30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اقول : لایبعد علی ھذا ان قیل ان الجنب ممنوع عن المسجد لبثا واجتیازا وھو فی الخروج بلا تیمّم مجتاز وفی اللبث للتیمم ماکث لانہ لایطھر مالم یتم التیمم فان کان مکثہ ھذا لتطھیر الجسد فان اجتیازہ ھذا لتنزیہ المسجد فھو بین بیلتین فلیختر اھونھما وبین نجاتین فلیرتد اعجلھما بان ینظر ایھما اسرع تیممّہ اوخروجہ فیختارہ وان استویا خیر ولکن لیس لمثلی ان یکون لہ قیل فی حکم وانما علی اتباع مارجحوہ وصححوہ۔
فاذن اقول : قدم فی الخانیۃ والمحیط والاختیار القول بالوجوب وفقیہ النفس لایقدم الا الاظھر الاشھر کماصرح بنفسہ فی صدر فتاواہ
کہ اس کیلئے ایسی حالت میں ہٹنے اور باز آنے کی اور کوئی صورت نہیں لیکن جو جنب مسجد سے نکلنا چاہتا ہے اس کیلئے جنابت کے ساتھ ہی نکلنا ضروری نہیں بلکہ اس کیلئے ایك صورت یہ ہے کہ تیمم کرکے نکلے تأمل فانہ موضعہ (یہاں تأمل اور غور کرنے کا موقع ہے)۔ (ت)
اقول : اس اعتراض پر اگر یہ کہا جائے تو بعید نہ ہوگا کہ جنب کیلئے مسجد میں ٹھہرنا اور مسجد سے گزرنا دنوں ہی منع ہے اور اگر وہ بلاتیمم نکلتا ہے تو گزرنے کی صورت پائی جاتی ہے اورتیمم کرنے کیلئے رُکتا ہے تو ٹھہرنے کی صورت پائی جاتی ہے ، اس لئے کہ جب تك اس کاتیمم مکمل نہیں ہوتا وہ ناپاك اور جنب ہی ہے۔ اب دیکھیے اس کا یہ ٹھہرنا اگر بدن کی تطہیر کیلئے ہے تو اس گا گزرنا مسجد کی تنزیہ کیلئے ہے تو وہ دو۲ مصیبتوں میں گھرا ہے (ٹھہرنا اور گزرنا) جو آسان اور ہلکی ہو اسے اختیار کرے اور دو۲ نجاتیں اس کے سامنے ہیں (تطہیر بدن اور تنزیہ مسجد) جو جلد مل سکے اسی کو حاصل کرلے وہ نظر کرے کہ کون جلد ہوسکتا ہے تیمم کرنا یا باہر نکلنا جو جلدی ہو اسے اختیار کرے اور اگر دونوں برابر ہوں تو کسی کو بھی اختیار کرسکتا ہے یہ وہ فیصلہ ہے جو میرے ذہن میں آیا مگر مجھ جیسے شخص کا یہ مقام نہیں کہ کسی حکم میں اس کا کوئی قول ہو۔ میرے ذمّہ تو اسی کا اتباع ہے جسے فقہائے کرام نے ترجیح دی اور جس کی تصحیح کی (ت)اس کے پیش نظر میں کہتا ہوں (اقول) خانیہ ، محیط اور اختیار میں وجوبِ تیمم کا قول مقدم رکھا ہے اور امام فقیہ النفس اسی کو مقدم کرتے ہیں جو اظہر واشہر ہو جیسا کہ فتاوٰی خانیہ کے شروع میں خود ہی
فیکون ھو المعتمد کما قالہ ط وش وکذلك قدمہ الباقون التقدیم دلیل الترجیح ثم نحن بین حاظر ومبیح فالاخذ بالحاظر احوط ثم المبیح لاینھی عن التیمّم بل یستحبہ والحاظر یوجبہ ففعلہ متفق علیہ وترکہ مختلف فیہ فالاخذ بالمتفق علیہ اولی والله سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
اس کی تصریح فرمائی ہے تو معتمد قول یہی ہوگا جیسا کہ طحطاوی وشامی نے فرمایا اسی طرح دیگر حضرات نے بھی اسے مقدم رکھا ہے اور تقدیم دلیل ترجیح ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہم حاظر ومبیح (ناجائز قرار دینے اور جائز قرار دینے والے) کے درمیان ہیں تو حاظر کو اختیار کرنے میں ہی زیادہ احتیاط ہے۔ تیسری بات یہ ہے کہ جو جائز کہتے ہیں وہ بھی تیمم سے منع نہیں کرتے بلکہ اسے مستحب کہتے ہیں اور جو ناجائز کہتے ہیں وہ تیمم کو واجب قرار دیتے ہیں توتیمم کرنے کی صورت متفق علیہ ہے (کسی کو اس کے جواز سے اختلاف نہیں) اور ترك تیمم کی صورت مختلف فیہ ہے (کیونکہ تیمم کو واجب کہنے والوں کے نزدیك ترك تیمم جائز نہیں) تو اُسی صورت کو اختیار کرنا بہتر اَولٰی ہے جو متفق علیہ ہے۔ والله سبحانہ وتعالٰی اعلم (ت)
(۱۴۳) نہانے کی حاجت ہے پانی مسجد کے اندر ہے جیسے وسط مسجد میں حوض یا وہ کُنواں جس تك مسجد ہی میں ہوکر راہ ہے اور اس کے سوا پانی اور کہیں نہیں پاتا نہ کوئی مسجد میں سے لادینے والا ہے تیمم کرکے جائے اور پانی لے آئے۔ محیط رضوی پھر البحرالرائق میں ہے :
جنب مر علی مسجد فیہ ماء یتیمم للدخول ولایباح لہ الابالتیمّم[1]۔
کسی جنابت والے کو کسی ایسی مسجد سے گزرنا ہے جس میں پانی ہے تو دخولِ مسجد کے لئے وہ تیمم کرے اور اسے بغیرتیمم داخل ہونا جائز نہیں اھ (ت)
مبسوط پھر عنایہ پھر شامی میں ہے :
مسافر مر بمسجد فیہ عین ماء وھو جنب ولایجد غیرہ یتیمم لدخول المسجد عندنا[2]۔
کوئی مسافر بحالتِ جنابت کسی ایسی مسجد کے پاس سے گزرا جس میں پانی کا چشمہ ہے اور دوسرا پانی اس کی دسترس میں نہیں تو ہمارے نزدیك دخول مسجد کیلئے اسے تیمم کرنا ہے۔ (ت)منیہ میں ہے :
جنب وجد الماء فی المسجد ولیس معہ احد تیمّم ودخل [3] قال فی الحلیۃ اذا کان لایجد ماء غیرہ یقدر علی استعمالہ شرعا [4] الخ۔
اقول : فقد جمع بین الشرطین وھما مراد ان قطعا وان اھملھما فی المحیط واقتصر فی المبسوط والمنیۃ علی واحد واحد۔
کوئی جنب ہے جس کے لئے مسجد ہی میں پانی دستیاب ہے اور اس کے ساتھ کوئی دوسرا نہیں تو وہ تیمم کرکے مسجد میں جائے۔ حلیہ میں فرمایا : بشرطیکہ کوئی دوسرا ایسا پانی اس کی دسترس میں نہ ہو جس کے استعمال پر شرعًا اسے قدرت ہو الخ۔ (ت)
اقول : حلیہ میں دونوں شرطیں جمع کردی ہیں اور دونوں ہی قطعًا مراد ہیں اگرچہ محیط میں دونوں ذکر نہ کیں۔ اور مبسوط ومنیہ میں صرف ایك ایك پر اکتفاء کیا۔ (ت)
(۱۴۴ تا ۱۴۶) اقول : بد ستور یہاں بھی وہی صورتیں ہوں گی کہ اگر پانی لادینے والا اُجرت مثل مانگتا ہے اور یہ ابھی دے سکتا ہے يا وہ ادھار پر راضی ہے تیمم جائز نہیں ورنہ جائز ،
ثم رأیت بحمدالله تعالی اشار الی بعضھا فی الحلیۃ مع افادات عـــہ زائدۃ فراجعھا تحت قول المنیۃ المذکور۔
پھر میں نے دیکھا کہ بحمدالله تعالٰی ان میں سے بعض کی طرف حلیہ میں مزید کچھ افادات کے ساتھ اشارہ فرمایا ہے۔ منیہ کی مذکورہ عبارت کے تحت یہ سب حلیہ میں دیکھا جائے۔ (ت)
عــــہ قال رحمہ الله تعالٰی ھل یجب سوال ذلك لاحد اویستحب ، فیہ تأمل ویمکن ان یفرع علی مسئلۃ طلب الماء رفیقہ اذا کان معہ ماء
صاحبِ حلیہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِرقم طراز ہیں : اس دوسرے شخص سے پانی مانگنا واجب ہے یا مستحب ہے۔ یہ مقامِ تأمّل ہے۔ اِس کی تفریع اُس مسئلہ پر کی جاسکتی ہے جب رفیقِ سفر کے پاس پانی ہو۔ (باقی برصفحہ آیندہ)
تنبیہ یہاں بحر میں محیط رضوی سے ایك اور صورت لکھی کہ وہ دَہ در دَہ سے کم حوض ہے اور پانی ڈور اور کوئی برتن (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
فیقال تفریعا علی احد اقوال فیھا یجب ان غلب علی ظنہ اجابتہ ولو باجرۃ المثل والالا وعلٰی قول اٰخر لایجب عند ابی حنیفۃ ویجب عندھما وعلٰی قول اٰخر یجب مطلقًا بلا اختلاف وحیث یجب لایصح تیمّمہ للدخول الابعد المنع [5] اھ
اقول : وقد عد فی مسألۃ الرفیق اربعۃ اقوال اولھا اول ماھنا وثانیھا ان کان فی موضع لایعز الماء یجب الطلب والایستحب والباقیان الباقیان وقد ترك ھھنا ثانیھا لرجوعہ الی الاول حیث لایختلف الامر ھھنا باختلاف الموضع وانما یدار علی غلبۃ الظن باجابتہ وعدمھا۔
اقول : بل الا صوب(۱) اوالصوب ترکہ کذلك ثمہ فان المدار ثمہ ایضا ھو الظن وانما ذکر موضع
اس مسئلہ سے متعلق اقوال میں سے ایك قول پر تفریع کرتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ اگر ظنِ غالب ہو کہ طلب کرنے پر دے دے گا خواہ اُجرتِ مثل پر سہی ، تو طلب کرنا واجب ہے ورنہ نہیں اور دوسرے قول پر یہ کہ امام اعظم کے نزدیك واجب نہیں اور صاحبین کے نزدیك واجب ہے اور ایك قول پر یہ مطلقًا بلا اختلاف واجب ہے اور جس صورت میں وجوب ہے دخولِ مسجد کیلئے تیمم جائز نہیں مگر اس کے بعد ہے کہ وہ دوسرا اسے پانی نہ دے اھ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع