دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 3 | فتاوی رضویہ جلد ۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۳

دُرمختار میں ہے : “ مسجد میں وضو کرنا بھی اس کے ممنوعات سے ہے مگر کسی برتن میں یا ایسی جگہ وضو کرسکتا ہے جو وضو کیلئے بنی ہُوئی ہو “ اھ۔ طحطاوی فرماتے ہیں : “ مسجد میں وضو کرنا مکروہ تحریمی ہے اس لئے کہ مسجد کو ہر آلودہ کرنے والی اور خلافِ نظافت چیز سے بچانا ضروری ہے اگرچہ وہ کوئی پاك ہی چیز ہو “ ۔ اھ بلکہ بحر کے باب الاعتکاف میں بدائع سے نقل کیا ہے کہ : “ اگر معتکف مسجد میں سر دھوئے تو حرج نہیں جبکہ مائے مستعمل سے مسجد آلودہ نہ ہونے دے ، اگر مسجد آلودہ ہونے کی صورت ہو تو ممنوع ہے کیونکہ مسجد کو صاف ستھرا رکھنا واجب ہے اور اگر مسجد کے اندر کسی برتن میں وضو کرے تو اس میں بھی یہی تفصیل ہے “ ۔ اھ ۔ پھر صاحبِ بحر

موضعا اتخذ لذلك لایصلی فیہ [1]  اھ

اقول :  والیہ یشیر قولہ فی مکروھات الصلاۃ یکرہ الوضوء والمضمضۃ فی المسجد الا ان یکون موضع فیہ اتخذ للوضوء ولایصلی فیہ [2]  اھ فلم یستثن الا ھذا۔  ومثلہ فی غمز العیون عن شرح الجامع الصغیر للتمرتاشی لکن البحر قدم فی بحث الماء المستعمل عن الخانیۃ ان توضأ فی اناء فی المسجد جاز عندھم [3]  اھ وعلیہ مشی فی اشباھہ فقال تکرہ المضمضۃ والوضوء فیہ الا ان یکون ثمہ موضع اعد لذلك لایصلی فیہ اوفی اناء [4]  اھ واعتمد السید الحموی مقالتہ فی الاعتکاف فقال ھذا الحکم وان کان فی الخانیۃ لکن لیس علی العموم کما یفھم من کلامہ بل فی المعتکف فقط بشرط عدم تلویث المسجد قال فی البدائع[5] الی اٰخر ماقدمنا عن اعتکاف البحر ۔ وقال العلامۃ الرملی فی حاشیتہ الظاھر ترجیح مافی فتاوٰی نے لکھا ہے : “ غیر معتکف کیلئے یہ اجازت نہیں اس لئے کہ اس کیلئے مسجد میں وضو کرنا مکروہ ہے ، خواہ کسی برتن میں کرے لیکن اگر مسجد میں وضو کیلئے بھی بنی ہوئی کوئی ایسی جگہ ہے جہاں نماز نہیں پڑھی جاتی (تو غیر معتکف بھی وہاں وضو کرسکتا ہے) اھ (ت)اقول : اسی کی طرف مکروہاتِ نماز کے بیان میں ان کی درج ذیل عبارت کا بھی اشارہ ہے : “ مسجد میں وضو کرنا اور کُلی کرنا مکروہ ہے مگر یہ کہ اندرونِ مسجد کوئی ایسی جگہ ہو جو وضو کیلئے بنی ہو اور وہاں نماز نہ پڑھی جاتی ہے“۔ اھ اشارہ اس طرح ہے کہ صرف اسی صورت کا انہوں نے استثناء کیا۔ اسی کے مثل غمزالعیون میں تُمُرتاشی کی شرح جامع صغیر کے حوالہ سے لکھا ہوا ہے۔ لیکن صاحبِ بحر خانیہ کے حوالہ سے مائے مستعمل کی بحث میں یہ لکھ چکے ہیں کہ : “ اگر مسجد کے اندر کسی برتن میں وضو کیا تو ان حضرات کے نزدیك جائز ہے“ ۔  اھ اسی قول پر وہ اپنی کتاب اشباہ میں بھی چلے ہیں۔ اس میں لکھا ہے : “ مسجد میں کُلی کرنا اور وضو کرنا مکروہ ہے مگر یہ کہ وہاں کوئی ایسی جگہ ہو جو اسی کام کیلئے بنی ہو جس میں نماز نہ پڑھی جاتی ہو یا کسی برتن میں وضو ہو “ اھ۔  باب الاعتکاف میں ان کا جو قول ہے اسی پر سید حموی نے اعتماد کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں : “ یہ حکم اگرچہ خانیہ میں ہے مگر عام نہیں

قاضئخان [6] اھ نقلہ فی المنحۃ۔  

اقول :  بل(۱) الاولی التوفیق فان کان الاناء بحیث یخشی ان لاتقع الغسالۃ کلھا فیہ بل یترشش بعض منھا خارجہ کسرہ ولعلہ الغالب فلذا اطلق المنع فی باب الاعتکاف وان امن ذلك لم یکرہ وھو مراد الخانیۃ والله تعالٰی ھذا وقال ط فی المسألۃ الدائرۃ ھو والسید ابو السعود الازھری ظاھر ما فی المحیط وجوب ھذا التیمّم وفصل فی السراج بین ان یخرج سریعا فیجوز ترکہ او یمکث فیہ للخوف فلایجوز ترکہ وعلیہ یحمل مافی المحیط[7] اھ اھ دل قولھما اھ علی ان الجملۃ الاخیرۃ علیہ یحمل مافی المحیط من کلام السراج الوھاج۔

اقول : (۲) وفیہ نظر ظاھر فان                                                  جیسا کہ ان کے کلام سے سمجھ میں آتا ہے۔ بلکہ صرف معتکف کیلئے ہے وہ بھی اس شرط کے ساتھ کہ مسجد آلودہ نہ ہو۔ بدائع میں ہے (اس کے بعد وہ پوری عبارت درج کی ہے جو اعتکافِ بحر کے حوالہ سے ابھی ہم لکھ چکے)اور صاحب خیر یہ علامہ رملی نے اپنے حاشیہ میں لکھا ہے کہ : “ ظاہر اسی کی ترجیح ہے جو فتاوٰی قاضی خان میں ہے اھ “ ۔ یہ عبارت علامہ شامی نے منحۃ الخالق میں نقل کی ہے۔ (ت)

اقول : بلکہ (بجائے ترجیح کے) تطبیق بہتر ہے۔ اگر برتن ایسا ہو جس میں یہ اندیشہ ہو کہ سارا غسالہ اس کے اندر نہ پڑے گا بلکہ کچھ چھینٹے اس سے باہر بھی جائیں گے تو اندرونِ مسجد ایسے برتن میں وضو مکروہ ہے۔ شاید یہی صورت زیادہ تر پائی جاتی ہے اسی لئے باب الاعتکاف میں مطلقًا منع کیا ہے اور اگر چھینٹے باہر جانے کا اندیشہ نہ ہو تو مکروہ نہیں۔ یہی خانیہ کی مراد ہے والله تعالٰی اعلم ، یہ ذہن نشین رہے زیرِ بحث مسئلہ (مسجد سے نکلنے کیلئے تیمم جنب) میں سید طحطاوی اور سید ابو السعود ازہری لکھتے ہیں کہ : “ عبارت محیط کا ظاہر بتاتا ہے کہ یہ تیمم واجب ہے اور سراج میں یہ تفصیل ہے کہ اگر تیزی سے نکل جائے تو ترك تیمم جائز ہے اور کسی خوف کی وجہ سے ٹھہرا رہے تو ترك جائز نہیں اور اس پر وہ بھی محمول ہوگا جو محیط میں ہے اھ اھ “ طحطاوی وازہری کی عبارت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آخری جملہ (اسی پر وہ بھی محمول ہوگا جو محیط میں ہے) سراج وہاج کا قول ہے۔ (ت)

اقول : یہ کھُلے طور پر محلِ نظر ہے اس لئے کہ

صریح کلام المحیط فی الخروج دون اللبث ھذا وانا اقول وبالله التوفیق یؤید الفارقین بین الدخول والخروج مسألۃ فی الصوم فقد نصوا ان(۱) من جامع ناسیا اولیلا فطلع الفجر نزع مع الذکر والفجر لاشیئ علیہ وان امنی بعد النزع لانہ کالاحتلام ولومکث قضی[8]  کمافی الدر وعامۃ الاسفار الغر فا لایلاج جماع والمکث جماع والنزع اقلاع لاجماع والا لوجب فساد الصوم۔ الاّ ان یقال ھو مستثنی بدلالۃ الکریمۃ

اُحِلَّ لَكُمْ لَیْلَةَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰى نِسَآىٕكُمْؕ-[9]   واللیل الٰی طلوع الفجر فالحل ممتد الیہ ومن لازمہ وقوع النزع بعد الفجر فلم یعد جماعا وان کان فیہ الکون فی الفرج مالم یستتم خروجا لانہ لاسبیل لہ الی الاقلاع الا ھذا  

عبارت محیط میں ٹھہرنے والی صورت کا ذکر نہیں بلکہ صرف صورتِ خروج کا صریح بیان اس میں ہے یہ ذہن نشین رہے۔ اور اب میں کہتا ہوں (اقول) اور توفیقِ خدا ہی سے ہے۔ جنابت کے ساتھ مسجد میں داخل ہونے اور نکلنے کی صورتوں میں جو حضرات فرق کرتے ہیں ان کی تائید روزہ کے ایك مسئلہ سے ہوتی ہے۔ فقہاء نے تصریح فرمائی ہے کہ جس نے بھُول کر جماع کیا یا رات کو جماع کر رہا تھا کہ فجر طلوع ہوگئی اگر پہلی صورت میں یاد آتے ہی ، اور دوسری صورت میں فجر نمودار ہوتے ہی ہٹ گیا تو اس کے ذمہ کچھ نہیں اگر ہٹنے کے بعد منی خارج ہو اس لئے کہ یہ احتلام کی طرح ہوگا اور اگر فورًا نہ ہٹا بلکہ ذرا دیر ہی ٹھہرا رہا تو روزہ کی قضا کرے جیسا کہ درمختار اور عامہ کتب میں مذکور ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ داخل کرنا جماع ہے اور ٹھہرنا بھی جماع ہے لیکن نکالنا اور ہٹنا جماع کرنا نہیں بلکہ جماع سے باز آنا ہے ورنہ روزہ ضرور فاسد ہوجاتا (اسی طرح جنب کا مسجد میں داخل ہونا اور ٹھہرنا تو ممنوع ہے اور بغیرتیمم جائز نہیں مگر مسجد سے نکلنا یہ ممنوع نہیں بلاتیمم بھی جائز ہے)۔ (ت)مگر یہ کہا جاسکتا ہے کہ جماع سے رُکنے والی مذکورہ صورت آیت کریمہ اُحِلَّ لَكُمْ لَیْلَةَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰى نِسَآىٕكُمْؕ-  (تمہارے لئے روزے کی رات میں اپنی عورتوں سے قربت جائز کی گئی) سے مستثنٰی ہے۔ اس لئے کہ رات طلوعِ فجر تك ہے تو قربت کا جواز طلوعِ فجر تك دراز ہوگا جس کیلئے لازم ہے کہ رکنا اور نکالنا بعد فجر واقع ہو تو اس

بخلاف من فی المسجد فلہ سبیل الی التیمّم تأمل فانہ موضعہ۔

صورت میں جب تك کہ بعد فجر ہٹنا مکمل نہیں ہوتا شرمگاہ سے مشغولیت کا معنٰی متحقق رہتا ہے پھر بھی اسے جماع نہ شمار کیا گیا اس لئے

 



[1]   البحرالرائقباب الاعتکاف ایچ ایم سعید کمپنی کراچی  ۲ / ۳۰۳

[2]   البحرالرائق فصل لما فرغ من بیان الکراھۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۳۴

[3]   البحرالرائق آخر بحث الماء المستعمل  ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۹۶

[4]   الاشباہ والنظائر القول فی احکام المسجد  ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۲۳۰

[5]   غمز عیون البصائر القول فی احکام المسجد  ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۲۳۰

[6]   منحۃ الخالق مع البحر بحث الماء المستعمل ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۹۶

[7]   طحطاوی علی الدر باب الحیض مطبوعہ دار المعرفۃ بیروت ۱ / ۱۴۹

[8]   الدرالمختار مع الشامی باب مایفسد الصوم مصطفی البابی مصر ۲ / ۱۰۸

[9]   القرآن ۲ / ۱۸۷

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن