دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 3 | فتاوی رضویہ جلد ۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۳

اقول :  صریح(۱) نص الخانیۃ والمحیط والاختیار لایباح لہ الخروج فھذا لیس بتوفیق بل تلفیق وقال فی باب الحیض تحت قولہ یمنع حل الدخول مسجد افاد منع الدخول ولوللمرور وقدم(۲) فی الغسل             

پیشِ نظرتیمم کرلینا بہتر اور اولٰی ہے “ اھ۔

بلکہ خانیہ میں موجبات الغسل کے تحت پھر خزانۃ المفتین میں بھی یہ لکھ دیا ہے کہ : “ جسے مسجد میں احتلام ہو اسے فورًا باہر نکل جانا چاہئے۔ اگر رات کا وقت ہو اور نکلنے میں خطرہ ہو توتیمم کرلینا مستحب ہے “ اھ۔ (ت)

ہاں بغیرتیمم کے تیزی سے نکل جانا تو ایك وجہ رکھتا ہے جس کی طرف محیط رضوی میں اشارہ کیا ہے۔ اسی لئے متعدد حضرات اسی قول پر چلے ہیں کہ ٹھہرنے کی صورت میں تیمم واجب ہے اور نکلنے کی صورت میں مستحب ہے۔ اگرچہ خزانۃ المفتین کی گزشتہ عبارت کا ظاہر یہ ہے کہ نکلنے کی صورت میں ترك تیمم مستحب ہے۔ درمختار میں احکامِ جنب کے تحت ہے : “ مسجد میں احتلام ہوا اگر تیزی سے نکلنا ہو توتیمم مستحب ہے اور اگر کسی خوف کی وجہ سے ٹھہرتا ہے تو واجب ہے “ ۔ اھ شامی میں کہا کہ : “ نہر فائق میں یہ افادہ فرمایا ہے تاکہ جن عبارتوں سے مطلقًا وجوب مستفاد ہوتا ہے اور جن سے مطلقًا استحباب مستفاد ہوتا ہے دونوں میں تطبیق ہوجائے (ت)

اقول : خانیہ ، محیط اور اختیار کے صریح الفاظ یہ ہیں کہ اس کے لئے نکلنا مباح نہیں ، تو یہ تطبیق نہ ہُوئی بلکہ تلفیق ہُوئی۔ اور علامہ شامی نے باب الحیض میں “ یمْنَعُ حِلَّ دخولِ مسجد “ (حیض دخولِ مسجد کے جواز سے مانع ہے) کے تحت تحریر فرمایا ہے :

تقییدہ بعدم الضرورۃ بان کان بابہ الی المسجد ولایمکنہ تحویلہ ولا السکنی فی غیرہ

“ ان الفاظ سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ اگر صرف گزرنے کے طور پر مسجد میں دخول ہو تو یہ بھی ممنوع ہے۔  اور غسل کے بیان میں گزرنے کی ممانعت صرف اس حالت سے مقید کی ہے جب مسجد

وذکرنا ھناك ان الظاھر حینئذ انہ یجب التیمّم للمرور اخذا مما فی العنایۃ عن المبسوط[1]  (ای کمایأتی) وکذا لومکث فی المسجد خوفا من الخروج بخلاف مالو احتلم فیہ وامکنہ الخروج مسرعا فانہ یندب لہ التیمم لظھور الفرق بین الدخول والخروج[2]  اھ

وقال السید ط علی مراقی الفلاح لواجنب فیہ تیمّم و خرج من ساعتہ ان لم یقدر علی استعمال الماء وکذا لودخلہ وھو جنب ناسیا ثم ذکر و ان خرج مسرعا من غیر تیمّم ولبث فیہ ولایجوز لبثہ بدونہ الا انہ لایصلی ولایقرؤ کما فی السراج[3] اھ

سے گزرنے کی ضرورت نہ ہو۔ ضرورت کی صورت یہ ہے کہ مثلًا اس کا دروازہ مسجد میں ہے اور نہ دروازہ دوسری طرف پھیر سکتا ہے نہ کسی دوسرے گھر میں رہ سکتا ہے۔ وہاں پر ہم نے عنایہ میں مبسوط کے حوالہ سے ذکر شدہ عبارت (جو آگے آنے والی ہے) سے اخذ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ظاہر یہ ہے کہ ایسی صورت میں مسجد سے گزرنے کے لئے تیمم واجب ہے۔ اسی طرح اگر نکلنے کے خوف سے مسجد ہی میں ٹھہرتا ہے تو بھی تیمم واجب ہوگا بخلاف اس صورت کے جبکہ مسجد میں اسے احتلام ہُوا اور تیزی سے نکل سکتا ہے کہ ایسے شخص کے لئے تیمم مستحب ہے اس لئے کہ داخل ہونے اور نکلنے میں نمایاں فرق ہے “ ۔ اھ (ت)

سید طحطاوی نے حاشیہ مراقی الفلاح میں لکھا ہے : “ اگر اسے مسجد میں جنابت لاحق ہُوئی توتیمم کرے اور فورًا باہر نکل جائے اگر پانی کے استعمال پر قدرت نہ ہو ایسے ہی اگر جنابت کی حالت میں بھُول کر مسجد میں چلا گیا پھر یاد آیا تو یہی حکم ہے۔ اور اگر بغیرتیمم کے تیزی سے نکل جائے تو جائز ہے۔ اور اگر نکلنے  پر قادر نہ ہو توتیمم کرکے مسجد میں ٹھہرے اس کے بغیر ٹھہرنا جائز نہیں مگر اس تیمم سے نہ نماز پڑھ سکتا ہے نہ تلاوت کرسکتا ہے جیسا کہ سراج میں ہے “ ۔ اھ (ت)

اقول : (۱) ومعنی القدرۃ علی استعمال الماء ان یکون ثمہ ماء وموضع اعد للاغتسال اوعندہ اناء یمکن ان یغتسل فیہ بحیث لایقع شیئ من الغسالۃ فی المسجد اوتکون لہ ثیاب صفیقۃ تمسك الماء فیغتسل علیھا ثم یرمی بہ خارج المسجد وھو واقعتی ولله الحمد کنت معتکفا فی مسجدی فی الشتاء واردت الوضوء  وکان المطر شدیدا فتؤضات علی لحافی ولم تصب المسجد قطرۃ ولله الحمد وکان ھذا بحمدالله تعالٰی الھاما من ربی ثم بعد سنین رأیت الارشاد الیہ فی البحر عن تجنیس الامام الاجل صاحب الھدایۃ قال رحمہ الله تعالٰی لو(۲) سبقہ الحدث وقت الخطبۃ یوم الجمعۃ فان وجد الطریق انصرف وتوضأ وان لم یمکنہ الخروج یجلس ولایتخطی رقاب الناس فان وجد ماء فی المسجد وضع ثوبہ بین یدیہ حتی یقع الماء علیہ ویتوضؤ بحیث لاینجس المسجد ویستعمل الماء علی التقدیر ثم بعد خروجہ من المسجد یغسل ثوبہ قال البحر وھذا حسن جدا[4] اھ۔                                                                                                                                                                                                                                         

اقول : پانی کے استعمال پر قدرت ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہاں پانی اور غسل کیلئے بنی ہوئی کوئی جگہ ہو۔ یا اس کے پاس کوئی ایسا برتن ہو جس میں اس طرح غسل کرسکتا ہو کہ مسجد میں اس کا غسالہ ذرا بھی گرنے نہ پائے۔ یا اس کے پاس پانی روك لینے والے دبیز کپڑے ہوں تو ان پر غسل کرے پھر پانی مسجد سے باہر پھینك دے بحمدالله اسی صورت پر ایك بار مجھے عمل کا اتفاق ہوا۔ موسم سرما میں اپنی مسجد میں معتکف تھا اور سخت بارش ہورہی تھی میں نے وضو کرنا چاہا تو اپنے لحاف پر اس طرح وضو کیا کہ مسجد میں ایك قطرہ بھی نہ پڑ سکا۔ وللہ الحمد۔ اس وقت یہ طریقہ بحمد الله خدا کی جانب سے بطور الہام دل میں آیا پھر کئی سال بعد میں نے البحرالرائق میں دیکھا کہ امامِ اجل صاحبِ ہدایہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکی “ تجنیس “ کے حوالہ سے اس کی ہدایت موجود ہے۔ وہ فرماتے ہیں : “ اگر کسی کو جمعہ کے دن خطبہ کے وقت حدث لاحق ہوگیا تو اگر نکلنے کا راستہ ملے نکل جائے اور وضو کرے۔ اور اگر نکلنا ممکن نہ ہو تو اس وقت بیٹھا رہے لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر نہ جائے ، پھر اگر مسجد کے اندر پانی مل جائے تو سامنے اپنا کپڑا اس طرح رکھ لے کہ پانی اسی پر پڑے اور اس طرح وضو کرے کہ مسجد نجس نہ ہو اور پانی ایك خاص اندازے سے علی(التقدیر) استعمال کرے پھر مسجد سے نکلنے کے بعد اپنا وہ کپڑا دھولے “ ۔ صاحبِ بحر نے فرمایا : “ یہ بڑی اچھی صورت ہے “ ۔ اھ (ت)

اقول :   قولہ لاینجس والامر بغسل الثوب بناء علی نجاسۃ الماء المستعمل وقول علی التقدیر ای التقلیل کیلا ینفذ الماء من الثوب فانکان الثوب کثیرا لقطن کواقعتی یسبغ الوضوء کمافعلت ولله الحمد۔

قال فی الدر(۱) ومن منھیاتہ التوضی فی المسجد الافی اناء اوفی موضع اعد لذلك [5]  اھ قال ط فعلہ فیہ مکروہ تحریما لوجوب صیانتہ عمایقذرہ وانکان طاھرا[6]  اھ بل نقل فی البحر من الاعتکاف عن البدائع ان غسل المعتکف راسہ فی المسجد لاباس بہ اذالم یلوثہ بالماء المستعمل فانکان بحیث یتلوث المسجد یمنع منہ لان تنظیف المسجد واجب ولوتوضأ فی المسجد فی اناء فھو علی ھذا التفصیل[7]  اھ

ثم قال اعنی البحر بخلاف(۲) غیر المعتکف فانہ یکرہ لہ التوضوء فی المسجد ولوفی اناء الا ان یکون

اقول : صاحبِ ہدایہ کی عبارت میں مسجد کے نجس ہونے کی بات اور کپڑا دھونے کا حکم مائے مستعمل کی نجاست کی بنیاد پر ہے۔ اور ان کے قول “ علی التقدیر “ (ایك خاص اندازے سے) کا مطلب یہ ہے کہ پانی کم استعمال کرے تاکہ پانی کپڑے سے نفوذ کرکے مسجد میں نہ گرنے پائے۔ ہاں اگر کپڑا زیادہ رُوئی والا ہو جیسا کہ میرا واقعہ تھا تو وضو میں اسباغ کرے جیسے میں نے پورے طور سے وضو کیا۔ وللہ الحمد۔ (ت)

 



[1]   ردالمحتار  باب الحیض مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۱۴

[2]   ردالمحتار  باب الحیض مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۱۴

[3]   طحطاوی علی مراقی الفلاح  باب الحیض والنفاس الخ مطبعۃ ازہریہ مصر ص۸۳

[4]   البحرالرائق فصل کرہ استقبال القبلۃ بالفرج ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۳۴

[5]   الدرالمختار مع الطحطاوی مکروہات الوضوءمطبوعہ بیروت ۱ / ۷۶

[6]   طحطاوی علی الدر  مکروہات الوضوء مطبوعہ بیروت ۱ / ۷۶

[7]   البحرالرائق باب الاعتکاف ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۳۰۳

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن