دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 3 | فتاوی رضویہ جلد ۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۳

ہے کہ امام قاضیخان کا کلام غسل میت کی مسنونیت والے قول پر ہی مبنی ہو ، ایسی صورت میں ان کے غسلِ میت کو سنّت کہنے کا یہ معنی بتانا کہ اس کا وجوب سنت سے ثابت ہے درست نہ ہوگا ۱۲ م الف)مصنفِ اشباہ نے البحرالرائق میں لکھا ہے : “ (فتح القدیر میں) غسلِ میت کی فرضیت پر نقلِ اجماع کے پیشِ نظر ملّا مسکین کی یہ نقل کی “ کہا گیا غسلِ میت سنّتِ مؤکدہ ہے “ محلِ نظر ہے ہاں مگر یہ ہوسکتا ہے کہ کوئی غیر معتمد قول ہو تو وہ انعقادِ اجماع میں خلل انداز نہ ہوگا “ ۔ اھ (ت)

اقول : تو ایسا قول قابل شمار نہیں نہ ہی ایسے قول پر امام فقیہ النفس جیسی شخصیت کا

 

عـــہ۱  ذکرہ قبیل المیاہ عند قول المتن وجب للمیت ومن اسلم جنبا ۱۲ منہ غفرلہ (م)

عـــہ۲ وحکاہ القھستانی ایضا فی الجنائز فقال یفرض غسلہ کفایۃ وقیل یجب وقیل یسن سنۃ مؤکدۃ اھ ۱۲ منہ غفرلہ (م)                                   

اسے باب المیاہ سے ذرا پہلے متن کی عبارت “ وجب للمیت ومن اسلم جنبا “ (میت کیلئے اور حالتِ جنابت میں اسلام لانے والے کیلئے غسل واجب ہے) کے تحت ذکر کیا ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)

قہستانی نے بھی باب الجنائز میں اس کی حکایت کی ہے اس کی عبارت یہ ہے : غسلِ میت فرضِ کفایہ ہے ، اور کہا گیا کہ واجب ہے اور ایك قول یہ ہے کہ سنّتِ مؤکدہ ہے اھ ۱۲ منہ غفرلہ (ت)

لعل اولویتہ علی المبت بسبب انہ یؤدی ماکلف بہ من صلاۃ وقراء ۃ فاحتیاجہ الیہ اکثر من المیت وتعبیرہ باولی یفید جواز التیمم للجنب[1] اھ

اقول :   ویجوز بنائہ  اولًا علی القول بان فرض(۱) العین اقوی من فرض الکفایۃ۔

وثانیا :  علی ان لا(۲) ایثار فی القرب وذلك لانھم استولوا دون المیت وترجح الجنب من بین الاحیاء لمامر فصرفہ لنفسہ اَولی من صرفہ للمیت فافھم۔                                  

کلام محمول ہی کیا جاسکتا ہے (یہ اشباہ کی عبارت پر حموی کی تنقید کا جواب ہے ۱۲ م الف) سید طحطاوی نے فرمایا : “ میت سے جنب کے اولٰی ہونے کی وجہ شاید یہ ہو کہ جنب غسل کرلے گا تو اس سے نماز وقرأت کی ادائیگی کرے گا جس کا وہ مکلّف ہے تو اسے میت سے زیادہ غسل کی ضرورت ہے اور اسے اولٰی کہنے سے یہ افادہ ہوتا ہے کہ جنب کیلئے تیمم جائز ہے “ ۔ اھ (ت)

اقول :  __اولًا غُسلِ جنب کو اولٰی قرار دینے کی بنا اس قول پر ہو سکتی ہے کہ فرض عین ، فرض کفایہ سے زیادہ قوی ہے۔
ثانیًا : اس پر کہ قربتوں کے معاملہ میں ایثار نہیں۔ یہ اس طرح کہ آبِ مباح پر جنب ، حائض اور محدث نے ہی قبضہ کیا میت نے نہیں۔ اور جنب کو زندوں پر اس سبب سے ترجیح ہوئی جو ذکر ہوا (کہ جنابت ، حدث سے زیادہ سخت ہے اور حائض غسل کرے تو امام نہیں ہوسکتی افضل یہ ہے کہ امام غسل والا ہو اور مقتدی متیمم
۱۲ م الف)اب جنب کا اُس پانی کو اپنے غسل میں صرف کرنا غسلِ میت میں صرف کرنے سے اولٰی ہے فافھم (تو اسے سمجھو)۔ (ت)

(۱۶۲) اقول : اُس صورت میں بیٹے پر نماز کا اعادہ بھی نہیں لان المنع من جھۃ الشرع (اس لئے کہ ممانعت شریعت کی جانب سے ہے۔ ت) لیکن اگر وہ شخص نے پانی زبردستی لے لیا تو دو۲ صورتیں ہیں :

ایك یہ کہ وہ پانی اس کی مِلك تھا اور ظالم نے غصبًا دبالیا اور یہ اس سے چھین نہیں سکتا توتیمم سے پڑھے پھر وضو سے پھیرے لان المنع من جھۃ العباد (اس لئے کہ رکاوٹ بندوں کی جہت سے ہے۔ ت)دوسرے یہ کہ پانی مباح تھا اُس پر اگر اس کے قبضہ کرلینے کے بعد اُس نے اس سے چھین لیا تو یہ وہی صورتِ اولٰی ہوئی کہ پانی بعد قبضہ اس کی ملك ہوگیا تھا اور اگر یہ قبضہ کرنا چاہتا تھا وہ زبردست ہے اُس نے پہلے قبضہ کرلیا تو اس میں اس کا ظلم نہ ہُوا کہ آبِ مباح پر قبضہ کیا ہے وہی مالك ہوا اور اب یہ شخص نمبر ۵۳ میں ہے کہ پانی دوسرے کی ملك اور اس کی اجازت نہیں تیمم کرے اور اعادہ کی حاجت نہیں ،

(۱۶۳) اقول : مسافر کے پانی کا پیپا صندوق میں بند ہے کہ جن راستوں میں پانی کی قلّت ہو وہاں وہ عزیز ترین اشیا سے ہے قفل کی کنجی گُم ہوگئی تو اُس حکم کی بنا پر کہ نمبر۶ میں گزرا اگر قفل توڑنے میں ایك درم کا نقصان ہوتا ہوتیمم کرے اور اعادہ نہیں ورنہ قفل توڑے اور وضو کرے فلیحرر ولیراجع والله تعالٰی اعلم (اس میں مزید وضاحت ومراجعت کی ضرورت ہے۔ ت)

(۱۶۴) جنگل میں خنثٰی مشکل کا انتقال ہوا جواتنا صغیر السِّن بچّہ نہ تھا جس کیلئے ستر کا حکم ہی نہ ہو اُسے نہ مرد نہلا سکتا ہے نہ عورت ناچارتیمم کرایا جائے اقول : بلکہ اگر وہاں۱  کوئی سات آٹھ برس کی لڑکی یا دس گیارہ برس کا لڑکا ہو کہ نہلا سکے تو اسے بتاکر نہلوانا لازم ہاں یہ بھی نہ ہو تو اُسے کوئی محرم تیمم کرائے مرد ہو خواہ عورت اور محرم نہ ملے تو اجنبی عورت اپنے ہاتھوں پر کپڑا لپیٹ کرتیمم کرائے اور اُسے آنکھیں بند کرنے کی ضرورت نہیں اور کوئی عورت ب

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن