دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 3 | فتاوی رضویہ جلد ۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۳

واعترضہ فی الخانیۃ وعن المحیط فی المنیۃ وتبعھم البزازی فی الوجیز وقال الحلبی فی الغنیۃ ھو الفقہ بعینہ[1] وھذا لفظ الامام فقیہ النفس قال رحمہ الله تعالٰی ھذا لیس بصحیح عندی فانہ لو رأی مع غیرہ ماء یبیعہ بمثل الثمن اوبغبن یسیر یلزمہ الشراء ولایجوز لہ ان یتیمّم فاذا تمکن من الرجوع فی الھبۃ کیف یجوز لہ التیمّم [2]  اھ وعن ھذا جعل الحیلۃ الاخری فی الغنیۃ وتبعہ فی الدر ان یھبہ علی وجہ ینقطع بہ الرجوع [3] اھ ای بان تکون الھبۃ بشرط العوض [4] اھ ش۔

واعترضہ العلامۃ ط قائلا عدم التقیيد اولی (ای ترك تقیيد الھبۃ بشرط الرجوع) لانہ اذاکان یھبہ علی ھذا الوجہ لا تعود علیہ فائدتہ                                           

متأخرین نے اس حیلہ پر کوئی جرح کے بغیر ذکر کیا ہے جیسے صاحبِ ہدایہ نے تجنیس میں اور صاحب مبتغی بغین معجمہ نے بھی اسے بیان کیا ہے اھ

خانیہ میں اور منیہ میں محیط کے حوالہ سے اس پر اعتراض کیا ہے اور وجیز میں بزازی نے اِن حضرات کی پیروی کی ہے۔ حلبی نے غنیہ میں فرمایا ہے : “ یہی فقاہت ہے ، اور امام فقیہ النفس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے الفاظ یہ ہیں : “ یہ میرے نزدیك درست نہیں اس لئے کہ اگر وہ کسی کے پاس پانی پائے جسے وہ ثمن مثل پر یا معمولی زیادتی کے ساتھ اسے فروخت کررہا ہے تو اس پر خریدنا لازم ہے اورتیمم جائز نہیں تو جب وہ ہبہ سے رجوع کرسکتا ہے تو تیمم اس کیلئے کیونکر جائز ہوگا؟ “ اھ۔

 اسی لئے غنیہ میں اور اس کی تبعیت کرتے ہُوئے درِمختار میں دوسرا حیلہ یہ بتایا ہے کہ اس طرح ہبہ کرے کہ رجوع نہ کرسکے اھ۔ یعنی اس طرح کہ ہبہ بشرط عوض ہو اھ شامی۔

اس پر علامہ طحطاوی نے یہ اعتراض کیا ہے کہ “ ہبہ بشرط رجوع کی قید نہ لگانا “ اولی ہے اس لئے کہ جب اسے اس طور پر ہبہ کردے گا تو اس کا فائدہ اسے حاصل نہ ہوسکے گا۔ تو بہتر یہ ہے کہ خود ہی

فالاولی ان ینتفع بہ لنفسہ [5]  اھ ای اذا وھب بحیث سقط تمکن الرجوع خرج من یدہ واختیارہ ففیم الحیلۃ لانھا انما کانت لینتفع بہ اھداء واستشفاء واجاب ش بان المراد یھبہ ممن یثق بہ بانہ یردہ علیہ بعد ذلك [6] اھ۔

اقول : (۱) ربما لایجد فی السفر من یثق بہ ولذا قالوا یھبہ من غیرہ ولم یقیدوہ بموثوق بہ ولوکان(۲) المراد ھذا لکان یکفی ان یبیعہ ثم اذا وصلا اوتفرق طریقھما یشتری منہ وقد کان البیع اشھر منھا یعرفہ کل احد بخلاف الھبۃ بشرط العوض التی ھی برزخ بینھما ھبۃ ابتداء وبیع انتھاہ ولم یذکر البیع احد اما اشکال الخانیۃ فقد اجاب عنہ المحقق علی الاطلاق فی الفتح بان الرجوع تملك بسبب مکروہ وھو مطلوب العدم شرعا فیجوز ان یعتبر الماء معدوما فی حقہ لذلك وان قدر علیہ حقیقۃ کماء الحب بخلاف البیع[7]  اھ         

اس سے فائدہ اٹھائے “ اھ یعنی جب اس طرح ہبہ کردیا کہ رجوع نہیں کرسکتا تو وہ اس کے قبضہ واختیار سے نکل گیا پھر حیلہ کس بات کا؟ حیلہ تو اسی لئے تھا کہ اسے ہدیہ کرنے یا اس سے شفاء حاصل کرنے کا فائدہ اٹھا سکے۔ علّامہ شامی نے اس اعتراض کے جواب میں فرمایا : “ مراد یہ ہے کہ ایسے شخص کو ہبہ کرے جس پر اعتماد ہو کہ وہ بعد میں اسے واپس کردے گا “ اھ۔ (ت)

اقول : سفر میں ایسا بہت ہوتا ہے کہ قابلِ اعتماد آدمی نہیں ملتا۔ اسی لئے فقہاء نے دوسرے کو ہبہ کرنے کی بات تو کہی ہے مگر اس کے قابلِ اعتماد ہونے کی قید نہیں لگائی۔ اگر یہ مراد ہوتی تو یہی کافی تھا کہ اسے فروخت کردے پھر جب دونوں وطن پہنچ جائیں یا جب دونوں کا راستہ الگ الگ ہو تو یہ اس سے خریدلے۔ اور بیع تو زیادہ مشہور چیز ہے جسے ہر شخص جانتا ہے بخلاف ہبہ بشرط عوض کے جو بیع وہبہ کے درمیان برزخ ہے کہ ابتداءً ہبہ ہے اور انتہاءً بیع ہے اور بیع کو کسی نے ذکر نہ کیا۔ رہا خانیہ کا اعتراض تو فتح القدیر میں محقق علی الاطلاق نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ “ رجوع کرنا ایك مکروہ سبب کے ساتھ مالك بننا ہے اور اس فعل کا عدم شرعًا مطلوب ہے تو اس کے باعث پانی اس کے حق میں معدوم قرار دیا جاسکتا ہے اگرچہ حقیقۃً اس پر قادر ہو جیسے سبیل کا پانی ، بخلاف بیع کے “ اھ۔ (ت)

اقول :  ای اذا وجد فی الفلاۃ ماء موضوعا للشرب لایجوزلہ التوضی منہ بل یتیمّم مع قدرتہ علی الماء حسا ولغۃ حقیقۃ لعجزہ عنہ شرعا کذا ھذا بخلاف الشراء فانہ قادر علیہ شرعا ایضا وبالجملۃ فالمنع الشرعی ایضا من اسباب العجز عن استعمال الماء کسائر وجوہ العجز وھو حاصل ھھنا فساغ التیمّم ھذا تقریرہ وقد اقرہ فی البحر واستحسنہ فی الحلیۃ وتعقبہ المقدسی قائلا یمکن ان یقال انما یکون الرجوع محذورا اذا کان عقد الھبۃ حقیقیا اما اذا کان علی وجہ الحیلۃ فلا اذ الموھوب لہ لایتأذی من الرجوع ھنا اصلا تأمل[8]  اھ واختلف نظر العلامۃ ش فاید فی المنحۃ تعقب المقدسی بقولہ علا انہ سیأتی عن الوافی انہ اذا کان مع رفیقہ ماء فظن انہ ان سألہ اعطاہ لم یجز التیمّم وان کان عندہ انہ لایعطیہ یتیمم وان شك فی الاعطاء ویتیمّم وصلی فسألہ فاعطاہ یعید وھنا ان لم یرجع بھبتہ یجب علیہ ان یسألہ لوجود الظن باعطائہ                                                 

اقول : یعنی جب جنگل میں پینے کیلئے رکھا ہُوا پانی پائے تو پانی پر حِسًّا اور لغت میں حقیقۃً قدرت ہونے کے باوجود اس کیلئے اس سے وضو کرنا جائز نہیں بلالکہ تیمم کرے گا اس کیلئے شرعًا وہ پانی سے عاجز ہے ایسے ہی ہبہ سے رجوع والا معاملہ ہے اور خریدنے کی صورت اس کے برخلاف ہے کیونکہ اس پر وہ شرعا بھی قادر ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ پانی سے عجز کی دوسری صورتوں کی طرح ممانعت شرعیہ بھی پانی کے استعمال سے عجز کا ایك سبب ہے اور وہ یہاں پر موجود ہے توتیمم جائز ہوا یہ کلام محقق کی تقریر ہے اسے بحر میں برقرار رکھا اور حلیہ میں پسند کیا۔ ا ور مقدسی نے اس پر یہ اعتراض کیا کہ “ کہا جاسکتا ہے کہ رجوع اس وقت ممنوع ہوتا ہے جب ہبہ کا معاملہ حقیقی طور پر منعقد ہو لیکن اگر حیلہ کے طور پر ہو تو ممنوع نہیں اس لئے کہ جسے ہبہ کیا گیا اسے رجوع سے یہاں کوئی اذیت نہ ہوگی ، تأمل اھ۔

یہاں علّامہ شامی کا کلام دو طرح کا ہے۔ منحۃ الخالق میں مقدسی کے اعتراض کی اس طرح تائید کی ہے : “ علاوہ اس کے کہ عنقریب وافی کے حوالہ سے یہ مسئلہ آرہا ہے کہ جب رفیقِ سفر کے پاس پانی ہو اور یہ گمان ہو کہ مانگنے پر دے دے گا توتیمم جائز نہیں اور اگر اس کا یہ عندیہ ہو کہ نہیں دے گا تو

اللھم الا ان یتعا ھدا علی انہ ان سألہ بعد الھبۃ لایعطیہ تتمیما للحلیۃ تأمل [9] اھ واید فی ردالمحتار استحسان الحلیۃ بقولہ علا ان الرجوع فی الھبۃ یتوقف علی الرضا اوالقضاء لکن قد یقال انہ ماوھبہ الا لیستردہ والموھوب منہ لایمنعہ اذاطلبہ الواھب وذلك یمنع التیمم والجواب انہ یستردہ بھبۃ اوشراء لابالرجوع فلایلزم المکروہ والموھوب منہ اذاعلم بالحیلۃ یمتنع من دفعہ للوضوء تأمل [10]  اھ

اقول :  لا وجہ(۱) للتعقب فان الھبۃ حقیقیۃ قطعا صدرت من اھلھا فی محلھا والحیلۃ لا تنفی الحقیقۃ بل توجبھا اذ لولاھا لبطلت وکونہ یتوصل(۲) بہ الی مقصد اٰخر لاینافی قصد العقد بل یؤکدہ اذبہ یتوصل فکیف لایقصدہ وانما العقد بالایجاب   

تیمم کرلے۔ اور اگر دینے سے متعلق اسے شك تھا اورتیمم کرکے نماز پڑھ لی پھر اس سے طلب کیا اور اس نے دے دیا تو اعادہ کرے۔ اور یہاں اگرچہ اپنے ہبہ سے رجوع نہ کرے لیکن اس پر یہ واجب ہے کہ پانی اس سے مانگے کیونکہ دینے کا ظن موجود ہے ، ہاں مگر یہ صورت کہ دونوں باہم عہد کرلیں کہ اگر ہبہ کے بعد اس سے طلب کرے تو نہ دے تاکہ حیلہ مکمل ہوجائے ، تأمل کرو “ ۔ اھ اور ردالمحتار میں حلیہ کے استحسان کی ان الفاظ میں تائید فرمائی ہے : “ علاوہ ازیں ہبہ سے رجوع



[1]   غنیۃ المستملی باب التیمم مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۷۰

[2]   فتاوٰی قاضی خان فصل فیما یجوزلہ التیمم مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۲۶

[3]   غنیۃ المستملی باب التیمم سہیل اکیڈمی لاہور ص۷۰

[4]   ردالمحتار باب التیمم مطبع مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۸۶

[5]   طحطاوی علی الدر باب التیمم مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۱۳۴

[6]   ردالمحتار باب التیمم مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۸۶

[7]   فتح القدیر باب التیمم مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۱۱۹

[8]   منحۃ الخالق مع البحرالرائق باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۴۴

[9]   منحۃ الخالق مع البحرالرائق باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۴۴

[10]   ردالمحتار باب التیمم مطبع مصطفی البابی مصر $&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن