30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اقول : فی الاخذ نظر ظاھر فان التکلم یحصل غالبًا قبل اربع بکثیر۔
دُرمختار کی عبارت “ للصغیر جدا “ (بہت کمسِن لڑکے کیلئے ستر نہیں) کے تحت فرمایا : “ یہی حکم لڑکی کا بھی ہے۔ حلبی نے فرمایا کہ ہمارے شیخ نے اس کی تفسیر یہ بتائی ہے کہ چار سال یا اس سے کم عمر ہو۔ یہ معلوم نہیں کہ انہوں نے کس کے حوالے سے فرمایا “ ۔ اھ علّامہ شامی فرماتے ہیں “ میں کہتا ہوں یہ اس سے اخذ ہوتا ہے جو شرنبلالیہ کے باب الجنائز میں ہے “ الخ۔ اس کے بعد وہ عبارت ذکر کی ہے جو ہم نے فتح القدیر سے بحوالہ مبسوط نقل کی۔ (ت)اقول : عبارت مذکورہ سے چار سال کی تحدید اخذ کرنے میں عیاں طور پر کلام کی گنجائش ہے اس لئے کہ عمومًا بچّہ چار سال سے پہلے ہی بولنے لگتا ہے۔ (ت)
ہاں نہلانے والے بچے میں اُس عمر کا اعتبار موجہ ہے کہ نہایت کم عمر نہلا نہیں سکتا۔
(۱۶۵) اگر میت عورت یا مشتہاۃ لڑکی ہو جو اُتنی صغیر السِّن نہیں اور وہاں کوئی عورت نہیں تو دس گیارہ برس کا لڑکا اگر نہلا سکے اگرچہ دُوسرے کے بتانے سے یا کوئی کافرہ عورت ملے اور بتانے کے موافق نہلاسکے تو اس سے نہلوائیں ورنہ کوئی محرم تیمم کرائے۔ اقول یا اگر میت کنیز تھی شوہر یا کوئی اجنبی ویسے ہی تیمم کرادے اور کنیز نہ تھی اور کوئی محرم نہیں تو شوہر اسی طرح ہاتھوں پرکپڑا چڑھا کر بے آنکھیں بند کیے تیمم کرائے اور شوہر بھی نہ ہو تو اجنبی مگر آنکھیں بند کرے۔
(۱۶۶) اگر میت مرد یا ہوشیار لڑکا ہے کہ اُتنا صغیر السن نہیں ہے اور وہاں کوئی مرد نہیں تو اگر میت کی زوجہ ہے کہ ہنوز حکم زوجیت میں باقی اور اسے مس عـــہ کرسکتی ہو وہ نہلائے وہ نہ ہو تو سات آٹھ برس کی
عــہ اقتصر فی الدر علی اشتراط بقاء الزوجیۃ اقول ولا یکفی فان المنکوحۃ فاسد اوالموطوء ۃ بشبھۃ ھی او اختھا لاشك فی بقاء زوجیتھن ولذا یغسلنہ ان انقضت عدتھن بعد موتہ قبل غسلہ ولایجوز لھن مادمن فی تلك العدۃ فلذا زدت یحل لھا مسہ ۱۲ منہ غفرلہ (م)
درمختار میں صرف بقائے زوجیت کی شرط پر اکتفا کیا۔ اقول اور یہ کافی نہیں اس لئے کہ وہ زوجہ جس سے کسی دوسرے نے نکاح فاسد کیا ہو اور یا کہ اس سے یا اس کی بہن سے وطی شبہ کی گئی ہو (تینوں صورتیں کتاب میں چند سطور آگے وضاحت سے مذکور ہیں ۱۲م الف) ان کی زوجیت باقی رہنے میں کوئی شك نہیں اسی لئے اگر شوہر کے مرنے کے بعد اسے غسل دینے سے پہلے ان کی عدّت ختم ہوگئی تو یہ اسے غسل دے سکتی ہیں اور جب تك “ اُس عدّت “ میں رہیں اُسے غسل نہیں دے سکتیں۔ اسی لئے مَیں نے “ اُسے مس کرسکتی ہو “ کا اضافہ کیا۔ ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
لڑکی اگر نہلاسکے اگرچہ سکھانے سے یا کوئی کافر ملے اور بتانے کے مطابق غسل دے سکے تو ان سے نہلوایا جائے ورنہ جو عورت میت کی محرم یا کسی کی شرعی کنیز ہو وہ اپنے ہاتھوں سے یوں ہی تیمم کرائے اور آزاد ونامحرم ہے تو کپڑا لپیٹ کر مگر رُوو دست میت پر نگاہ سے یہاں ممانعت نہیں ، زوجہ کو اگر طلاق۱ بائن یا تین۲ طلاقیں دے دی تھیں یا زوجہ۳ نے پسر زوج کا بوسہ بشہوت لیا خواہ کوئی فعل اس سے یا اُس کے ساتھ ایسا واقع ہوا جس سے شوہر کے ساتھ حرمتِ مصاہرت پیدا ہو یا اپنی۴ صغیرہ سوت کو کہ عمر رضاعت میں تھی دُودھ پلادیا یا۵ معاذہ الله مرتدہ ہوگئی پھر بعد موت اسلام لے آئی یہ تینوں باتیں خواہ حیاتِ شوہر میں واقع ہوئی ہوں یا اُس کے بعد یا حیاتِ۶ زوج میں کسی نے اُس سے وطی شبہہ کی یا کسی۷ نے اُس سے نکاح فاسد کیا تھا اب وہ رَد ہوا اور عورت شوہر کو ملی پھر شوہر مر گیا اور عورت ابھی اس وطی شبہہ یا نکاح فاسد کی عدّت میں ہے یا زوج۸ نے سالی سے وطی شبہہ کی تھی پھر مرگیا اور ہنوز وہ اُس کی عدّت میں ہے یا۹ مجوسی خواہ ہندو مسلمان ہوکر مرا اور عورت ہنوز مجوسیہ یا مشرکہ ہے اگرچہ ان سب صورتوں میں زوجہ ہنوز عدّت میں ہو اقول : یوں۱۰ ہی اگر عدّت سے نکل گئی مطلقًا نہیں نہلا سکتی اور اُس کی صُورت یہ ہے کہ حاملہ تھی موت شوہر ہوتے ہی وضع حمل ہوگیا اب عدّت میں نہ رہی ان سب حالتوں میں زوجہ مثل اجنبیہ ہے غسل نہیں دے سکتی ہاں اگر شوہر نے طلاق رجعی دی اور عورت ابھی عدت میں تھی کہ مر گیا یا بعد شوہر اُس نکاح فاسد یا دونوں صورت وطی بشبہہ کی عدّت گزر گئی یا نو مسلم کی زوجہ مشرکہ مجوسیہ اب مسلمان ہوگئی تو ان صورتوں میں غسل دے سکتی ہے
والمسائل مفصلۃ فی البدائع والخانیۃ والفتح والبحر والدر وغیرھا وقد انتقیت من خلافیات احسنھا۔
یہ مسائل بدائع ، خانیہ ، فتح القدیر ، البحرالرائق ، درمختار وغیرہا میں تفصیل سے مذکور ہیں اور اختلافی مسائل میں سے احسن کا انتخاب کیا ہے (ت)
اقول : خنثٰی میں تفصیل اور اُس کے اور عورت کے طہارت کرانے والوں میں ترتیب اور عورت کنیز وحرہ میں فرق یہ سب زیاداتِ فقیر سے ہے اور اُس کی وجہ بحمدہ تعالٰی ظاہر ومنیرکہ :
(۱) سب میں پہلے غسل ہے کہ وہی اصل ہے مگر عورت میں کسی کافرہ سے نہلوانا کہا نہ خنثٰی میں کہ عورت بھی اسے نہیں دیکھ سکتی کہ احتمال ذکورت ہے بخلاف غسلِ زن۔
(۲) عورت میں خاص لڑکا کہا کہ اُس کیلئے اُنثٰی کی نابالغی کیا ضرور بالغہ عورت ہوتی تو غسل ہی دیتی اور خنثٰی میں لڑکا لڑکی دونوں کہے کہ بالغ
حدشہوت اُسے غسل نہیں دے سکتا اور اس حد نہ پہنچنے کے بعد پسرودختر یکساں۔
(۳) خنثٰی کے تیمم میں محرم کو مقدم رکھا مرد ہو یا عورت کہ بہرحال اُسے خنثٰی کے اعضائے تیمم دیکھنے چھُونے دونوں کا اختیار ہے اُس کے بعد اجنبی عورت کہ باحتمال ذکورت چھُونہ سکے دیکھ تو سکے گی پھر اجنبی مرد کہ احتمالِ انوثت کے سبب نہ چھُونا ممکن نہ دیکھنا۔
(۴)تیمم کنیز کو جُدا کیا اور یہاں محرم شوہر ، اجنبی میں ترتیب$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع