30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صورت کے برخلاف جب کہ اس کے بعض دھوئے جانے والے اعضاء میں زخم ہو کہ اس کا حکم یہ ہے کہ صحیح کو دھوئے اور زخمی پر مسح کرے اس لئے کہ اس پر مسح کرنا اس کے نیچے والے عضو کو دھونے ہی کی طرح ہے۔ اور اس لئے کہ تیمم مسح ہے تو وہ کسی مسح کا بدل نہ ہوگا بلکہ دھونے کا بدل ہوگا اور(وضو میں) سر پر مسح ہی ہوتا ہے اس لئے سر کاتیمم نہیں “ ۔ اھ (ت)
منحۃ الخالق میں ہے :
قولہ ماکان قدتوھم) الذی توھم ذلك العلامۃ عبدالبر بن الشحنۃ فانہ ذکر عبارۃ الجلابی فی شرحہ علی الوھبانیۃ ونظمھا بقولہ : ؎
ویسقط مسح الرأس عمن برأسہ
من الداء ماء ان بلہ یتضرر
صاحبِ بحر کا قول “ وہ جو وہم کیا گیا تھا “ یہ وہم علامہ عبدالبر ابن شحنہ کو ہوا تھا۔ انہوں نے جلابی کی عبارت اپنی شرحِ وہبانیہ میں ذکر کی اور اسے یوں نظم کیا : ؎
جس کے سر میں کوئی ایسا مرض ہو کہ سر کو ترکرنے سے ضرر ہوتا ہو تو ایسے شخص سے سر کا مسح ساقط ہے۔
ثم قال وکان یقع فی نفسی قبل وقوفی علی ھذا النقل انہ یتیمم لعجزہ عن استعمال الماء ولیس بعد النقل الاالرجوع ولعل الوجہ فیہ انہ یجعل عادما لذلك العضو حکما فتسقط وظیفتہ کمافی المعدوم حقیقۃ والله تعالٰی اعلم۔
قولہ ولیس بعدالنقل الخ یوھم ان التیمم غیر منقول مع انہ منقول ایضاففی الفیض للکرکی عن غریب الروایۃمن برأسہ صداع من النزلۃ ویضرہ المسح فی الوضوء اوالغسل فی الجنابۃ یتیمّم(۱)والمرأۃ لوضرھا غسل رأسھا فی الجنابۃ اوالحیض تمسح علی شعرھا ثلاث مسحات بمیاہ مختلفۃ وتغسل باقی جسدھا اھ قال فی الفیض وھو عجیب [1] اھ مافی المنحۃ۔
اقول : ظھر(۲)لی بحمدالله تعالٰی من معناہ مایرفع العجب وذلك ان العجب انماھوفی مسئلۃ الغسل ان یجوزلہ التیمم اذاضرہ غسل رأسہ اس کے بعد انہوں نے فرمایا کہ اس نقل پر اطلاع سے پہلے میرے دل میں یہ خیال آتا تھا کہ ایسا شخص تیمم کریگا اس لئے کہ وہ پانی کے استعمال سے عاجز ہے۔ اور نقل مل جانے کے بعد اسی کی طرف رجوع لازم ہے۔ شاید اس (مسح سر ساقط ہونے)کی وجہ یہ ہے کہ ایسا شخص حکمًا وہ عضو نہ رکھنے والا قرار دیا جائیگا تو اس عضو سے متعلق مقررہ عمل مسح ساقط ہوجائے گا جیسا کہ حقیقۃً عضو نہ رکھنے والے کا حکم ہوتا ہے والله تعالٰی اعلم۔ (ت)
ان کا قول “ نقل کے بعد اسی کی طرف رجوع لازم ہے “ یہ وہم پیدا کرتا ہے کہ تیمم کا حکم غیر منقول ہے حالانکہ وہ بھی منقول ہے۔ کرکی کی کتاب “ فیض “ میں غریب الروایۃ سے نقل کیا ہے کہ “ جس کے سر میں نزلہ کی وجہ سے چکّر آتا ہو اور اسے وضو میں مسح یا جنابت میں غسل ضرر دیتا ہو توو ہ تیمم کرے ، اور اگر عورت کو جنابت یا حیض میں سر دھونے سے ضرر ہو تو وہ تین بار مختلف پانیوں سے اپنے بالوں پر مسح کرلے اور باقی جسم دھوئے اھ “ ۔ فیض میں کہا : “ یہ حکم عجیب ہے “ اھ منحۃ الخالق کی عبارتیں ختم ہوئیں۔ (ت)
اقول : مجھ پر غریب الروایۃ کی عبارت کا ایك ایسا معنی منکشف ہوا ، والحمدللہ تعالٰی ، جس وجہ سے تعجب دُور ہوجاتا ہے وہ یہ ہے کہ تعجب غُسل کے مسئلہ میں ہے کہ سر دھونے سے ضرر
وھذا باطل قطعابل یجب الرجوع الی المسح لان(۱) مسح مایغسل عند تعذر غسلہ کغسلہ کماتقدم اٰنفا عن البحرو مثلہ فی البدائع ولذاجاز(۲) جمعہ مع الغسل بخلاف مسح(۳) الخفین فانہ لایجوزلہ ان یغسل احدی رجلیہ ویمسح خف الاخرٰی وان کانت(۴) علی احدھماجبیرۃ اوعصابۃ مسحھا وغسل الاخری کمانصوا [2] علیہ فی التبیین وغیرہ ومسألۃ من اکثر بدنہ صحیح انہ یغسل الصحیح ویمسح الجریح مشہور صریح غیر محتاج الی التصریح فکیف حکم ھھنا بالتیمّم ولکن ھذا(۵) التوھم انما کانت اکدتہ عبارۃالدرفی النقل بالمعنی فلمارأیت عبارۃغریب الروایۃ المنقولۃ فی الفیض وفیھایضرہ المسح فی الوضو ، اوالغسل فی الجنابۃ لامسح رأسہ محدثا وغسلہ جنباکما فی الدر تحدس فی خاطری ولله الحمد ان الغسل ھھنا بضم الغین لافتحھا فلیس المراد غسل الرأس بل المعنی(۶) ضرہ الغسل واسالۃ الماء علی بدنہ ولومع ترك الرأس لماتصعدبہ الا بخرۃ الی
ہوتا ہے تو اس کیلئے تیمم کیسے جائز ہوگیا؟ یہ حکم قطعًا باطل ہے۔ اس پر تو مسح سر کی طرف رجوع لازم ہے ، اس لئے کہ جب کسی دھوئے جانے والے عضو کا دھونا متعذر اور دشوار ہوجائے تو اس پر مسح کرلینا اسے دھونے ہی کی طرح ہے جیسا کہ ابھی بحر کے حوالے سے گزرا ، اسی کے مثل بدائع میں بھی ہے اسی لئے اس مسح کو دھونے کے ساتھ جمع کرناجائز ہے ، اس کے برخلاف موزوں کے مسح میں یہ جائز نہیں کہ ایك پاؤں دھولے اور دوسرے پاؤں کے موزے پر مسح کرلے۔ (لیکن بحالتِ عذر)مگر ایك پاؤں پر لکڑی یا کپڑے کی پٹّی بندھی ہو تو اس پر مسح کرے گا اور دوسرا پاؤں دھوئے گا۔ جیساکہ اس پر تبیین وغیرہ کی صراحت موجود ہے اور جس کا اکثر بدن صحیح ہو اس کا مسئلہ مشہور وصریح اور غیر محتاجِ تصریح ہے کہ وہ صحیح حصّہ بدن دھوئےگا اور زخمی حصہ پر مسح کریگا۔ تو حیرت یہی ہے کہ یہاں (غُسل میں مسح سر اور باقی بدن کو دھونے کا حکم دینے کی بجائے) تیمم کا حکم کیسے دے دیا ہے(یہ تعجب ایك وہم سے پیدا ہوا) اور اس وہم کو اس سے تقویت پہنچی کہ درمختار میں غریب الروایۃ کی عبارت مفہومًا نقل کی۔ جب میں نے فیض میں نقل شدہ عبارتِ غریب الروایۃ دیکھی اور اس میں یہ ملا کہ : “ یضرّہ المسح فی الوضوء اوالغسل فی الجنابۃ “ یہ عبارت نہیں کہ “ مسح رأسہ
الدماغ کما علم فی الطب وکیف(۱) تکون عبارۃ غریب الروایۃ بفتح الغین مع انہ المصرح متصلابھا ان المرأۃ ان ضرھا غسل رأسھا مسحتہ فلیس المعنی الاماقررت وھذا صاف لاغبار علیہ ولله الحمد۔
اما مسألۃ الوضوء فغیر عجیب بل لہ وجہ وجیہ قریب فاقول : معلوم(۲) ان الحدث لایتجزی فکذا رفعہ فلواغتسل وبقیت شعرۃ لم یسل الماء علیھا فلاغسل لہ وھو جنب کماکان وقد نصوا ان النجاسۃ الحکمیۃ(۳)اشد من الحقیقیۃ اذقد عفی من ھذہ قدردرھم اواقل من الربع ولاعفو عــہ فی الحکمیۃ قدر ذرۃ اصلا ۔
فمن
محدثا وغسلہ جنبا “ جیسا کہ درمختار میں ہے تو یہ عبارت دیکھتے ہی بحمدالله تعالٰی میرے دل میں خیال ہوا کہ لفظ “ غسل “ یہاں غین کے ضمہ سے ہوگا ، فتحہ سے نہ ہوگا۔ تو اس عبارت کا یہ معنٰی نہیں کہ “ وضو میں مسح کرنا اور جنابت میں “ دھونا “ ضرر دیتا ہو “ بلکہ معنی یہ ہے کہ جنابت میں غسل اور بدن پر پانی بہانا ضرر دیتا ہو اگرچہ سر کو چھوڑ کر پانی بہائے ، ضرر اس لئے ہو کہ بخارات دماغ کی طرف چڑھتے ہوں جیسا کہ فنِ طب اسے بتاتا ہے۔ اور غریب الروایۃ کی عبارت غین کے فتحہ کے ساتھ (دھونے کے معنی میں)کیوں کر ہوسکتی ہے جبکہ اس کے متصل ہی یہ تصریح موجود ہے کہ اگر عورت کو سردھونے سے ضرر ہو تو اس پر مسح کرے (پھر یہاں بجائے سر کے سب کچھ چھوڑ کر صرف تیمم کا حکم کیسے ہوسکتا ہے) تو معنی وہی ہے جو میں نے بیان کیا اور یہ بالکل صاف بے غبار ہے۔ وللہ الحمد۔ (ت)اب رہا وضو کا مسئلہ ، تو وہ بھی تعجب خیز نہیں بلکہ اس کی ایك عمدہ قریبی وجہ ہے فاقول : یہ معلوم ہے کہ حدث منقسم نہیں ہوتا تو اسی طرح ازالہ حدث بھی منقسم نہ ہوگا۔ اگر کوئی غسل کرے اور ایك بال چھوٹ جائے جس پر پانی نہ بہایا ہو تو اس کا غسل نہ ہُوا وہ اب بھی جُنب ہے اور علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ نجاست حکمیہ نجاست حقیقیہ سے زیادہ سخت ہے اس لئے کہ حقیقیہ سے تو بقدر درہم یا چوتھائی سے کم معاف ہے اور حکمیہ میں
عــہ اقول ای فی السعۃ اما مواضع الضرو رۃ فنعم کشعر تعقد ونیم ذباب وجرم حناء ومداد الٰی غیر ذلك مما فصلنا فی الجود الحلو ۱۲ منہ غفرلہ (م)
اقول : یعنی بحالت وسعت کچھ معاف نہیں۔ ہاں ضرورت کی جگہوں میں کچھ عفو ہے جیسے بال جو خود گِرہ کھا کر رہ گیا ہو اور مکھّی کی بیٹ ، مہندی ، روشنائی وغیرہ کا جرم جس کی تفصیل ہم نے رسالہ “ الجود الحلوفی ارکان الوضو “ میں کی ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
لایستطیع غسل رأسہ فی الغسل یمسحہ فان لم یستطع فعصابۃً علیہ وقد تم التطھیر لما علمت ان ھذا المسح یقوم مقام غسلہ وھی مسألۃ الصحیح الجریح اما اذالم یقدر علیہ اصلا فی الغسل اوالوضوء تبقی وظیفۃ الرأس متروکۃ رأسا فیکون ھذا بعض طھارۃ لاطھارۃ وھو لایتجزی فینتفی اصلا فقد ظھر عــہ عجزہ عن طہارۃ الماء فوجب المصیر الی التیمم۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع