دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 3 | فتاوی رضویہ جلد ۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۳

اما قول البحر ان التیمم مسح فلا یکون بدلا عن مسح والراس ممسوح۔

فاقول اوّلًا :  (۱) لایتمشی فی الغسل فان الرأس فیہ مغسول وثانیا :  ھو(۲) عجیب من مثلہ فانہ لم تأمر الروایۃ بالتیمّم بدلا عن مسح الرأس بل بدلاعن الوضوء والغسل عند العجز عن اکمالھما ولاشك ان التیمّم

ایك ذرّہ کے برابر بھی معاف نہیں۔

تو جو شخص غسل میں اپنا سر دھو نہیں سکتا تو اس پر مسح کرلے گا اگر یہ بھی نہ کرسکے تو پٹّی باندھ کر اس پر مسح کرے گا اور اس سے تطہیر کا عمل مکمل ہوجائے گا اس لئے کہ معلوم ہوچکا ہے کہ یہ مسح دھونے کے قائم مقام ہے ، صحیح زخمی کا مسئلہ بھی یہی ہے لیکن جب غسل یا وضو میں یہ بھی (پٹّی پر مسح) نہ ہوسکے تو سر سے متعلق عمل بالکل ہی متروك رہ جائےگا جس کی وجہ سے یہ (بقیہ اعضاء کو دھونے کا) عمل جزو طہارت تو ہوگا طہارت نہ ہوگا حالانکہ یہ عمل منقسم نہیں ہوتا تو کہا جائے گا کہ سرے سے طہارت حاصل ہی نہ ہوئی اس طرح پانی والی طہارت سے اس کا عجز ظاہر ہوگیا توتیمم کی طرف رجوع لازم ہوا۔ (ت)لیکن صاحبِ بحر کا یہ قول کہ “ تیمم مسح ہے اس لئے وہ کسی مسح کا بدل نہ ہوگا اور سر پر مسح ہی ہوتا ہے “ ۔ تو اس پر کلام ہے۔ فاقول : (پس میں کہتا ہوں) اوّلًا یہ بات غُسل میں نہیں چل سکتی کیوں کہ اس میں سر دھویا جاتا ہے۔ ثانیًا : ان جیسے کے قلم سے ایسی عبارت حیرت خیز ہے اس لئے کہ روایت مذکورہ میں مسحِ سر کے بد لے تیمم کا حکم نہیں بلکہ وضو وغسل کی تکمیل سے عجز کے وقت ان دونوں کے بدلے تیمم کا حکم ہے اور بلاشبہ تیمم

 

عــہ والجواب مااشرنا الیہ ان ھذا موضع ضرورۃ وفیہ العفو ثابت فی الحکمیۃ ایضا ۱۲ منہ غفرلہ (م)

اور جواب وہ ہے جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا کہ یہ ضرورت کی جگہ ہے اور مقامِ ضرورت میں معافی نجاست حکمیہ میں بھی ثابت ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)

بدل عنھا مع تحقق المسح فی الوضوء فلو لم تصح البدلیۃ بھذا الوجہ وجب ان لایجوز التیمم للمحدث فظھر ان ما فی غریب الروایۃ غیر غریب نعم الاشھر ماذکرہ الجلابی وبہ جزم الدر فی غیر موضع ففی اٰخر التیمم ما تقدم وقال فی اٰخر الوضوء قبیل سننہ مانصہ فی اعضائہ (۱) شقاق غسلہ ان قدر والا مسحہ والا ترکہ ولوبیدہ ولایقدر علی الماء تیمم [1]  اھ مسألۃ شقاق الید تقدمت اٰنفا مع قیودھا۔

وقال فی اٰخر مسح الخفین الحاصل لزوم غسل المحل ولوبماء جارفان ضرَّ مَسَحَہ فان ضرَّ مَسَحَھا فان ضرَّ سقط اصلا [2] اھ

اقول :  بل(۲) ان ضرَّ مَسَحَہ فان ضرَّ غَسَلَھا فان ضرَّمَسَحَھا ثم قال (انکسر ظفرہ فجعل علیہ دواء اووضعہ علی شقوق رجلہ اجری الماء علیہ) [3]                       

ان دونوں کا بدل ہے جب کہ وضو میں مسح بھی پایا جاتا ہے تو اگر اس سبب کی بنیاد پر ہوتی تو لازم تھا کہ محدث کیلئے تیمم کا جواز ہی نہ ہو۔ ظاہر یہ ہوا کہ غریب الروایۃ میں جو مذکور ہے وہ غریب نہیں ، ہاں زیادہ مشہور وہی ہے جو جلابی نے ذکر کیا اورا سی پر دُرمختار میں متعدد جگہ جزم کیا اُس کی آخرتیمم کی عبارت گزر چکی اور آخر وضو میں سُنتوں کے بیان سے ذرا پہلے یہ عبارت ہے : “ اعضا میں پھٹن ہے تو اگر قدرت ہو دھوئے ورنہ مسح کرے یہ بھی نہ ہوسکے تو چھوڑ دے اور اگر ہاتھ میں ہو اور پانی پر قدرت نہ ہو توتیمم کرے “ ۔ اھ ہاتھ میں پھٹن کا مسئلہ مع قیدوں کے کچھ پہلے گزرچکا۔ اور مسح خفین کے آخر میں ان کی یہ عبارت ہے : “ حاصل یہ ہے کہ محلِ طہارت کو دھونا لازم ہے اگرچہ آبِ رواں سے ہو اگر اس سے ضرر ہوتا ہو تو اس عضو پر مسح کرے اگر اس میں ضرر ہو تو پٹّی پر مسح کرے اگر اس سے بھی ضرر ہو تو بالکل ساقط ہے “ ۔ اھ اقول : بلکہ اگر عضو پر مسح سے ضرر ہو تو پٹّی پر پانی بہائے اور دھوئے اگر اس میں ضرر ہو تو پٹی پر مسح کرے۔ پھر لکھتے ہیں : “ ناخن ٹُوٹ گیا اس پر دوا ڈالی یا پاؤں کے بدلیت درست نہ شگافوں پر دوا رکھی تو اس پر پانی

ان قدر والامسحہ والا ترکہ وفی التبیین والفتح والبحر والھندیۃ وغیرھا من الاسفار الغرلو انکسر(۱)ظفرہ فجعل علیہ دواء اوعلکا اوادخلہ جلدۃ مرارۃ اومرھما فان کان یضرہ نزعہ مسح علیہ وان ضرہ المسح ترکہ [4] اھ۔

اقول :  بل(۲) غسلہ فان ضرَّ مَسَحَہ فان ضر ترکہ قالوا وان کان فی اعضائہ شقوق امر علیھا الماء ان قدر والامسح علیھا ان قدر والا ترکھا وغسل ماتحتھا [5]اھ

اقول :  ان کان المراد بمسألۃ الشقوق مااذا وضع الدواء علیھا ومعنی امر علیھا امر علی دواء علیھا کماکان فی عبارۃ الدر فذاك والا فتقدیر مسح علیھا ان قدر والا اجری علی دواءِ اوعصابۃ علیھا ان استطاع والا مسحہ ان امکن والا ترك ثمّ بحمدالله تعالٰی رأیت النص عن ائمتنا الثلٰثۃ رضی الله تعالٰی عنھم فی ظاھر الروایۃ انہ یجوز ترك المسح اذا اضر فانقطع الخلاف۔  قال الامام ملك العلماء فی البدائع قدذکر محمد فی کتاب الصلاۃ                    

بہائے اگر بہاسکے ورنہ مسح کرے ورنہ یہ بھی ترك کردے “ ۔ تبیین الحقائق ، فتح القدیر ، البحرالرائق ، ہندیہ وغیرہ میں ہے : “ اگر ناخن ٹوٹ گیا اس پر دوا یا گوند لگایا اس میں پتّے کی جلد یا مرہم ڈال لیا تو اگر اس کیلئے اسے نکالنے میں ضرر ہو تو اس پر مسح کرے اور اگر مسح سے بھی ضرر ہو تو چھوڑ دے “ اھ

اقول : بلکہ اس کو دھوئے اگر اس سے نقصان ہو تو مسح کرے اگر اس سے بھی ضرر ہو تو چھوڑ دے۔ علماء نے فرمایا ہے : “ اگر اس کے اعضاء میں شگاف ہوگئے ہوں تو اگر قدرت ہو ان پر پانی بہائے ورنہ ہوسکے تو ان پر مسح کرے ورنہ چھوڑ دے اور ان کے نیچے کی جگہیں دھولے “ ۔ اھ (ت)

اقول : شگافوں کے مسئلہ سے اگر یہ مراد ہے کہ ان پر دوا چھوڑ رکھی ہو ، اور ان پر پانی گزارنے کا یہ معنٰی ہے کہ ان شگافوں پر جو دوا ہے اس پر پانی بہائے جیسا کہ درمختار کی عبارت میں ہے تو یہ درست ہے ورنہ تقدیر معنی یہ ہوگی کہ ان شگافوں پر مسح کرے اگر اس کی قدرت ہو ورنہ جو دوا یا پٹّی لگا رکھی ہے اس پر پانی بہائے اگر ہوسکے ، ورنہ مسح کرے اگر ممکن ہو ورنہ یہ بھی چھوڑ دے پھر بحمدالله تعالٰی مجھے اپنے ائمہ ثلٰثہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمسے ظاہر الروایۃ کی صریح عبارت مل گئی کہ مسح بھی ترك کردینا جائز ہے جب اس میں ضرر ہو اس سے اختلاف ختم ہوجاتا ہے۔ امام ملك العلماء بدائع میں

عن ابی حنیفۃ رضی الله تعالٰی عنہ انہ اذا ترك المسح علی الجبائر وذلك یضرہ اجزأہ وقال ابویوسف ومحمد رحمہما الله تعالٰی اذاکان ذلك لایضرہ لم یجز فخرج جواب حنیفۃ فی صورۃ وخرج جوابھما فی صورۃ اخری فلم یتبین الخلاف ولاخلاف فی انہ اذا کان المسح علی الجبائر یضرہ انہ یسقط عنہ المسح لان الغسل یسقط بالعذر فالمسح اولی[6]اھ۔

وفی الحلیۃ فی باب الوضوء والغسل من الاصل اذا اغتسل من الجنابۃ ومسح بالماء علی الجبائر التی علی یدہ اولم یمسح لانہ یخاف علی نفسہ ان مسحہ یجزئہ قال فی الحلیۃ ذکرہ مطلقًا من غیران یضیفہ الی احد [7] اھ ای فافاد انہ قول الکل فثبت ان سقوط بعض الوظیفۃ لاجل الضرورۃ غیر غریب والله تعالٰی اعلم۔

فرماتے ہیں : “ امام محمد نے کتاب الصلوٰۃ میں امام ابی حنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ذکر فرمائی ہے کہ جب پٹّیوں پر مسح ترك کردے اور یہ مسح ضرر رساں رہا ہو تو یہ اس کے لئے کفایت کرجائے گا (جائز ہوگا) اور امام ابویوسف وامام محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمافرماتے ہیں : جب مسح سے ضرر نہ ہو تو (مسح چھوڑنا) جائز نہیں۔ تو امام ابوحنیفہ کا حکم الگ صورت میں ہے اور صاحبین کا حکم دوسری صورت میں۔ اس لئے کوئی اختلاف ظاہر نہ ہوا۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ جب پٹّیوں پر مسح سے ضرر ہوتا ہو تو اس سے مسح ساقط ہے اس لئے کہ عذر کی وجہ سے تو دھونا بھی ساقط ہوجاتا ہے تو مسح بدرجہ اولٰی ساقط ہوگا “ ۔ اھ (ت)

 



[1]   الدرالمختار مع الشامی باب الوضوء قبل سننہٖ مطبع مصطفی البابی مصر ۱ / ۷۵

[2]   الدرالمختارمع الشامی آخر مسح الخفین مطبع مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۰۵

[3]   الدرالمختار مع الشامی آخر مسح الخفین مطبع مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۰۳

[4]   تبیین الحقائق مسح الخفین مطبعۃ امیریہ بولاق مصر ۱ / ۵۳

[5] $&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن