دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 3 | فتاوی رضویہ جلد ۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۳

(۱۲۴) اقول : دوسری دقیق صورت یہ ہے کہ وضو کرنا یا نہانا ہے اور پانی اصلًا مضر نہیں مگر اور طریقے مسدود ہیں سوا اس کے کہ مینہ میں کھڑا ہو کر وضو یا غسل کرے اور کوئی خلوت کا مکان نہیں کہ کپڑے اتار کر طہارت کرے مثلًا سفر میں سرراہ ہے اور کپڑے باریك ہیں کہ پانی میں بھیگ کر بے ستری ہوگی اور باندھنے کو کوئی دبیز رنگین تَہبند نہیں تو استظہار حلیہ وغنیہ مذکور نمبر ۵۴ پر مطلقًاتیمم کا حکم ہوگا اور اگر وقت اتنا نہیں کہ ان بھیگے کپڑوں کو نچوڑ کر خشك کرکے پہننے تك باقی رہے تو دوسرے قول پر بھی صریح عذر موجود ہے کہ اب خود نماز میں بے ستری ہوگی لہذاتیمم کرے پھر پانی سے طہارت کرکے اعادہ۔

(۱۲۵ تا ۱۳۰) اقول : ان دونوں صورتوں میں حسبِ دستور تین تین صورتیں اور نکلیں گی کہ پانی لے دینے والا اُجرت چاہتا ہے یا برتن یا تہبند کرایہ پر ملتا ہے اور یہ مفلس ہے یا وہ ادھار پر راضی نہیں یا اجرت مثل سے بہت زائد مانگتا ہے۔

(۱۳۱ تا ۱۳۵) پہاڑ سے لگاتار پانی جھر رہا ہے مگر خفیف نہ دھار بندھ کر اور ریت میں جذب ہوتا جاتا ہے اس۱  کے پاس کوئی ایسا کپڑا نہیں نہ مول ملتا ہے جسے گزرگاہِ آب پر پھیلا کر اُسے اعضاء پر نچوڑ کر یا کسی برتن میں جمع کرکے وضو کرے یا۲  خریدنے کو دام نہیں یا۳  دوسری جگہ ہیں اور وہ اُدھار نہیں دیتا یا۴  قیمت سے بہت زیادہ مانگتا ہے یا۵  کپڑا موجود ہے مگر اُسے یوں بھگونے نچوڑنے میں ایك درم یا زیادہ کا نقصان ہے پانچوں صورتوں میں

 تیمم کرے۔

(۱۳۶) انہی عبارات میں گزرا کہ اگر مچھروں کے خوف سے مسہری کے اندر پردے چھوڑے ہوئے ہے اور وقت جاتا ہے تیمم سے پڑھ لے یعنی پھر اعادہ کرے اقول : مچھّر۱  پسّو سے ایسی اذیت جس کے خوف کے باعث ترك وضو وغسل کی اجازت ہو بعید ہے ہاں ڈانس کی ایذا شدید ہے۔

(۱۳۷) اقول :  یونہی اگر پانی کے پاس مہال چھڑی ہوئی ہے اور انتظار میں خوفِ فوت وقت ہے۔

وھو داخل فی معنی مانصوا علیہ من خوف سبع وحیۃ وان لم یدخل فی لفظہ وکذا صاحبہ السابق۔

درندے اور سانپ کا خوف جس کی فقہاء نے تصریح کی ہے یہ اس کے معنٰی کے تحت داخل ہے اگرچہ اس کے لفظ میں داخل نہیں۔ اسی طرح اس سے پہلے والی صورت۔ (ت)

(۱۳۸ تا ۱۴۱) اقول : جو پانی تك نہ جاسکتا ہو مثلًا لُنجھا یا اپاہج یا پاؤں کٹا ہوا یا مفلوج یا مریض یا نقیہ یا نہایت بوڑھا کہ چل نہیں سکتے یا اندھا جسے اٹکل نہیں یا رات کو شبکور یا کمر وغیرہ کے درد کے باعث چلنے سے معذور اس۱  کے پاس اگر نوکر یا غلام یا بیٹا پوتا کوئی ایسا نہیں جس پر اس کی خدمت لازم ہو نہ ایسا کہ اس کے کہنے سے لادے نہ اُجرت پر لانے والا یا۲  اجیر ہے مگر یہ اُجرت پر قادر نہیں یا۳  قادر ہے مگر مال دوسری جگہ اور وہ اُدھار پر راضی نہیں یا۴  اُجرت مثل سے بہت زیادہ مانگتا ہے تیمم کرے اور اعادہ نہیں علماء ۱ نے ان معذوروں کا ذکر جمعہ وجماعت میں فرمایا ہے۔

وقیدت الاعمی بمن لایھتدی تبعالما حقق العلامۃ الشامی رحمہ الله تعالٰی۔  

اقول :   وردت النقیہ وھو غیر المریض والاعشی ومن بہ وجہ خاصرۃ اوغیرھا لایستطیع معہ المشی بل ھو داخل فی عدھم المقعد علی احد تفسیریہ انہ الذی لاحراك بہ من داء فی جسدہ کان الداء اقعدہ وقیل المقعد المتشنج الاعضاء[1]  ش عن المغرب۔                                           

اندھے کیلئے میں نے یہ قید لگائی “ جسے اٹکل نہیں “ یعنی خود راہ نہیں طے کر پاتا۔ یہ قید علامہ شامی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکی تحقیق کے اتباع میں ہے۔ (ت)

اقول :  میں نے ان سب کا اضافہ کیا : نقیہ۱  (نقاہت ، انتہائی کمزوری والا) یہ مریض سے الگ ہے۔ شبکور۲  (رتوندی) یا ۳  کمر وغیرہ کے درد کے باعث چلنے سے معذور بلکہ مُقعَد (اپاہج) کی ایك تفسیر کے پیشِ نظر علماء کے شمارِ مقعد میں یہ بھی داخل ہے وہ تفسیر یہ ہے کہ مُقعَد وہ ہے جس میں جسم کی کسی بیماری کی وجہ سے حرکت نہ ہو گویا بیماری نے اسے بٹھا دیا ہے۔ اور کہا گیا کہ اپاہج وہ ہے جس کے اعضاء میں تشنّج (کھچاؤ) پایا جاتا ہو۔ شامی بحوالہ مغرب (ت)

اور اگر پانی تك جا تو ہوسکتا ہے مگر ضعف یا مرض یا ہاتھوں میں درد وغیرہ کے باعث بھر نہیں سکتا تو یہ نمبر ۷۱ ہے۔

(۱۴۲) جنب کو جنب ہونا یاد نہ رہا مسجد میں چلا گیا اب یاد آیا یا معتکف مسجد میں سوتا تھا کہ اُسے جائز ہے یا غیر معتکف(۲) اگرچہ اُسے منع ہے اور نہانے کی حاجت ہُوئی یہ لوگ نہ مسجد میں چل سکتے ہیں نہ ٹھہر سکتے ہیں نہ مسجد میں غسل ہوسکتا ہے ناچار یہ صورت عجز ہُوئی فورًاتیمم کریں اگرچہ مسجد کی زمین یا دیوار سے اور معًا باہر چلے جائیں اگر جاسکتے ہوں اور اگر باہر جانے میں بدن یا مال پر صحیح اندیشہ ہے توتیمم کے ساتھ بیٹھے رہیں بیٹھنے کی صورت میں تیمم ضرور واجب ہے وخلافہ غیر بین ولامبین (اس کے برخلاف جو کہا گیا وہ نہ خود واضح ہے نہ اس پر کوئی بیان ودلیل۔ ت) اور نکلنے کی صورت میں بہت اکابر اس تیمم کو صرف مستحب جانتے ہیں اور فورًا بلاتیمم نکل جانا بھی جائز جانتے ہیں اور احوط تیمم ہے۔

اقول : $&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن