30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مفادہ ان الخمر والبول لیس بذی جرم مع انہ قدیری اثرہ بعد الجفاف فالمراد بذی الجرم ماتکون ذاتہ مشاھدۃ بحس
اس سےمعلوم ہوتا ہے کہ پیشاب اور شراب جرم دار نہیں حالانکہ ان کا اثر کبھی خشك ہو نے کے بعد بھی نظر آتا ہے تو جرم دار سےمراد وہ ہے جس کی
عــہ اما کونہ اخصر فظاھر واما کونہ اظھر واحسن وازھر فلان رؤیۃ الشیئ تعم رؤیتہ بلالونہ بل لارؤیۃ ھھنا الا ھکذا فیوھم تناول ملون لایبقی لہ بعد الجفاف جرم شاخص فوق المصاب بخلاف مااذا اسقط لانہ یصیر صفۃ لجرم فیصیر نصافی المقصود ۱۲ منہ غفرلہ (م)
اس کا مختصر ہونا تو ظاہر ہے اور اس کا اظہر واحسن ہونا یہ بھی ظاہر ہے کیونکہ کسی چیز کا دیکھنا اس کے رنگ کے دیکھنے کو بھی شامل ہے ، بلالکہ اس کی رؤیت یہاں اسی طرح ہے ، تو اس سےوہم ہوتا ہے کہ یہ اُس رنگین کو شامل ہے جو خشك ہو نے کی بعد باقی نہیں رہتا ہے یعنی اس کا ابھرا ہوا جرم نہیں رہتا ہے بخلاف اس کے کہ اگر اس کو ساقط کردیا جائے کیونکہ یہ جرم کی صفت ہوجائے گا تو یہ مقصود میں نص ہوگا ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
البصر وبغیرہ مالایکون کذلك کما سنذکرہ مع مافیہ من البحث[1]۔
ذات کا آنکھ سےمشاہدہ ہو سکے اور غیر جرم دار وہ ہے جو ایسےنہ ہو جیسا کہ ہم اس کو مع بحث کے ذکر کریں گے۔ (ت)
درمختار کی عبارت مذکورہ نمبر ۱۶ پر شامی میں ہے :
المراد بذی الجرم ماتشاھد بالبصر ذاتہ لااثرہ عــہ کمامرو یأتی [2]۔ ذی جرم سےمراد وہ ہے جس کی ذات آنکھ سےنظر آئے ، نہ کہ اس کا اثر ، جیسا کہ گزرا۔ (ت)
اسی طرح حلیہ میں ہے کما سیأتی۔
تحقیق شریف٭ فتح بہ اللطیف٭ علی عبدہ الضعیف٭ بفضلہ المنیف٭ اعلم ان ھذا المقام٭ زلت فیہ اقدام اقلام٭
فالاول : قال الامام اکمل الدین البابرتی رحمہ الله تعالٰی فی العنایۃ عند قول الھدایۃ فی مسألۃ تطھیر النجاسۃ بازالۃ العین والغسل الٰی غلبۃ الظن بالطھارۃ النجاسۃ ضربان مرئیۃ وغیر مرئیۃ الخ مانصہ الحصر ضروری لدورانہ
یہ تحقیق ہے جو الله تعالٰی نے اپنے فضل سےاپنے کمزور بندے پر ظاہر فرمائی جان لے کہ یہ وہ مقام ہے جہاں قلموں کے قدم پھسل جاتے ہیں۔ (ت)
اول ، امام اکمل الدین بابرتی نے عنایہ میں فرمایا ، ہدایہ میں جہاں یہ ذکر ہے کہ نجاست کی تطہیر کیلئے نجاست کا دور کرنا اور دھونا ضروری ہے ، کہ طہارت کا غلبہ ظن ہوجائے ، یہاں بابرتی نے کہا کہ نجاست کی دو قسمیں ہیں مرئیہ اور غیر مرئیہ الخ ان کی نص یہ ہے کہ حصر ضروری ہے اس لئے کہ یہ نفی اور
عــہ اقول ای مایشاھد اثرہ یعم مالایشاھد منہ الا الاثر فھو عطف علی ماتشاھد بحذف متعلقہ لاعلی ذاتہ کما یتوھم فیکون عدم رؤیۃ الاثر شرطا فی ذی الجرم ولیس کذلك ۱۲ منہ غفرلہ (م)
اقول : یعنی جس طرح اس کا اثر دیکھا جاتا ہے تاکہ اس کو بھی عام ہو جس کا مشاہدہ نہیں کیاجاتاہے صرف اس کے اثر کامشاہدہ ہوتا ہے تو اس کا عطف ماتشاھد پر ہے اس کا متعلق محذوف ہے “ ذاتہ “ پر عطف نہیں جیسا کہ وہم کیا گیا ہے ، تو اثر کا نہ دیکھا جانا جرم دار میں شرط ہوگا حالانکہ ایسا نہیں ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
بین النفی والاثبات وذلك لان النجاسۃ بعد الجفاف اما ان تکون مستجسدۃ کالغائط والدم اوغیرھاکالبول وغیرہ [3] اھ وتبعہ چلپی علی صدر الشریعۃ۔
الثانی : فی تلك المسألۃ نقل القھستانی عبارۃ الصغری المارۃ ان غیر ذات جرم غیر مرئیۃ وانکان لھالون[4] ۔
الثالث : فیھا نقل البرجندی عبارۃ شرح الطحاوی مثلہ ثم قال وھذا یخالف مافی بعض الشروح من ان غیر المرئی مالایری اثرہ بعد الجفاف والمرئی فی مقابلہ[5] اھ
الرابع : فیھا نقل فی البحر عبارۃ الذخیرۃ وجعلھا معنی ماقال ھھنا فی غایۃ البیان ان المراد بالمرئی مایکون مرئیا بعد الجفاف ومالیس بمرئی ھو مالایکون مرئیا بعد الجفاف کالبول[6] اھ وتبعہ ط۔
الخامس : فیھا نقل عبدالحلیم الرومی اثبات کے درمیان دائر ہے اور یہ اس لئے کہ نجاست خشکی کے بعد یا تو جرم دار ہوگی جیسےپاخانہ اور خون وغیرہ ، یا غیر جرم دار ہوگی جیسےپیشاب وغیرہ اھ ا س کی پیروی چلپی علی صدر الشریعۃ نے کی۔ (ت)
دوسرے اس مسئلہ میں قہستانی نے صغری کی عبارت نقل کی جو گزری کہ وہ نجاست کہ جس کا جرم نہ ہو مرئی نہ ہوگی اور اگرچہ اس کا رنگ ہو
تیسرے برجندی نے اس میں شرح طحاوی سےایسے ہی عبارت نقل کی پھر فرمایا یہ دوسری شروح سےمختلف ہے جن میں ہے کہ غیر مرئی وہ ہے جس کا اثر خشکی کے بعد نہ دیکھا جائے ، اور مرئی اس کے مقابل ہے اھ ۔
چوتھے ، بحر نے اس مسئلہ میں ذخیرہ کی عبارت نقل کی اور اس کو اس کے ہم معنی قرار دیا جو یہاں غایۃ البیان میں کہا کہ مرئی سےمراد وہ ہے جو خشکی کے بعد نظر آئے اور جو غیر مرئی ہے اس سےمراد وہ ہے جو خشك ہو نے کے بعد نظر نہ آئے جیسا کہ پیشاب اھ اور ط نے اس کی متابعت کی ہے۔
پانچواں ، اس میں عبدالحلیم رومی کی نقل
عن شرح الطحاوی والمنبع والذخیرۃ مامرثم نقل کلام البرجندی انہ یخالف بعض الشروح ثم کلام البحر وجعلہ ایاہ بمعنی الاول ثم قال ردا علیہ انت خبیر بان بینھما مخالفۃ اذرب شیئ لیس لہ جرم ولہ اثر کاللون یبقی اثرہ بعد الجفاف فعلی الاول غیر مرئی وعلی الثانی مرئی والمنصور ھو الاول کمالایخفی [7] اھ
السادس : فیھا نقل فی الحلیۃ کلام الذخیرۃ والتتمۃ والیہ رد عبارۃ غایۃ البیان المذکورۃ فقال مراد بہ ماتکون ذاتہ مشاھدۃ بالبصر بعد الجفاف ومالا فلیس بینھا وبین مافی عامۃ الکتب مخالفۃ فی تفسیرھماوممایرشد الی ماذکرنا التمثیل المذکور فان بعض الابوال قدیری لہ لون بعد الجفاف اھ [8]۔
السابع : فیھا قال فی الشامی قولہ بعد جفاف ظرف لمرئیۃ وقید بہ لان جمیع النجاسات تری قبلہ وتقدم ان مالہ جرم ھو مایری بعد الجفاف فھو مساو للمرئیۃ و
[1] ردالمحتار باب الانجاس مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۲۷
[2] ردالمحتار باب الانجاس مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۳۳
[3] العنایۃ مع الفتح باب الانجاس نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۱۸۲
[4] جامع الرموز فصل یطہر الشیئ اسلامیہ گنبد ایران ۱ / ۹۶
[5] نقایۃ للبرجندی فصل تطہیر الانجاس نولکشور لکھنؤ ۱ / ۶۴
[6] بحرالرائق باب الانجاس ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۳۶
[7] حاشیۃ الدرر للمولی عبدالحلیم باب تطہیر الانجاس مکتبہ عثمانیہ مصر ۱ / ۴۰
[8] حلیہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع