دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 3 | فتاوی رضویہ جلد ۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۳

اقول : رفیق سفر کے مسئلہ میں چار اقوال گنائے ہیں : اول وہ ہے جو یہاں پہلے ذکر کیا۔ دوم یہ کہ اگر ایسی جگہ ہو جہاں پانی ملنا دشوار ہے تو طلب واجب ہے ورنہ مستحب ہے۔ سوم وچہارم بقیہ وہ دونوں قول ہیں جو یہاں ذکر کیے اور یہاں قولِ دوم ترك کردیا اس لئے کہ وہ اوّل ہی کی طرف راجع ہے کیونکہ جگہ کے مختلف ہونے سے یہاں حکم مختلف نہ ہوگا بلکہ مدار اس پر ہے کہ دینے کا ظن غالب ہے یا نہیں؟

اقول : بلکہ صحیح تر ، یا صحیح یہ ہے کہ وہاں بھی قولِ دوم ترك کردیا جائے اس لئے کہ وہاں بھی مدار ظن ہی پر ہے دستیابی دشوار ہونے نہ ہونے کے (باقی برصفحہ آئندہ)

پاس نہیں اگر اس میں نہاتا ہے پانی بھی خراب ہوتا ہے اور یہ بھی طاہر نہ ہوگا ناچارتیمم کرے ،               (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)

العزۃ وعدمھا لکونہ مظنۃ المنع وعدمہ۔

ثمّ اقول  :  قدعلم من احاط بکلامنا فی الفروع مشینا علی القول الاول فی غیر مافرع وھو الصحیح المعتمد بل التحقیق عندی بتوفیق الله تعالٰی انہ ھو مرجع الاقوال طرا کما بینتہ فی رسالتی “ قوانین العلماء فی متیمّم علم مع زید ماء “ غیران ظن الاجابۃ ھھنا اکثر من ظن عطاء ماء الطھر ثمہ ویبعد کل البعدان یقف جنب علی حد المسجد ویخبر بحاجتہ مسلما ویقول لہ ناولنی الماء فیابی فاذن فی تأتی التفریع ھھنا علی الاقوال الثلثۃ نظر لظھور الفارق بل یجب المشی علی الثالث وھو الایجاب مطلقًا وفاقا لان المنع فی مثلہ نادر والنادر لایلاحظ فی الاحکام ھذا ماعلمنی الملك العلام والحمدالله ولی الانعام ۱۲ منہ غفرلہ (م)              

مقام کا ذکر اسی بنیاد پر ہے کہ اس سے نہ دینے اور دینے کا ظن قائم ہوتا ہے۔

ثمّ اقول : جس کی نظر جزئیات میں ہمارے کلام پر محیط ہوگی اسے معلوم ہوگا کہ متعدد جزئیات میں ہم قولِ اوّل پر چلے ہیں اور وہی صحیح ومعتمد ہے بلکہ توفیقِ الٰہی میرے نزدیك تحقیق یہ ہے کہ سارے اقوال کا مآل اسی کی جانب ہے جیسا کہ میں نے اسے اپنے رسالہ “ قوانین العلماء فی متیمم علم مع زید ماء میں بیان کیا ہے۔ فرق یہ ہے کہ یہاں قبولِ سوال کا گمان وہاں آب طہارت دینے کے گمان سے زیادہ ہے۔ یہ بہت بعید بات ہے کہ کنارہ مسجد پر کوئی جنابت والا کھڑا ہو اور کسی مسلمان سے اپنی حاجت بتاتے ہوئے کہے کہ مجھے پانی دے دو پھر بھی وہ انکار کردے۔ اس لحاظ سے بقیہ تین اقوال پر تفریع جاری ہونے میں نظر ہے اس لئے کہ وجہ فرق موجود ہے بلکہ تیسرے قول پر چلنا لازم ہے اور وہ یہ ہے کہ بالاتفاق مطلقًا سوال واجب کیا جائے اس لئے کہ ایسے موقع پر منع نادر ہے اور احکام میں نادر کا لحاظ نہیں ہوتا۔ یہ وہ ہے جو بادشاہ علّام کی جانب سے مجھے علم دیا گیا۔ اور ساری تعریف احسان فرمانے والے خدا ہی کیلئے ہے۔ ۱۲ منہ غفرلہ (ت)

ھذا نصہ وان کان فیہ (ای فی المسجد اقول ولیس قیدا کما لایخفی) عین صغیرۃ ولایستطیع الاغتراف منہ لایغتسل فیھا ویتیمّم لان الاغتسال فیہ یفسدہ ولایخرج طاھرا فلایکون مقیدا [1]  اھ

اس کی عبارت یہ ہے : اور اگر اس میں (یعنی مسجد میں اقول اور یہ قید نہیں جیسا کہ پوشیدہ نہیں) کوئی چھوٹا حوض ہو اور اس سے پانی نکال نہیں سکتا تو اس میں غسل نہ کرے اورتیمم کرے کیونکہ غسل کرنے سے پانی فاسد ہوجائے گا اور یہ بھی پاك ہوکر نہ نکلے گا تو نہانا بے سُود ہی ہوگا “ ۔ اھ (ت)

اقول : مگر یہ غیر صحیح پر مبنی ہے صحیح ومعتمد یہ ہے کہ اس کا غسل اُتر جائے گا اور پانی مستعمل ہوجائے گا

لعدم الاستعمال قبل الانفصال وھی مسألۃ البئر جحط وقد قال فی البحر المذھب المختار فی ھذہ المسألۃ ان الرجل طاھر والماء طاھر غیر طھور [2] اھ۔

اس لئے کہ پانی بدن سے جُدا ہونے سے پہلے مستعمل نہیں ہوتا۔ اور یہ “ مسألۃ البئر جحط “ سے متعلق ہے بحر میں لکھا ہے کہ “ اس مسئلہ میں مذہب مختار یہ ہے کہ آدمی طاہر ہے اور پانی طاہر غیر مطہر “ ۔ اھ۔ (ت)

تو اگر وہ ۱  پانی وقف ہے یا مالك کی اجازت نہیں اس میں نہانا ممنوع ہوگا کہ پانی کو خراب کردے گا یہ نمبر ۵۱ و ۵۳ میں داخل ہے اور اگر مالك کی اجازت یا پانی خود اس کی مِلك یا قدرتی مباح ہے تو نہانا لازم اورتیمم روانہیں۔

(۱۴۷) پانی ہے مگر مقید جس کا روشن بیان ہمارے رسالہ النور والنورق میں ہے تیمم کرے اسی۱  کی فروع سے ہے وہ مسئلہ کہ علماء نے آبِ زمزم شریف بچانے کیلئے افادہ فرمایا اپنے تبرك یا کسی کو ہدیہ دینے کے لئے زمزم لیے جاتا ہے اقول : اتنا کہ طہارت کو خود یا دوسرے پانی سے مل کر کافی ہو وضو یا غسل کی ضرورت ہوئی بغیر اُس کے اور کافی پانی موجود نہیں فرض ہوگا کہ زمزم شریف ہی طہارت میں خرچ کرے اب اگر اُسے بچانا چاہے اُس میں گلاب کیوڑا بید مشك برابر کا ملادے [3]خلاصہ بزازیۃ غنیۃ توشیح بحر یا زعفران اتنا کہ اُسے رنگنے کے قابل کردے [4]خلاصۃ حلیۃ یا شکر کہ شربت ہوجائے [5]ردالمحتار۔

اقول : مگر شربت زیادہ دن نہ ٹھہرے گا اور صورت زعفران میں بھی پینا دشوار ہوگا لہذا گلاب ہی اولٰی ہے اگر حاضر ہو غرض وہ صورت کردے کہ قابلِ غسل و وضو نہ رہے اب تیمم کرے۔

(۱۴۸) اس کا دوسرا حیلہ یہ فرمایا ہے کہ زمزم کسی رفیق کو ہبہ کرکے اس کے قبضہ میں دے دے پھر اُس سے اپنے پاس بطور امانت لے لے یا اُسی کے پاس رہنے دے اورتیمم کرے کہ پانی اپنی مِلك میں نہ رہا جب وطن پہنچے یا اُس کی راہ جُدا ہو اُس سے اپنے نام مثلًا ہبہ کرالے یا کچھ دے کر خریدلے۔ خلاصہ میں ہے :

رجل فی البادیۃ معہ ماء زمزم وقد رصص راس القمقمۃ لایجوزلہ التیمم والحلیۃ ان یھبھا لغیرہ ثمّ یودعھا منہ اویجعل فیہ ماء الورد او ماء الزعفران حتی یصیر مقیدا[6]۔

جنگل میں کوئی شخص ہے جس کے پاس آبِ زمزم ہے جس کے برتن کا مُنہ خوب بند کر رکھا ہے ، اس کیلئے تیمم جائز نہیں۔ اور حیلہ یہ ہے کہ دوسرے کو بطور ہبہ دے دے پھر اس سے بطور امانت لے لے ، یا اس میں گلاب یا زعفران ملا دے کہ وہ (آبِ مطلق نہ رہ جائے بلکہ) آبِ مقید ہوجائے۔ (ت)

فتح القدیر میں ہے :

یبتلی الحاج بحمل ماء زمزم للھدیۃ (زاد فی المنیۃ اوللاستشفاء) ویرصص رأس القمقمۃ فمالم یخف العطش ونحوہ لایجوزلہ التیمّم قال المصنف والحیلۃ فیہ ان یھبہ من غیرہ ثم یستودعہ منہ[7]  اھ زاد فی الحلیۃ اوترکہ مع الموھوب                                                

حاجی کو جب اس میں ابتلا ہوتا ہے کہ آبِ زمزم ہدیہ کیلئے لیے ہُوئے ہے (منیہ میں زیادہ کیا : “ یا شفاء حاصل کرنے کیلئے “ ) اور برتن کو مُہر بند کردیا ہے تو جب تك پیاس وغیرہ کا خطرہ نہ ہو اُس کیلئے تیمم جائز نہیں۔ مصنّف نے فرمایا : “ اس میں حیلہ یہ ہے کہ دوسرے کو بطور ہبہ دے دے پھر اس سے بطور امانت اپنے پاس لے لے “ ۔ اھ۔ حلیہ میں یہ اضافہ کیا : “ یا اُسی کے پاس رہنے دے جسے ہبہ کیا “ ۔  اھ۔

حلیہ میں یہ بھی لکھا ہے کہ : “ اسے بہت سے

لہ اھ۔ وقال فیھا انہ مما تواردہ کثیر من المتأخرین من غیر قدح فی ھذہ الحیلۃ کصاحب الھدایۃ فی التجنیس وصاحب المبتغی بالغین المعجمۃ [8]اھ

 



[1]   البحرالرائق باب التیمم آخر قول ولوجنبًا اوحائضًا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۴۷

[2]   البحرالرائق باب التیمم مسئلۃ البئر جحط ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۹۸

[3]   البحرالرائق باب التیمم مسئلۃ البئر جحط ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۴۴

[4]   خلاصۃ الفتاوٰی الماء الموضوع فی الفلوات الخ مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۳۳

[5]   ردالمحتار باب التیمم مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۸۶

[6]<

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن