دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 3 | فتاوی رضویہ جلد ۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۳

روایتِ مخالفت اختیار کی یا روایتِ موافقت پر اسے اطلاع نہ ہُوئی ۱۲ م الف) پھر فرمایا : خلاصہ میں ہے : “ اگر کسی ایسے کنویں کے اوپر خیمہ لگایا جس کا مُنہ بند ہے اور اسے اس کا پتہ نہ چلا ، تیمم کرکے نماز پڑھ لی پھر اسے پانی کا علم ہُوا تو میں اسے اعادہ کا حکم دُوں گا انتہی تو صاحبِ خلاصہ نے حکایتِ اختلاف کے بغیر بظاہر اس کے برخلاف افادہ فرمایا جو کتاب میں ہے۔ (حلیہ کی عبارت ختم ہوئی) اھ (ت)اقول : ہوسکتا ہے ان کی مراد یہ ہو کہ “ استحبابًا میں اسے یہ حکم دُوں گا “ اس طرح یہ کلام بھی جامع الفتاوٰی کے مثل ہوگا اور جم غفیر کے مخالف نہ ہوگا پھر میں نے “ خلاصہ “ کو دیکھا تو اس میں پُوری بات ملی وہ یہ کہ “ یہ امام ابویوسف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِسے مروی ہے “ اھاتنا چھوڑ دینے سے یہ گمان پیدا ہوا کہ

نسختہ وقد(۱) زلت بہ قدم قلم العلامۃ المحقق البحر فمشی علیہ فی البحر موھما انہ قول الکل اوالمختار فی المذھب ولیس کذلك کما علمت وقدقال ایضا فی الھندیۃ عن المحیط اذاضرب خباء ہ علی رأس بئر غطی رأسھا وفیھا ماء وھو لایعلم اوکان علی شط النھر وھو لایعلم فتیمم وصلی بہ جاز عندھما خلافا لابی یوسف رحمھم الله تعالٰی[1] اھ فقد انکشف اللبس ولله الحمد وبہ تعالی العصمۃ۔

خلاصہ اور کتاب کے بیان میں باہم اختلاف ہے۔ ہوسکتا ہے صاحبِ حلیہ کے نسخہ میں اتنی عبارت ساقط ہو۔ اسی کی وجہ سے علّامہ محقق بحر کا پائے قلم لغزش میں پڑگیا تو وہ البحرالرائق میں اسی حکم پر چلے گئے اور اس طرح بیان کیا جس سے وہم ہوتا ہے کہ یہ سب کا قول ہے یا یہی مذہب میں مختار ہے حالانکہ ایسا نہیں جیسا کہ ابھی معلوم ہوا۔ اور ہندیہ میں بھی محیط کے حوالہ سے لکھا ہے : “ جب ایسے کنویں پر خیمہ لگایا جس کا منہ بند ہے اور کنویں میں پانی ہے۔ اور یہ جانتا نہیں یا وہ دریا کے کنارے ہے اور اسے پتہ نہیں توتیمم کرکے نماز پڑھ لی ، یہ طرفین (امام اعظم وامام محمد) کے نزدیك جائز ہے بخلاف امام ابویوسف کے۔ رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰیتعالٰی اھ۔ اس تصریح سے التباس دُور ہوگیا۔ اور ساری خُوبیاں الله ہی کیلئے ہیں اور حفاظت اسی سے ملتی ہے۔ (ت)

(۱۶۰) سفر میں باپ بیٹے ہمراہ ہیں پانی دونوں کی ملك مشترك یا تنہا بیٹے کی ملك اور ایك ہی کیلئے کافی ہے اور باپ اس سے طہارت کرنا چاہتا ہے بیٹے کو جائز نہیں کہ اُس سے مزاحمت کرے کہ باپ وقتِ حاجت ملك اولاد کا مالك بن سکتا ہے لہذا بیٹے پر لازم کہ تیمم کرے فتاوی امام قاضیخان میں ہے :

لوکان الماء بین الاب والابن فالاب اولی بہ لان لہ حق تملك مال الابن [2]۔

اگر پانی باپ اور بیٹے کے درمیان مشترك ہو تو باپ زیادہ حقدار ہے کیوں کہ اسے مالِ فرزند کا مالك بننے کا حق حاصل ہے۔ (ت)

اسی طرح اُس سے خزانۃ المفتین وہندیہ واشباہ فن ثالث قول فی الدین میں ہے۔

اقول :  ولایختص بالشرکۃ بل لوکان کلہ ملك ولدہ فالحکم کذلک

اقول : یہ حکم ملك میں شرکت کی صورت سے ہی خاص نہیں۔ اگر سارا پانی بیٹے کی مِلك ہو تو بھی

اذا ارادہ الاب بدلیل الدلیل وزدت ان یرید الاب التطھیر بہ لان لہ ان یترکہ لابنہ ویتیمم فح لاعجز بالولد بل لوکان ملك الابن فما لم یظھر الاب اِرَادتَہ لایثبت عجز الابن حتی(۱) لوکان متیمما قبلہ انقض فان اخذہ الابُ اعاد تیمّمہ۔                          

حکم ہے جب کہ باپ طہارت کا قصد کرلے باپ کے قصد طہارت کا اضافہ میں نے اس لئے کیا کہ اسے یہ بھی اختیار ہے کہ پانی بیٹے کیلئے چھوڑ دے اور خودتیمم کرلے ایسی صورت میں بیٹا عاجز نہ ہوگا۔ بلکہ اگر پانی بیٹے کی ملك ہے تو جب تك باپ اپنے قصد طہارت کا اظہار نہ کرے بیٹے کا عجز ثابت نہ ہوگا یہاں تك کہ پانی ملنے سے پہلے بیٹا اگرتیمم سے تھا تو بعدِ ملك اس کاتیمم ٹوٹ گیا اب اگر وہ پانی لیتا ہے تو بیٹے کو دوبارہ تیمم کرنا ہوگا۔ (ت)

(۱۶۱)اقول : باپ بیٹے کو جنگل میں مباح پانی ملا کہ ایك ہی کو کافی ہے اگر باپ وہاں پہلے پہنچ گیا اس کا قبضہ ہوگیا جب تو ظاہر ہے کہ بیٹاتیمم کرے کہ اب وہ ملك غیر ہے کہ مباح استیلا سے ملك ہوجاتا ہے یہ نمبر ۵۳ ہوا۔ اور اگر بیٹا پہلے پہنچا قابض ہُوا تو یہی نمبر ۱۵۵ ہے اور اگر دونوں ایك ساتھ پہنچے اگر باپ نے پہلے سے کہہ دیا تھا کہ پانی میں لُوں گا تو بیٹے کو مزاحمت جائز نہیں پانی پر صرف باپ کی قدرت ثابت ہوگی یہاں تك کہ اگر پہلے سے بیٹے کاتیمم تھا نہ ٹوٹے گا اور نہ تھا تو اب تیمم کرے گا اور اگر پہلے سے ایسا نہ کہا تھا تو دونوں قادر ہوگئے اگر پہلے سے تیمم کئے تھے جاتے رہے اب اگر باپ اس پانی کو لینا چاہے بیٹا دوبارہ تیمم کرے ھذا کلہ ماظھر لی تفقھا وارجو ان یکون صوابا ان شاء الله تعالٰی (یہ سب بطورِ تفقہ میرے اوپر ظاہر ہُوا اور امید ہے کہ ان شاء الله تعالٰی درست ہوگا۔ ت)

تنبیہ : خانیہ۲  وخلاصہ واشباہ ودُرِمختار وغیرہا میں ہے کہ جنگل میں جُنب وحائض ومحدث ومیّت ہیں مباح پانی قابلِ غسل ملاکہ ایك ہی کو کافی ہے تو جنب اولٰی ہے وہ نہائے اور حائض ومحدث تیمم کریں اور میت کوتیمم کرایا جائے ،

وھذا نظم الدر الجنب اولی بمباح من حائض اومحدث ومیت ولولاحدھم(۳) فھو اولی ولومشترکا ینبغی صرفہ للمیت [3]۔

اور دُرمختار کی عبارت یہ ہے : “ جُنب آبِ مباح میں حائض ، محدث اور میت سے اولٰی ہے اور اگر پانی ان میں کسی کی ملك ہوتو وہی مستحق ہے اور اگر ملك میں سب کی شرکت ہے تو چاہئے کہ سب اپنا حصہ میت کو دے دیں۔ (ت)

اقول : یہ شکل پانی سے عجز کی نہیں یہاں۱  تك کہ اگر تینوں متیمم تھے اب یہ آبِ مباح ملا سب کاتیمم ٹوٹ گیا جب جنب اُس سے نہائے حائض ومحدث دوبارہ تیمم کریں۔

فان(۲) وجد ان مباح یکفی لاحدھم علی سبیل البدلیۃ ینقض تیممھم جمیعا لان کل واحد منھم صارقادرا [4]  کما فی خزانۃ المفتین عن الکبری وفی الخلاصۃ خمسۃ من المتیمّمین وجدوا من الماء المباح قدر مایتوضوء بہ احدھم انتقض تیمّم الکل ولو(۳) جاء رجل بکوزمن ماء وقال لیتوضأ بہ ایکم شاء انتقض تیمّم الکل وان کان الماء یکفی لاحدھم ولوقال ھذا الماء لمن یرید فکذلك [5] اھ۔                                                                                                                                                                                                       

اس لئے کہ اگر آبِ مباح اس مقدار میں ملا کہ بطور بدلیت ان میں سے ہر ایك کیلئے کافی ہوگا تو سبھی کاتیمم ٹوٹ گیا اس لئے کہ ان میں ہر ایك قادر ہوگیا جیسا کہ خزانۃ المفتین میں بحوالہ کبری لکھا ہوا ہے۔ خلاصہ میں ہے : “ ایسے پانچ آدمیوں کو جوتیمم سے ہیں آبِ مباح اس مقدار میں ملا کہ ان میں کسی ایك کیلئے کافی ہوگا تو سب کاتیمم ٹوٹ گیا اور اگر کوئی اپنے پانی کا برتن لے آیا اور کہا تم میں سے جو چاہے وضو کرلے تو سب کاتیمم ٹوٹ گیا اگرچہ پانی صرف ایك شخص کیلئے کفایت کرسکتا تھا اور اگر کہا : “ یہ پانی اس کیلئے ہے جو چاہے تو بھی یہی حکم ہے “ ۔ اھ (ت)

باپ۴  جب اُسے لینا چاہتا ہے بیٹا شرعًا ممنوع ہوگیا اور منع شرعی بھی موجب عجز ہے۔

کماتقدم عن الفتح فی ماء الحب والماء الموھوب وکذا الماء (۵) المملوك ملکا فاسدا اذا اذن بہ الشرکاء لاحدھم لاینتقض تیمّمہ قال فی البحر لایخفی انہ وان کان مملوکا لایحل التصرف فیہ فکان وجودہ کعدمہ[6] اھ ونازع فیہ النھر بماھو من مثلہ عجیب۔               

جیسا کہ سبیل کے پانی اور ہبہ شدہ پانی کے بیان میں فتح القدیر کے حوالہ سے گزرا اسی طرح جو پانی ملك فاسد کے طور پر ملکیت میں آیا ہے اس سے متعلق شرکاء جب کسی ایك کو اجازت دے دیں تو اس کاتیمم نہ ٹوٹے گا۔ البحرالرائق میں ہے : “ مخفی نہ رہے کہ یہ اگرچہ مملوك ہے مگر اس میں تصرف روا نہیں تو اس کا ہونا نہ ہونے کی طرح ہے “ ۔ اھ اس مسئلہ پر صاحبِ بحر سے ان کے برادر صاحب نہر نے اختلاف کرتے ہوئے ایسی بات لکھی ہے جو ان جیسی شخصیت کے قلم سے تعجب خیز ہے۔ (ت)


 



[1]   فتاوٰی ہندیۃ الفصل الثالث فی المتفرقات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۱

[2]   فتاوٰی قاضیخان فصل فیما یجوزلہ التیمم مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۲۷

[3]  

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن