلب وکان الطلب واجبا وصلی ثم طلبہ فلم یجدہ وجبت علیہ الاعادۃ عندھما
اگر پانی تلاش کئے بغیرتیمم کرلیا ، جبکہ تلاش کرنا واجب تھا۔ اور نماز بھی پڑھ لی۔ پھر پانی تلاش کیا پانی نہ ملا تو بھی امام اعظم وامام محمد کے نزدیک ،
خلافا لابی یوسف کذا فی السراج الوھاج وفی المستصفی وفی ایراد ھذہ المسألۃ (ای مسألۃ وجوب الطلب ان ظن قربہ) عقیب المسألۃ المتقدمۃ (ای مسألۃ من نسی الماء فی رحلہ وتیمم وصلی لایعید عندھما خلافا لابی یوسف) لطیفۃ فان الاختلاف فی تلك المسألۃ بناء علی اشتراط ا لطلب وعدمہ[6] اھ۔
اقول : لیس معناہ انھما لایقولان باشتراط الطلب بل ھو مجمع علیہ فی مظنۃ الماء وانما المعنی ان الرحل مظنۃ الماء عند ابی یوسف فیجب الطلب فیمتنع بدونہ التیمم وعندھما لافلا کما افادہ المحقق فی الفتح۔
بخلاف امام ابویوسف کے۔ اس پر اعادہ فرض ہے سراج وہاج میں اسی طرح ہے مستصفی میں ہے کہ قریب میں پانی کا گمان ہونے کی صورت میں تلاش لازم ہونے کا مسئلہ سابقہ مسئلہ (جسے اپنے خیمہ میں پانی ہونا یاد نہ رہا اورتیمم کرکے نماز پڑھ لی تو طرفین کے نزدیک ، بخلاف امام ابویوسف کے ، اعادہ نہیں) کے بعد ذکر کرنے میں ایك خاص نکتہ ہے اس لئے کہ اس مسئلہ میں اختلاف کی بنیاد اس پر ہے کہ پانی تلاش کرنا شرط ہے یا نہیں “ اھ (ت)
اقول : اس کا یہ مطلب نہیں کہ طرفین تلاش کرنے کو شرط نہیں کہتے بلکہ جہاں پانی ملنے کا گمان ہو وہاں تلاش کے شرط ہونے پر اتفاق ہے __بلکہ اصل بات یہ ہے کہ امام ابویوسف کے نزدیك خیمہ وجود آب کے گمان کی جگہ ہے اس لئے ان کے نزدیك تلاش کرنا فرض ہے تو تلاش کیے بغیرتیمم ناجائز ہے اور طرفین کے نزدیك خیمہ مظنہ آب نہیں اس لئے تلاش فرض نہیں__ جیسا کہ حضرت محقق نے فتح القدیر میں افادہ فرمایا ہے۔ (ت)
نیز بحر میں ہے :
الله تعالٰی جعل شرط الجوا عدم الوجود من غیر طلب فمن زاد شرط الطلب فقد زاد علی النص بخلاف العمرانات لان العدم وان ثبت حقیقۃ لم یثبت ظاھرًا لان العمرانات
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع