30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کرائے گی اس لئے کہ یہ جب اس کی زندگی میں اسے نہیں چھُوسکتی تھی تو اس کے مرنے کے بعد بھی نہیں چھُو سکتی اور اس کی کنیز یا دوسرے کی کنیز بغیر کپڑے کے تیمم کرائے گی اس لئے کہ باندی کیلئے اعضاء تیمم کو مَس کرنا مباح ہے۔ مرنے والے کی اُمّ ولد کا حکم اس کے برخلاف ہے اس لئے کہ وہ مولٰی کے مرتے ہی آزاد ہوکر اجنبی آزاد عورتوں میں شامل ہوجاتی ہے۔ اھ والله تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۱۶۷ تا ۱۷۵) اقول : مولٰی سُبحٰنہ وتعالٰی نے مسلم میت کے غسل کفن دفن اُس کے حق بنائے اور زندہ مسلمانوں پر فرض فرمائے ان میں جہاں مال کی حاجت ہو اُس کے مال سے لیا جائے کہ یہ اس کی حاجاتِ ضروریہ سے ہے ولہذا۳ تقسیم ترکہ درکنار ادائے دیون پر بھی مقدم ہے جس طرح۴ زندگی میں پہننے کا ضروری کپڑا دین میں نہ لیا جائیگا اگر اس۵ نے مال نہ چھوڑا تو زندگی میں جس پر اُس کا نفقہ واجب تھا وہ دے (اور عورت۶ کا کفن مطلقًا شوہر پر ہے اگرچہ اس نے ترکہ چھوڑا ہو) اگر وہاں۷ کوئی ایسا نہ ہو تو مسلمانوں کے بیت المال سے لیا جائے اگر بیت المال نہ ہو جیسے ان بلاد میں تو مسلمانوں پر واجب ہے جن جن کو اطلاع ہو۔ یہ مسائل کفن میں بالترتیب مصرح ہیں اور غسل ودفن اُس کے مثل بلکہ اہم اب ان تینوں نمبروں میں لڑکا یا لڑکی یا کافرہ جن جن سے نہلوانے کا حکم ہے اگر اُجرت مثل مانگیں دینی لازم میت کا مال نہ ہو تو موجودین اپنے پاس سے دیں تو یہاں بھی بدستور ہر نمبر میں تین تین صورتیں اور پیدا ہوں گی کہ اگر وہ اُجرت مثل سے بہت زیادہ مانگے یا کوئی دینے کے قابل نہیں یا ان کا مال دوسری جگہ ہے اور وہ ادھار پر راضی نہیں تیمم کرائیں والله سُبحٰنہ وتعالٰی اعلم الحمدالله یہ پانی سے عجز کے پَونے دو سو صورتیں اس رسالہ کے خواص سے ہیں کہ اس کے غیر میں نہ ملیں گی اگرچہ جو کچھ ہے علمائے کرام ہی کا فیض ہے
ع اے بادصبا اینہمہ آوردہ تست
(اے بادصبا! یہ سب تیرا ہی لایا ہوا ہے۔ ت)
رحمۃ الله علیھم اجمعین ٭ وعلینا بھم ابد الآبدین ٭یاارحم الراحمین ٭اٰمین والحمدلله رب العٰلمین ٭وافضل
ان تمام حضرات پر اور ان کے طفیل ہم پر بھی ہمیشہ ہمیشہ خدا کی رحمت ہو۔ اے سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم فرمانے والے ، قبول فرما۔
الصّلاۃ والسلام علٰی سید المرسلین٭وآلہ وصحبہ وابنہ وحزبہ اجمعین ٭
اور ساری خُوبیاں الله کیلئے جو سارے جہانوں کا مالك ہے اور بہتر درودوسلام ہو رسولوں کے سردار اور ان کی آل واصحاب اور ان کے فرزند اور ان کے گروہ سب پر۔ (ت)
دوم : عــہ طہارت کے لئے کافی۔
سوم : فرض طہارت ان قیدوں کے فائدے نمبر۱۵۷ میں معلوم ہولیے۔
چہارم : ہم نے پانی کو مطلق سے مقید نہ کیا کہ طہارت کیلئے کافی کہنا ہی اس کے افادے کو کافی تھا ،
بخلاف عبارۃ الدر(من عجز عن استعمال الماء) المطلق الکافی لطھارتہ لصلاۃ تفوت الی خلف (تیمّم) [1]اھ فانہ قدم ذکر المطلق فلم یلغ نعم لوترکہ کمافعلت لکفی اماقولہ لصلاۃ تفوت الی خلف فاحترز بہ عن التیمّم لنوم اورد سلام ونحوہ اولفائت لاالی خلف کصلاۃ جنازۃ وعید فانہ لایشترط لہ العجز[2] اھ ش۔
اقول : اولًا ھل(۱) تدل عبارۃ برخلاف درمختار کی درج ذیل عبارت کے : “ و ہ تیمم کرے جو عاجز ہو ایسا پانی استعمال کرنے سے جو مطلق ہو ، اس کی طہارت کیلئے کافی ہو ، ایسی نماز کیلئے جو فوت ہوجائے تو اس کا کوئی بدل ہو (بلفظِ دیگر کسی بدل کی جانب فوت ہونے والی نماز کیلئے آبِ مطلق کافی کے استعمال سے عاجز شخص تیمم کرے) “ اھ۔ انہوں نے اس عبارت میں لفظ مطلق پہلے ذکر کیا تو اس کے بعد کافی کہنا لغو نہ ہوا ہاں اگر لفظ مطلق ترك کردیتے جیسا میں نے کیا تو کافی ہوتا۔ لیکن ان کی عبارت “ لصلاۃ تفوتُ الٰی خلف “ (کسی بدل کی جانب فوت ہونے والی نماز کیلئے) تو اس میں اس تیمم سے احتراز ہے جو سونے یا سلام کا جواب دینے یا ایسے ہی کسی کام کیلئے ہو یا ایسی فوت ہونے والی چیز کیلئے ہو جس کا کوئی بدل نہ ہو جیسے نمازِ جنازہ اور عیدین کہ اس کیلئے آب کافی سے عجز شرط نہیں۔ اھ شامی ملخّصًا۔ (ت)
اقول : اوّلًا کیا مصنّف کی عبارت
عــہ یہ اُس اوّل کا دوم ہے جو صفحہ ۴۱۱ پر گزرا ۱۲ (م)
المصنّف علی اشتراط العجز ام لاعلی الثانی ماھذہ الاحترازات وعلی الاوّل یعود علی المقصود بالنقض فانہ یفید ان شرط التیمّم العجز فی صلاۃ لھا خلف فلا یجوز بلاعجز ولابعجز فی غیر صلاۃ ولافی صلاۃ لاخلف لھا وبالجملۃ مفاد ھذہ الزیادات تخصیص التیمّم بھذا العجز المخصوص لاتخصیص شرط العجز بھذا الخصوص نعم لوقال وھذا فی صلاۃ تفوت الٰی خلف لافاد مااراد۔
عجز کے “ شرط ہونے “ کو بتارہی ہے یا نہیں؟اگر نہیں تو پھر یہ احترازات کیسے؟ اور اگر عجز کو شرط بتارہی ہے تو اس کا نتیجہ مقصود کے بالکل برخلاف نکلے گا کیوں کہ اس سے یہ مستفاد ہوگا کہ تیمم کیلئے شرط یہ ہے کہ “ ایسی نماز میں جس کا کوئی بدل ہو (آب کافی کے استعمال سے) عاجز ہو “ ۔ تو بغیر عجز کے تیمم جائز ہی نہ ہوگا۔ اور غیر نماز (مثلًا جوابِ سلام) میں عجز نہیں اور نہ ہی ایسی نماز میں جس کا کوئی بدل نہیں(جیسے جنازہ وعیدین توحاصل یہ نکلا کہ جواب سلام اور نماز جنازہ وغیرہ کیلئے تیمم جائز نہیں۔ جبکہ عجز کو شرط بنانے کا مقصد یہ بتاناتھا کہ جوابِ سلام اور نمازِ جنازہ وغیرہ کیلئے بلاعجز بھی تیمم جائز ہے ۱۲ م الف)(ت)
الحاصل ان اضافوں کا مفاد یہ ہے کہ اس عجز مخصوص سے تیمم کو خاص کیا جائے۔ شرط عجز کو اس خصوصیت سے مختص کرنا مقصود نہیں۔ ہاں اگر یوں کہتے : “ وھذا فی صلاۃ تفوت الی خلف “ (اور یہ اس نماز میں ہے جو کسی بدل کی جانب فوت ہو) تو عجز مذکور کو شرط قرار دینے کا افادہ ہوتا۔ (اور خلاف مقصود نہ ہوتاکیوں کہ اس کا حاصل یہ ہوتاکہ آب کافی کے استعمال سے عاجزی کی شرط اُس نماز میں ہے جس کا کوئی بدل ہو تو جوابِ سلام وغیرہ جو نماز نہیں اور نماز جنازہ وغیرہ جن کا کوئی بدل نہیں ان میں آب کافی سے عاجزی شرط نہیں۔ الحاصل ھذا فی صلاۃ الخ ہوتاتو عجزکو شرط اور ان الفاظ کو قید احترازی قرار دینا جو اُن کا مقصد ہے یہ ان کے طور پر حاصل ہوجاتا۔ ۱۲ م الف) (ت)
وثانیا : لاتیمّم(۱)مع(۲)وجدان الماء الالفائت لاالی خلف کرد سلام والصلاتین کماتقدم اماالنوم ونحوہ فلاکما حققہ الشامی مخالفا لمافی البحر والدر والعجز معنی متحقق فیہ کماقدمنا فلاحاجۃ الی الاحتراز۔
ثانیًا : پانی دستیاب ہونے کے باوجودتیمم صرف ایسی چیز کے لئے جو فوت ہوجائے تو اس کا کوئی بدل نہ ہو جیسے جواب سلام اور نماز جنازہ وعیدین ، جیسا کہ پہلے گزرچکا ہے سونے یا ایسے اور کسی کام کیلئے پانی ہوتے ہوئے تیمم جائز نہیں۔ جیسا کہ البحرالرائق اور درمختار کی مخالفت کرتے ہوئے علامہ شامی نے اس کی تحقیق کی ہے۔ اور جیسا کہ ہم پہلے بیان کر آئے ہیں بلابدل فوت ہونے والی چیز میں بھی معنیً (آب کافیکے استعمال سے) عجز متحقق اور ثابت ہے تو اس سے احتراز کی کوئی ضرورت ہی نہیں۔ (ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع