30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
موہوب لہ کی رضامندی یا حاکم کے فیصلہ پر موقوف ہے۔ لیکن یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس نے ہبہ اسی لئے کیا ہے پھر واپس لے گا اور جسے ہبہ کیا ہے وہ واہب کے مطالبہ کے وقت پانی دینے سے انکار نہ کریگا۔ اور یہ امرتیمم سے مانع ہے اس کا جواب یہ ہے کہ دینے والا ہبہ کے ذریعے یا خرید کر واپس لے گا ہبہ سے رجوع کرکے واپس نہ لے گا۔ تو امر مکروہ لازم نہ آئے گا۔ اور جسے دیا گیا ہے جب اسے حیلہ کا علم ہے تو وضو کیلئے دینے سے وہ انکار کردے گا غور کرو “ ۔ اھ (ت)
اقول : علامہ مقدسی کے اعتراض کی کوئی وجہ نہیں اس لئے کہ ہبہ حقیقۃً ہبہ ہے جو اہل سے محل میں صادر ہوا ، اور حیلہ حقیقت کو ختم نہیں کرتا بلکہ ثابت ولازم کرتا ہے اس لئے کہ اگر حقیقت کا ثبوت ہی نہ ہوتا تو حیلہ ہی باطل ہوتا۔ اور اسے کسی اور مقصد کے حصول کا ذریعہ بنانا قصدِ عقد کے منافی نہیں بلکہ
والقبول عـــہ لابالغایات المضمرۃ فی النفوس والالانسدباب الحیل الشرعیۃ عن اٰخرھا مع انہ مفتوح بالکتاب العزیز والاحادیث الصحاح کمابینتہ فی کفل الفقیہ واذا ثبت العقد ثبت باحکامہ ومن احکامہ کراھۃ الرجوع تحریما فکیف لایکون محذورا ولیس المنع(۱) منہ لتأذی الموھوب لہ حتی لولم یتأذ جاز بل لا(۲) یجوز وان لم یتأذ الا تری ان لہ طریقین الرضا والقضاء ولاتأذی فی الرضا بل منعہ لانہ لیس لنا بحمدالله تعالٰی مثل السوء کما افصح بہ الحدیث الشریف اما علاوۃ الشامی فقد تکفل بالجواب عنھا وقد جزم فی ردالمحتار بما استضعفہ فی المنحۃ۔
اس سے تو قصد اور مؤکد ہوتا ہے کیونکہ اسی کے ذریعے اسے دوسرا مقصد حاصل کرنا ہے تو عقد کا قصد کیوں کر نہ ہوگا؟ عقد تو ایجاب وقبول سے ہوتا ہے ، دلوں میں پوشیدہ مقاصد کا اعتبار نہیں ورنہ تمام تر شرعی حیلوں کا دروازہ ہی بند ہوجائے جب کہ یہ کتاب عزیز اور احادیث صحاح کی رُو سے کھُلا ہوا ہے جیسا کہ میں نے “ کفل الفقیہ الفاھم “ میں اسے واضح کیا ہے۔ اور جب عقد کا ثبوت ہوگاتو اس کے احکام کا بھی ثبوت ہوگا۔ اور عقد ہبہ کا ایك حکم یہ بھی ہے کہ اس سے رجوع کرنا مکروہ تحریمی ہے تو رجوع ممنوع کیسے نہ ہوگا؟ اور رجوع سے ممانعت اس بنیاد پر نہیں کہ اس سے موہوب لہ کو اذیت ہوگی کہ اگر اسے اذیت نہ ہو تو رجوع جائز ہوجائے۔ بلکہ اسے اذیت نہ ہو جب بھی رجوع جائز نہیں۔ دیکھ لیجئے کہ رجوع کے دو۲ طریقے ہیں موہوب لہ کی رضامندی یا حاکم کا فیصلہ ، اور رضامندی کی صورت میں اسے کوئی اذیت نہیں (مگر ممانعت دونوں ہی صورتوں میں ہے) بلکہ رجوع سے ممانعت اس لئے ہے کہ بحمدہٖ تعالٰی ہمارے لئے بُری مَثَل نہیں جیسا کہ حدیث شریف میں اس کا صاف بیان ہے (ہبہ سے رجوع کرنے والا اس کُتّے کی طرح ہے جو اپنا قے کیا ہُوا کھانا پھر کھاتا ہے۔ مفہومًا ۱۲ م۔ الف) رہا علّامہ شامی کا “ علاوہ “ تو اس کا جواب انہوں نے خود ہی دے دیا ہے اور منحۃ الخالق میں جسے انہوں نے ضعیف سمجھا تھا ردالمحتار میں اسی پر جزم فرمایا ہے۔ (ت)
عـــہ کمن(۳) نکح الٰی شھر اوسنۃ اومائتی عام بطل وان نکح مطلقًا وفی نیتہ ان یطلقھا بعد شھر اویوم اوساعۃ جاز کما فی الدر وغیرہ ۱۲ منہ غفرلہ (م) جیسے اگر کسی نے ایك ماہ یا ایك سال یا دوسو۲۰۰ سال تك کیلئے نکاح کیا تو باطل ہے اور اگر قیدِ وقت کے بغیر نکاح کیا اور دل میں یہ نیت ہے کہ ایك ماہ یا ایك دن یا ایك ساعت کے بعد طلاق دے دے گا تو جائز ہے جیسا کہ درمختار وغیرہ میں مذکور ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
فان قلت : مافائدتہ الاالتمکن من الرجوع وھو عنہ ممنوع اقول : لایرجع بل یشتری او یستوھب کما قال ش وفائدتہ ان الموھوب لہ لایمتنع من بیعہ اوھبتہ علما منہ بانہ ان لم یفعل فلہ الرجوع فلایفید الامتناع بخلاف مااذا انقطع حق رجوعہ یمتنع لعلمہ ان الواھب لایقدر علی استردادہ فالصواب مع عامۃ الائمۃ ان شاء الله تعالٰی والله تعالٰی اعلم۔
اگر یہ اعتراض ہو کہ اس کا فائدہ یہی تو تھا کہ آئندہ رجوع پر قدرت رہے گی اور رجوع ممنوع ہے (تو فائدہ مفقود ہے) اقول ہبہ سے رجوع نہیں کرے گا بلکہ موہوب لہ سے آبِ زمزم خرید کر یا اس سے ہبہ کراکے حاصل کرے گا جیسا کہ علامہ شامی نے فرمایا۔ اور فائدہ یہ ہے کہ موہوب لہ بیع یا ہبہ سے انکار نہ کرسکے گا کیونکہ اسے معلوم ہے کہ اگر وہ ایسا نہیں کرتا ہے تو واہب رجوع کرسکتا ہے تو انکار بے سود ہوگا۔ بخلاف اس صورت کے جس میں حق رجوع ختم ہوجائے اس صورت میں موہوب لہ انکار کردے گا کیونکہ اسے معلوم ہے کہ واہب کو واپس لینے کا اختیار نہ رہا۔ تو اس مسئلہ میں حق وصواب عامہ ائمہ رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰیکے ساتھ ہے ، ان شاء الله تعالٰی۔ والله تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۱۴۹) پانی ایسی حالت پر ہے کہ اس کے مطلق ومقید ہونے میں اشتباہ ہے جیسے نبیذتمر وغیرہ جس میں تحقیق نہ ہو کہ پانی اُس میوے سے مغلوب ہوکر نبیذ ہوگیا یا ابھی نہیں اُس سے وضو بھی کرے کہ شاید پانی ہو اورتیمم بھی کہ شاید نہ ہو ہمارے امامِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے نبیذتمر میں جو تین حکم مروی ہیں ، اُس سے وضو کرے ، وضو نہ کرے تیمم ہی کرے۔ وضو وتیمم دونوں کرے وہ انہیں تین حالتوں پر مبنی ہیں ، جہاں پانی ہنوز مغلوب نہ ہوا وہاں اُس سے وضو کا حکم فرمایا جہاں مغلوب ہوگیاتیمم کا حکم دیا جہاں مغلوب ہونا نہ ہونا مشتبہ ہے دونوں کا جمع کرنا ارشاد فرمایا کماذکرناہ علی ھامش رسالتنا النور والنورق (جیسا کہ ہم نے اپنے رسالہ “ النور والنورق “ کے حاشیہ میں ذکر کیا ہے۔ ت)
(۱۵۰) گدھے کا جھُوٹا پانی موجود ہے ، اور نہیں اُس سے وضو بھی کرے اورتیمم بھی۔ ان دونوں نمبروں میں اختیار ہے چاہے وضو پہلے کرے خواہ تیمم اور بہتر یہ ہے کہ وضو پہلے کرے اور۱ ان دونوں میں وضو بلانیت جائز نہ ہوگاتیمم کی طرح اس وضو میں بھی نیت شرط ہے۔ تنبیہ : یہی حکم خچّر کے جھُوٹے کا ہے اگر گدھی پر گھوڑا پڑنے سے پیدا ہوا ہو ہمارے۲ ملك میں عام خچر وہ ہیں کہ گھوڑی پر گدھا ڈال کر لیے جاتے ہیں ان خچّروں کا جھُوٹا مشکوك نہیں طاہر ہے ان کا حکم گھوڑے کی مثل ہے کہ جانوروں۳ میں اعتبار ماں کا ہے درمختار میں ہے :
(سؤرحمار) اھلی (وبغل) امہ حمارۃ
$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع