30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اما الاولی فاقول : الظاھر(۱) فیھا عندی البناء علی التیسر فمن(۲) عندہ فانوس متقد ویقدر علی الخروج بہ الی المسجد اوکان متقدا والاٰن اطفأہ وفیہ دھن وعندہ کبریت فأی مشقۃ تلحقہ فی ایقادہ والخروج بہ نعم من(۳) لیس عندہ اولہ واحد وفی البیت العیال٭ان خرج بہ تعسرت علیھم الاعمال٭اوھالت ظلمۃ اللیل الاطفال٭ اومرأۃً وحدھا مالھا مونس فی الحال٭فھذا لایؤمربان یحصل الاٰن فانوسا بشراء اوسؤال٭وقد قال صلی الله تعالٰی علیہ وسلم بشرا(۴) المشائین فی الظلم الی المساجد بالنور التام یوم [1] القیمۃ اخرجہ ابوداؤد والترمذی بسند صحیح عن بریدۃ وابن ماجۃ
کیلئے گرم پانی یا صابون یا ایسی ہی کوئی اور چیز استعمال کرنے کا مکلّف نہیں “ ۔ اھ درمختار “ گرم پانی یعنی جو (اس مقصد سے) گرم کیا گیا ہو صابون جیسی کوئی اور چیز جیسے حرض اور اشنان (صابن کی طرح صفائی لانے کیلئے استعمال ہونے والی گھاسیں ہیں) اھ۔ شامی۔ (ت)
یہاں دو۲ مسئلے ہیں : ایك مسئلہ جماعت ، دُوسرا مسئلہ تیمم جو زیر بحث ہے (دونوں کی قدرے توضیح وتفصیل کی جائے تو مسئلہ کا حکم واضح ہوسکتا ہے)(۱) مسئلہ جماعت۔ اقول اس میں میرے نزدیك ظاہر یہ ہے کہ آسانی سے میسر آنے پر حکم کی بنارکھی جائے جس کے پاس جلتا ہُوا چراغ یا لالٹین موجود ہے اور اسے لے کر مسجد جاسکتا ہے یا چراغ پہلے جل رہا تھا ، اس وقت بُجھا دیا ہے مگر اس میں تیل موجود ہے اور اس کے پاس دیا سلائی بھی ہے تو اسے جلانے اور لے کر مسجد جانے میں کون سی مشقّت ہے؟ ہاں جس کے پاس چراغ نہیں یا ہے مگر ایك ہی ہے اور گھر میں بال بچّے ہیں کہ اگر لے کر چلا گیا تو ان کے کاموں میں دشواری ہوتی ہے یا رات کی تاریکی سے بچّے خوف ودہشت میں مبتلا ہوتے ہیں ، یا اکیلی عورت ہے جو فی الحال کوئی مونس نہ ہونے کی وجہ سے تاریکی میں خوف زدہ ہوتی ہے تو ایسے شخص کو اس حالت میں کوئی چراغ خرید کر مانگ کر حاصل کرنے کا حکم نہ دیا جائے گا۔ (ت)
جب کہ رسول اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا یہ فرمان بھی ہے کہ “ تاریکیوں میں مسجدوں تك کثرت سے پیادہ جانے والوں کو روزِ قیامت بھرپور روشنی ملنے کی بشارت دے دو “ یہ حدیث ابوداؤد نے روایت کی۔ اور ترمذی
والحاکم عن انس وسھل بن سعد رضی الله تعالی عنھم۔
واتی(۱) النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم رجل اعمی فقال یارسول الله لیس لی قائد یقودنی الی المسجد فسأل رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ان یرخص لہ فیصلی فی بیتہ فرخص لہ فلما ولی دعاہ فقال ھل تسمع النداء بالصلاۃ قال نعم قال فاجب[2] رواہ مسلم عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالٰی عنہ۔
اقول : حکم اولًا بالرخصۃ وھی الحکم العام ثم ارشدہ الی العزیمۃ ولابی داؤد والنسائی عن عبدالله بن ام مکتوم رضی الله تعالٰی عنھما انہ قال یارسول الله ان المدینۃ کثیرۃ الھوام والسباع فھل تجدلی من رخصۃ قال ھل تسمع حی علی الصلاۃ حی علی الفلاح قال نعم قال فحیھلا [3] ۔ اقول : لم یجبہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم بالنفی بل بدأبسؤال لیرشدہ الی العزیمۃ فاذا(۲) کانت نفس الشارع
نے بسند صحیح حضرت بریدہ سے اور ابن ماجہ وحاکم نے حضرت انس اور حضرت سہل بن سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمسے روایت کی۔ “ اور نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے پاس ایك نابینا شخص حاضر ہوئے ، عرض کیا : یا رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم! مجھے کوئی مسجد لے جانیوالا نہیں۔ پھر رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے درخواست کی کہ انہیں گھر میں نماز ادا کرلینے کی رخصت مرحمت فرمادیں۔ حضور نے انہیں رخصت دے دی۔ جب وہ واپس چلے تو انہیں بلاکر فرمایا : کیا تم اذان کی آواز سنتے ہو؟ عرض کیا : ہاں : فرمایا : “ تو حاضری دو “ ۔ یہ حدیث امام مسلم نے حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کی۔ (ت)
اقول : حضور نے پہلے انہیں رخصت کا حکم دیا جو حکم عام ہے۔ پھر انہیں عزیمت کی جانب ہدایت فرمائی۔ حضرت عبدالله بن ام مکتوم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے ابو داؤد اور نسائی کی روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا : یارسول اللہ! مدینہ میں زہریلے جانور اور درندے بہت ہیں تو کیا میرے لئے کوئی رخصت ہے؟ فرمایا : تم حی علی الصلاۃ ، حی علی الفلاح (آؤ نماز کی طرف ، آؤ فلاح کی طرف) سنتے ہو؟ عرض کی : ہاں۔ فرمایا : تب حاضری دو۔ (ت)
اقول : حضور نے رخصت کے سوال پر نفی میں جواب دیا ، بلکہ ازسرِنو ایك سوال کردیا تاکہ عزیمت کی جانب انہیں ارشاد و رہنمائی فرماسکیں۔ جب
صلی الله تعالٰی علیہ وسلم متشوقۃ الی حضور الجماعۃ الی ھذہ الغایۃ فکیف یقال تسقط عنہ الجماعۃ بظلمۃ اللیل وان کان ایقادہ نحوفانوس وخروجہ بہ متیسرا بلاکلفۃ اصلا ومسألۃ النجاسۃ انما امرنا فیھا بالتطھیر بالماء وقدحصل ومایشق زوالہ عفو والعفو لایتکلف فی ازالتہ۔
واما الثانیۃ فاقول : یبنی الامر فیھا علی الامکان لما علمنا ان قلیل المشقۃ لایکون عذرا فیہ مالم تشتد و تبلغ حد الحرج والضرر ولذا لم یبیحوا للمحدث التیمم لاجل البرد [4] کما فی الخانیۃ والخلاصۃ والمصفی والفتح والنھر وغیرھا(۱) وقد اوجبوا فیہ علی الجنب دخول الحمام باجرۃ اوتسخین الماء ان قدر فی الھندیۃ یجوز التیمم اذا خاف الجنب اذااغتسل ان یقتلہ البرد اویمرضہ والخلاف فیما اذا لم یجد ما یدخل بہ الحمام فان وجدلم یجز اجماعا وفیما اذا لم یقدر علی تسخین الماء فان قدرلم یجز ھکذا فی السراج الوھاج[5] اھ فاتضح ماذکرتہ فی تصویر المسألۃ۔
حضرت شارع صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے قلب پاك جماعت میں لوگوں کی حاضری کا اس حد تك مشتاق ہے تو یہ حکم کیسے دیا جاسکتا ہے کہ رات کی تاریکی میں جماعت ساقط ہے اگرچہ چراغ وغیرہ جلانا اور لے کر جانا بآسانی اور بغیر کسی زحمت کے میسر ہو۔ اور مسئلہ نجاست میں ہمیں صرف یہ حکم تھا کہ پانی سے پاك کردیں یہ کام ہوگیا اور جس اثر کا دُور ہونا دشوار ہو وہ معاف ہے اور جو معاف ہے اسے دُور کرنے کا مکلف نہیں۔ (ت)
(۲) مسئلہ تیممّ۔ اقول : اس میں بنائے حکم امکان پر ہے اس لئے کہ معلوم ہے اِس میں معمولی مشقّت عذر نہیں جب تك شدید اور حرج وضرر کی حد تك نہ پہنچ جائے۔ اسی لئے حدث والے کیلئے ٹھنڈك کی وجہ سے تیمم مباح نہ ہوا جیسا کہ خانیہ ، خلاصہ ، مصفّی ، فتح القدیر ، النہرالفائق وغیرہا میں ہے۔ اور جنابت والے پر اجرت دے کر حمام میں نہانا یا اگر قدرت ہو تو پانی گرم کرنا واجب ہوا۔ ہندیہ میں ہے : “ جنابت والے کو جب یہ خوف ہو کہ غسل کرے گا تو ٹھنڈك سے ہلاك ہوجائیگا یا بیمار پڑ جائے گا توتیمم جائز ہے۔ اور حمام میں جاکر نہلانے کی اجرت اس کے پاس نہ ہو تو اس صورت میں اختلاف ہے اور اگر اجرت اس کے پاس ہو تو بالاجماع اس کے لئے تیمم جائز نہیں۔ اس صورت میں بھی اختلاف ہے جب پانی گرم کرنے پر قادر نہ ہو۔ اگر قدرت ہو توتیمم جائز نہیں۔ ایسا ہی سراج وہاج میں ہے اھ۔ ابتداءً صورتِ مسئلہ بیان کرتے ہوئے ہم نے جو ذکر کیا ہے اس کی صحت مذکورہ بالا تفصیلات سے روشن ہوجاتی ہے۔ (ت)
(۹۴ تا ۹۶) اقول : بدستور اگر روشنی کا سامان بقیمت ملتا ہے اور اس کے پاس حاجت سے زائد قدر وقیمت موجود ہے یا بیچنے والا اُدھار پر راضی اور قیمت مثل پر زیادت فاحشہ نہیں خریدنا واجب ورنہ تیمم کرے۔
(۹۷) اقول : مسئلہ نمبر ۹۲ سے دو۲ فائدے اور حاصل ہُوئے ایك یہ کہ اگر مسافر جنگل میں اُترا اور اندھیری رات ہے اور کُنویں تك جانے میں خوف ہے تیمم کرے کہ جب گھر میں تیمم کی اجازت دی تو جنگل میں بدرجہ اولٰی۔
(۹۸ تا ۱۰۲) اقول دوم : یہ کہ نمبر ۸ تا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع